دُعا

May
18

دُعا
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
“ جو شخص یہ چاہےکہ مصائب اور تنگیوں کے وقت اسکی دعائیں قبول ہوں تو اسے چاہیےکہ خوشحالی کے وقت کثرت سے دعا کرے۔ (ترمذی) “



“اگر جوتےکا تسمہ بھی ٹوٹ جاے تو اللہ سے مانگو“ (ترمذی)

اللہ تعالی کو بندوں کا دعا کرنا بہت پسند ہے ۔جتنی زیادہ دعا مانگی جاے اتنا ہی اللہ تعالی کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن۔کریم میں ارشاد۔ باری ہے “ مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا“ اس یقین کے ساتھ دعا مانگنی چاہے کہ وہ ضرور قبول ہو گی۔البتہ قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں۔ بعض اوقات وہی چیز جلد مل جاتی ہے اور بعض اوقات وہ چیز اللہ تعالی کے علم میں بندے کے لئے مناسب یا فائدہ مند نہیں ہوتی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ بہتر اور مفید چیز دنیا یا آخرت میں عطا فرما دیتے ہیں۔
ہر دعا کے تین فائدے ہیں ۔



1 دعا کی قبولیت سے مرادیں پوری ہوتی ہیں۔


2 ہر دعا پر ثواب مِلتا ہے ۔


3 دعا کی کثرت سے اللہ تعالی کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہوتا ہے ۔

دعا مانگنے کے کچھ آداب ہیں کہ قبلہ رُو ہاتھ اٹھاکر زبان سے دعا مانگی جائے اور پہلے حمد و ثناء اور درودشریف پڑھا جائے لیکن اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس کے بغیر بھی دعا کرنا جائز ہے۔اللہ تعالی نے دعا کو بہت آسان فرما دیاہے کہ تقریبا ہر وقت اور ہر جگہ مانگی جا سکتی ہے ۔ چلتے پھرتے، کام کرتے ہوئےبھی، اور اگر زبان سے نہ مانگ سکے تو دل ہی دل میں بھی دعا مانگی جا سکتی ہے
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے

“جو مسلمان بندہ اپنے کسی بھائی کے لیئےاسکی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتے اسکےحق میں یہ دعا کرتے ہیں کہ تم کو بھی ویسی ہی بھلائی ملے ۔“( صحیح مسلم )

جس طرح اپنی ذاتی حاجتوں کے لئے دعا مانگتےہیں ۔ اسی طرح اپنے عزیزو اقارب ، دوست احباب اور عام مسلمانوںکے لئےدعا مانگنا بھی بہت فضیلت کی چیز ہے ۔ اگر کسی مسلمان کے بارے میں علم ہو کہ وہ کسی مشکل میں مبتلا ہے تو اس کے حق میں دعا کرنی چاہیئے۔ اس سے دعا کا ثواب بھی ملتا ہے اور دوسروں کی خیر خواہی کی فضیلت بھی حاصل ہوتی ہے ۔

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں