اولاد کی تربیت کیسے کریں ؟….. رشحاتِ قلم مولانارعایت اللہ فاروقی صاحب

Oct
15

اولاد کی تربیت کیسے کریں … انکے ساتھ کیسا رویہ رکھا جائے …ِ؟ معروف کالم نگار مولانا رعایت اللہ فاروقی صاحب کے قلم سے… مولانا کے چار کالم یکجا ہیں پڑھیں اور مولانا رعایت اللہ فاروقی صاحب کو دعائیں دیں

تربیت اولاد
ـــــــــــ
بچوں پر کل محنت اٹھارہ سال کی ہے، وہ آپکی زبان سے زیادہ آپ کے اعمال سے اثر قبول کرتے ہیں، آپ انہیں کسی کام سے کتنا ہی کیوں نہ منع کر لیں اگر آپ خود اپنی اس نصیحت پر عمل کرنے والے نہیں تو آپ کا بچہ کبھی بھی اس سے باز نہیں آئیگا، اپنی والاد کے لئے آپ کو خود سولی چڑھنا پڑتا ہے، عام طور پر ماں شفیق ہوتی ہے، لیکن کچھ سخت گیر مائیں بھی ہوتی ہیں، اگر آپکی اہلیہ ایسی ہیں تو پھر آپ کو ہر حال میں نرم رہنا پڑیگا ورنہ اولاد باغی ہو جاتی ہے، گھر سے بھاگنے والے بچے ایسے ہی والدین کے ہوتے ہیں، اگر دونوں گرم مزاج ہوں تو اولاد باغی ہوجاتی ہے اور دونوں نرم مزاج ہوں تو اولاد سر چڑھ جاتی ہے، توازن ہر حال میں لازم ہے، بچے کے اوقات مقرر کردیں اور اس ٹائم ٹیبل سے اسے کسی صورت نہ ہلنے دیں، مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

خانوادہٴ صدیقی کے چشم وچراغ اور مشہور محدث و فقیہ قاسم بن محمدرحمة اللہ- حیات وآثار

Sep
25

نام ونسب

          آپ مشہور محدث و فقیہ قاسم بن محمدبن أبی بکر الصدیق عبد اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ قریشی تیمی مدنی  ہیں ۔( الطبقات الکبریٰ : ۵/ ۱۸۷، تہذیب الکمال : ۲۳/ ۴۳۰)

          ابو محمد ان کی کنیت ہے ،ابو عبد الرحمن بھی کہا جاتا ہے ۔( تاریخ الاسلام :۳/ ۳۲۸)

ولادت باسعادت 

          علامہ ذہبی  نے ”سیر اعلام النبلاء “ میں قاسم بن محمد کی ولادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونا نقل کی ہے ؛ جب کہ ” تاریخ الاسلام “میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں پیدا ہونا لکھا ہے۔( سیر اعلام النبلاء : ۵/ ۵۴ ،تاریخ الاسلام : ۳/ ۳۲۸) دونوں میں تطبیق یوں ہے کہ ان کی پیدائش اختتام خلافت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابتدائے خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ میں ہوئی ہوگی ۔

          امام بخاری  نے فرمایا کہ ان کے والد محمد بن أبی بکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد تقریباً ۳۶ ہجری میں شہیدکیے گئے تو قاسم یتیم ہوئے اورحضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں آئے۔ ( تہذیب الکمال ۲۳/ ۴۳۰،تہذیب التہذیب : ۸/ ۳۳۴)

دادا جا ن سے مشابہت

          حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایامیں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ان جیسا سوائے قاسم کے کسی اور کو نہیں پایا ۔( سیرأعلام النبلاء:۵/۵۵،تہذیب اکمال:۲۳/۴۳۰) مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

دارالعلوم دیوبند اور ردِّشیعیت

Feb
16

ہندوستان میں اکثر مسلم سلطنتیں اور مغلیہ حکومت کے سربراہان اہل السنة والجماعةتھے؛ البتہ ملک میں کہیں کہیں شیعہ حکومتیں یا ریاستیں بھی قائم ہوئیں جن میں جون پور کی شرقی سلطنت(۱۳۹۴ء تا ۱۴۷۹ء ) اور فیض آ باد و لکھنوٴ کی اودھ حکومتیں (۱۷۲۲ء تا ۱۸۵۸ء) زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔ ایران کے شیعی صفوی حکومت نے ہمایوں بادشاہ کو پناہ دی اور اسے ہندوستان کی حکومت دوبارہ دلانے اور سوری بادشاہ کو شکست دینے میں بھرپور تعاون دیا۔ اس کے بعد سے شاہانِ مغلیہ کے ایران کے ساتھ اچھے مراسم رہے اور اس کی وجہ سے شیعی عناصر کا حکومت میں عمل دخل رہا۔ خصوصاً اورنگ زیب عالم گیر کے انتقال کے بعد جب مغلیہ حکومت کمزور پڑنے لگی تو ان شیعی عناصر نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی اور بادشاہ ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے رہے۔لال قلعہ میں تعزیہ داری اور شہزادوں کا اس میں پوری دل چسپی سے حصہ لینا یہ سب کچھ شیعی اقتدار کا ثمرہ تھا۔ شیعی عناصر معتدد بادشاہوں کا تختہ پلٹنے حتی کہ ان کی ایذاء و قتل کی سازشوں میں بھی شریک رہے۔ شیعوں کے دورِ عروج میں ان کے خلاف زبان کھولنا کچھ آسان نہیں تھا۔ عام مسلمانوں کا عالم یہ تھا کہ بڑے بڑے سنی جاگیر دار ان شیعہ عناصر کی دار و گیر کے خوف سے اہلِ تشیع ہونے کا اعلان و اظہار کر دیا تھا۔

          اس ماحول میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی  نے اس فتنہ کا ادراک کر لیا تھا اور ”اِزالةُ الخفاء فی خلافةِ الخُلَفاء“ اور ”قرةُ العینین فی تفضیل الشیخین“ کے ذریعہ اہل السنة والجماعة کے موقف کو دلائل و براہین کے ساتھ پیش فرمایا اور دشمنانِ صحابہ پر ضرب کاری لگائی۔ حضرت شاہ صاحب کے بعد آپ کے فرزند و جانشین حضرت شاہ عبد العزیز  نے ”تحفہٴ اثنا عشریہ“ لکھ کر روافض کے سامنے ایک ایسا چیلنج کھڑا کردیا جس کا علمی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ ان کوششوں کی وجہ سے ان حضرات کو شیعوں کے مظالم کا نشانہ بننا پڑا۔ مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

نبی فکری اوراجتہادی بصیرت کے چند جلوے

Dec
14

نبی فکری اوراجتہادی بصیرت کے چند جلوے

 

اسلام کا دائمی معجزہ اورہمیشگی کی حجة اللہ البالغہ ”قرآن“ کے بعد اگر کوئی چیز ہے تو وہ صاحب قرآن کی ”سیرت“ ہے۔ دراصل ”قرآن“ اور ”حیات نبوی صلى الله عليه وسلم “ معاً ایک ہی ہیں، قرآن متن ہے تو سیرت اس کی شرح۔ قرآن علم ہے تو سیرت اس کا عمل، قرآن مابین الدفتین ہے تو یہ ایک مجسم و ممثل قرآن تھا جو مدینہ کی سرزمین پر چلتا پھرتا نظر آتا تھا، کان خلقہ القرآن.

سیرت نبوی کا اعجاز ہے کہ اس کے اندر ہزاروں روشن پہلو ہیں۔ دنیا کو جس پہلو یا گوشے سے روشنی اور گرمی مطلوب ہو، اس کو سیرت نبوی صلى الله عليه وسلم کے بے مثال خزانہ میں وہ اسوہ اور نمونہ مل جاتا ہے جس سے اپنے ہمہ نوعیتی مسائل و مشکلات کا کامیاب ترین حل نکال لے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی کا کوئی گوشہ تاریکی میں نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ کے تمام ہی پہلو سورج سے زیادہ ظاہر وعیاں ہوکر دنیا کے سامنے موجود ہیں، آپ جس پیغام الٰہی کو لے کر دنیا میں تشریف لائے، وہ ساری انسانیت کیلئے ایک ہمہ گیر، مستحکم ومضبوط اور ”عائمی نظام حیات“ ہے اور اس نے اپنی اس امتیازی شان، ہمہ گیری اور دوامی حیثیت کی بقاء کی خاطر اپنے اندر ایسی لچک اور گنجائش رکھی ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ انسانی ضروریات کا ساتھ دے سکے اور کسی منزل پر اپنے پیروں کی رہبری سے عاجز وقاصر نہ رہے۔

لوگوں کو جس قسم کے مسائل و حالات پیش آسکتے ہیں، ان کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں: مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

ایک کم یاب اور نادر تحریر !

Oct
24

شیخ الہند، حضرت مولانا محمود حسنکے مختصر اور نادر حالات
شیخ الاسلام، حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی کے قلم سے

فطرت انسانی نے جو جو عجائب وغرائب اس عالم شہادت میں ظاہر کئے ہیں ان میں سے یہ امر بھی ہے کہ انسان کو اپنے محبوب کے بڑے سے بڑے عیوب بھی نظر نہیں آتے، آنکھیں فقط اس کے محاسن اور کمالات کو دیکھتی ہیں اور نہ صرف معمولی نظر سے یکھتی ہیں،بلکہ غیر معمولی طریقہ پر چھوٹی سی چھوٹی فضیلت محب اور دلدادہ کی نظر میں پہاڑ کی طرح دکھائی دیتی ہے، اس کے لئے مدائح اور محامد کے طور پر اور مبالغہ سے بھرے ہوئے قصائد وخطب بھی بہت کم معلوم ہوتے ہیں، دُھواں دھار تقاریربھی اس میدان میں رائی کے دانہ سے چھوٹی دکھائی دیتی ہیں۔برعکس اس کے دشمن اور مبغوض کے جملہ کمالات خواہ وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، آنکھوں کے سامنے بھی نہیں پڑتے، اس کے فقط عیوب دکھائی دیتے ہیں، اور یہ بھی نہیں کہ فقط واقعی عیوب دکھائی دیں، بلکہ جس طرح سبز عینک سے تمام اشیا سبز ہی سبز نظر آتی ہیں، اسی طرح بغض وعداوت کی آنکھ حقیقی کمالات اور واقعی فضائل کو بھی معائب ہی کے رنگ میں دیکھتی ہے، کسی واضح سے واضح کمال کا اقرار کرنا عدو اور حاسد کو پہاڑ اٹھالینے سے زیادہ ترگراں معلوم ہوتا ہے، اس کے محامد اور مدائح کے سننے اور دیکھنے سے نہایت ہی زیادہ کلفت اور دل تنگی پیش آتی ہے۔ ولنعم ما مثل: مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ

Aug
22

وہ پاکیزہ رو، خوش شکل، لاغر اندام اور سبک رفتار شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں دیکھ کر آنکھوں کوراحت ملتی اور ان سےمل کر روح کو سکون اور دل کو قرار میسر آتا تھا۔ علاوہ ازیں وہ بے حد خوش اخلاق منکسر المزاج اور شرم وحیاکےپیکرتھے۔ لیکن جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا یاکوئی کٹھن گھڑی سامنے آتی تو وہ ایک بپھرے ہوئے شیر کی مانندنظرآتے۔ وہ رونق و صفائی اور تیزی اور کاٹ میں تلوار کی دھار کے مشابہ تھے۔ یہ امت محمّدیہ ﷺ کے امین حضرت ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ ان کی تعریف کرتے ہوئےکہتے ہیں: مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

عید کے دن کے اعمال

Aug
08

عید کے دن کے اعمال
* عید کے دن صبح سویرے اٹھنا۔”ویستحب التبکیر وہو سرعة الانتباہ“․(العالمگیریة:1/149،رشیدیة)
* نمازِ فجر اپنے محلے کی مسجد میں پڑھنا۔”ومن المندوبات صلاة الصبح في مسجد حیہ“․(ردالمحتار:۳/۵۶،دارالمعرفة)
* جسم کے زائد بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا۔”ویتطیب بإزالة الشعر وقلم الأظفار“․(حلبي کبیر،ص:566،سھیل اکیڈمي)
* غسل کرنا۔
مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

اسباب زوال امت

Aug
05

تبصرہ کریں

کاتبینِ پیغمبرِ اعظم ﷺ— ایک تعارف 2

Aug
05

۲۱ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ:

آپ مشہور صحابی ہیں، آپ کا سلسلہٴ نسب یہ ہے: خزیمہ بن ثابت بن الفاکہ بن ثعلبہ بن ساعدہ بن عامر بن عیان بن عامر بن خطمہ بن جشم بن مالک بن اوس انصاری اویسی۔

آپ سابقین اولین مسلمانوں میں سے ہیں، تاریخ و سیر کی کتابوں میں آپ کے فضائل ومناقب بڑی کثرت سے مرقوم ہیں۔

کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: مصاحف کی کتابت کے وقت ہم کو ”سورہٴ احزاب“ کی آیت (۳۳) مِنَ الموٴمنینَ رجالٌ صَدَقُوا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہ الخ۔ حضرت خزیمہ بن ثابت سے ملی، جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شہادتوں کے برابر قرار دیا تھا۔

اس سے آپ کے کاتبِ وحی ہونے کی اچھی طرح وضاحت ہو جاتی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: الاصابہ ۱/۴۲۵ بحوالہ کاتبینِ وحی ص۱۷۵، ۱۷۷) مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

کاتبینِ پیغمبرِ اعظم ﷺ— ایک تعارف 1

Aug
05

از: مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

اسلام آخری مذہب ہے، قیامت تک دوسرا کوئی مذہب نازل ہونے والا نہیں ہے، اس دین کی حفاظت و صیانت کا سہرا صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سر ہے، صحابہ کی برگزیدہ جماعت نے اسلام کی بقا اور اس کے تحفظ کے لیے جان و مال کو قربان کیا، انھیں کے خونِ جگر سے سینچے ہوئے درخت کا پھل آج ہم سب کھا رہے ہیں، انہوں نے دین کو اس کی صحیح صورت میں محفوظ رکھنے کا جتن کیا، ان کی زندگی کا ہر گوشہ اسلام کی صحت و سلامتی کی کسوٹی ہے، جو لوگ صحابہٴ کرام سے جتنا قریب ہیں، وہ دین سے اتنا ہی قریب ہیں، اور جو لوگ جتنا اس جماعت سے دورہوں گے؛ ان کی باتیں اُن کا نظریہ، اُن کا عقیدہ اور اُن کا عمل اتنا ہی دین سے منحرف ہوگا۔ مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں