حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ

Nov
11

حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ ملک فارس کے شہراصبہان کے رہنے والے تھے۔ محسن انسانیت صلی الله علیہ وسلم نے قومیت ، وطنیت اور نسلی امتیاز کے بت کو پاش پاش فرما دیا تھا ،آپ صلی الله علیہ وسلم کے مقرب لوگوں میں غیر عربی اور دنیاوی اعتبار سے کم حیثیت لوگ بھی شامل تھے، کیوں کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فضیلت او رشرف کا معیار ایمان وتقویٰ کو قرار دیا ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی صحبت او رتربیت نے ان حضرات کو ایسا مقدس بنا دیا تھا کہ وہ رشک ملائک بن گئے تھے۔

اسلام قبول کرنے کا حیرت انگیز واقعہ

الله تعالیٰ جس کے نصیب میں ہدایت لکھ دیتا ہے تو اس کے لیے ہدایت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ اور ہدایت کی توفیق انہی لوگوں کو ملتی ہے جو راہ حق کے متلاشی ہوں اور تعصب اور تنگ نظری سے پاک ہوں ۔ حضرت سلمان فارسی کا باپ پیشہ کے اعتبار سے کاشت کار تھا اور مذہباً آتش پرست تھا۔ ان کے باپ نے ایک مرتبہ ان کو اپنی زرعی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے بھیجا، راستہ میں عیسائیوں کی عبادت گاہ تھی ،یہ اس کے اندر چلے گئے او ران کے طریقہٴ عبادت کو دیکھ کر متاثر ہوئے، وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کچھ نہ کچھ اس وقت تک زندہ ہوں گی بعد میں تو عیسائیوں نے عبادت گاہوں کو موسیقی او رشرکیہ عقائد پھیلانے کا مرکز بنالیا) سلمان فارسی رضی الله عنہ شام تک وہیں رہے، واپس آکر باپ کو پورا حال سنایا او رکہا کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے ۔ باپ نے تردید کی اور بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن یہ اصرار کرتے رہے کہ آتش پرستی سے عیسائیوں کا دین بہتر ہے ۔ جب باپ کو خدشہ ہوا کہ یہ آبا واجداد کا مذہب چھوڑ دیں گے تو اس نے ان کو گھرمیں قید کر دیا۔ کسی طرح حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ گھر سے فرار ہو کر ایک قافلہ کے ساتھ شامل چلے گئے، جو عیسائیوں کے دین کا مرکز تھا ، وہ عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا کے پاس رہنے لگے ۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں یہ شخص بد دیانت او ردنیا پرست نکلا، لوگوں کو صدقہ وخیرات کی ترغیب دلاتا اور جو اموال صدقہ کی مدمیں آتے وہ خود رکھ لیتا اور مسکینوں کو کچھ نہ دیتا۔ اس کی موت کے بعد حضرت سلمان رضی الله عنہ نے اس کے ماننے والوں کو اس کی حقیقت بتائی اور اس کے گھر میں رکھے ہوئے سونے چاندی سے بھرے ہوئے سات مٹکے دکھائے تو وہ لوگ بڑے برہم ہوئے او ران کے دل سے اس پادری کی وہ وقعت نکل گئی، انہوں نے اس کو دفن بھی نہ کیا ،بلکہ اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دیا او رپتھر مار مار کر چورا کر دیا۔

اس کے بعد دوسرا پادری اس منصب پر فائز ہوا، حضرت سلمان رضی الله عنہ فرماتے ہیں ” یہ دوسرا شخص اس پہلے شخص سے بہت افضل تھا اور دنیا سے بے رغبت تھا، مجھے اس سے محبت ہو گئی اور ایک عرصہ تک اس کے ساتھ گر جا میں رہا ۔ موت کے وقت اس نے وصیت کی کہ اب تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، کیوں کہ اس کے سوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والا کوئی اورمیرے علم میں نہیں ہے، جو شہر موصل میں رہتا تھا، میں تلا ش کرتا ہوا اس تک جاپہنچا۔ یہ شخص بھی عابد وزاہد تھا، میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔“

جب اس شخص کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کسی اور کا پتہ بتا دیا جو شہر نصیبین میں رہتا تھا۔ حضرت سلمان فارسی اس کے پاس رہتے رہے،پھر اس کی بھی موت آگئی اور وہ شہرعموریا کے کسی عابد کا پتہ بتا گیا، حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ اس کے پاس رہنے لگے او رکمانے کا مشغلہ بھی اختیار کر لیا اورکچھ مال بھی جمع ہو گیا، جب اس عموریا والے پادری کو موت نے آگھیرا تو حضرت سلمان فارسی نے اس سے دریافت کیا اب بتائیے میں آپ کے بعد کہاں جاؤں؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ ” بیٹا! اب تو میرے علم میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے دین پر پوری طرح قائم ہو ۔“ (کیوں کہ عیسائیت میں شرکیہ عقائد داخل ہو چکے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹاکہنے لگے تھے ) اس پادری نے حضرت سلمان فارسی سے کہا کہ ” اب تم الله کے آخری نبی صلی الله علیہ وسلم کی آمد کا انتظا رکرو، کیوں کہ ان کے تشریف لانے کا زمانہ قریب آچکا ہے، وہ عرب میں تشریف لائیں گے او رایک ایسے شہر کی طرف ہجرت کریں گے، جس کے دونوں طرف کنکریلی زمین ہو گی اور اس شہر میں کھجوروں کے باغات ہوں گے ۔ ان کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ ہدیہ قبول فرمائیں گے اور صدقہ نہ کھائیں گے۔ اور ان کی نبوت کی ایک علامت یہ ہو گی کہ ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔ لہٰذا تم عرب چلے جاؤ“ یہ کہہ کر اس پادری نے آخرت کا راستہ لیا اور حضرت سلمان فارسی عرب پہنچنے کی تدبیریں سوچنے لگے ۔ عرب کے کچھ لوگ تجارت کے لیے عموریا پہنچ گئے ،حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے ا پنے ساتھ عرب لے چلو، میں تمہیں معاوضہ کے طور پر یہ بکریا ں اورگائیں دو ں گا۔ وہ لوگ انہیں ساتھ لے چلے او روادی القری پہنچ کر انہوں نے دھوکہ کیا اور حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کو اپنا غلام ظاہر کرکے فروخت کر ڈالا، خریدنے والے شخص نے مدینہ کے ایک یہودی کے ہاتھ ان کو فروخت کر دیا، جو قبیلہ بنو قریظہ کا فرد تھا۔ وہ انہیں مدینہ لے گیا۔ حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ ”مدینہ کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہی وہ شہر ہے جہاں نبی آخر الزمان صلی الله صلی الله علیہ وسلم ہجرت فرما کر تشریف لائیں گے۔“ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے انتظار میں ایک ایک دن گن رہے تھے کہ وہ مبارک گھڑی آپہنچی اور سید الانبیاء صلی الله علیہ وسلم مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ حاضر ہوئے او رپادری کی بتائی ہوئی تمام علامات دیکھ لیں جب مہر نبوت دیکھنے کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اٹھا دی، حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھ لی او راسلام قبول کر لیا۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دو معجزے

اسلام تو قبول کر لیا، لیکن یہودی کی غلامی سے آزادی کا مسئلہ تھا، اس نے کہا کہ تمہاری آزادی کے لیے یہ شرط ہے کہ تم تین سو کھجوروں کے پودے لگاؤ، جب وہ تمام درخت پھل دے دیں او رتم چالیس اوقیہ یعنی تقریباً پونے سات سیر سونا ادا کر دو تو تمہیں غلامی سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

حضرت رسول مقبول صلی الله علیہ وسلم نے اس باغ میں جاکر اپنے مبارک ہاتھوں سے 300 پودے لگا دیے اور پھر یہ معجزہ ہوا کہ سارے درختوں نے اسی سال پھل دے دیا، جب کہ کھجور کے پودے میں پانچ سال میں پھل آتا ہے ۔

رحمت عالم صلی الله علیہ وسلم کے پاس انڈے کے برابر کہیں سے سونا آگیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کو بلا کر فرمایا ” یہ لے جاؤ اور تمہارے ذمہ جو سونا واجب الادا ہے، وہ ادا کرو۔ “ حضرت سلمان رضی الله عنہ نے عرض کیا“ یا رسول الله! اتنے تھوڑے سے سونے میں چالیس اوقیہ کا وزن کیسے پورا ہو گا؟“ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ” یقین رکھو، الله تعالیٰ تمہیں اسی سے سبک دوش فرما دے گا۔“ چناں چہ ایسا ہی ہوا، جب اس یہودی نے سونے کی اس ڈلی کو تولا تو پورا وزن نکلا او ران کو آزادی مل گئی ۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں آں حضرت صلی الله عیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگا اور غزوہٴ خندق میں شریک ہوا۔ یہ تمام تفصیل حضرت سلمان فارسی کی زبانی جمع الفوائد، شمائل ترمذی اور طبقات ابن سعد سے نقل کی گئی ہے۔

حضرت سلمان فارسی کے فضائل

سید عالم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” بلاشبہ جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے۔ حضرت علی رضی الله عنہ۔ حضرت عمار رضی الله عنہ۔ حضرت سلمان رضی الله عنہ ۔ (رواہ الترمذی)

ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق کی حضرت سلمان فارسی اور حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی الله عنہم سے کسی بات پر بحث ہو گئی اور صدیق اکبر رضی الله عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر پورا واقعہ بیان کیا تو سید عالم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ” اے ابوبکر! شاید تم نے ان تینوں کو ناراض کر دیا ہے ؟ اگر واقعی یہ لوگ تم سے ناراض ہو گئے تو تمہارا رب بھی تم سے ناراض ہو گا۔“ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ان حضرات کے پاس پہنچے او رکہا کہ ” میرے بھائیو ! کیا تم لوگ مجھ سے خفا ہو ؟ انہوں نے کہا، لا،یغفر الله لک یعنی ہم آپ سے ناراض نہیں ہوئے، الله تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے ۔ (مسلم شریف)

حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا سلمان علم کا وہ سمندر ہیں جو ختم نہ ہو سکے۔ (ازحلیة الاولیاء)

حضرت عمر رضی الله عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کو مدائن کا گورنر مقرر فرمایا تھا، اس زمانہ میں ان کو بیت المال سے پانچ ہزار رقم ملتی تھی، وہ اس پوری رقم کو صدقہ کر دیتے تھے اور خو داپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے، اپنے لیے کوئی گھر تک نہ بنایا، درخت کے اوپر کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں دن گزار دیتے۔ (حلیة الاولیاء وصفة الصفوة)

حضرت سلمان فارسی کے حکیمانہ ارشادات

حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے فرمایا” بلاشبہ علم کثیر ہے اور عمر قصیر ہے، لہٰذا وہی علم حاصل کر وجس کی تم کو دین کے بارے میں ضرورت ہو اوراس کے سوا باقی کو چھوڑ دو۔“ (ازحلیة الاولیاء)

ایک مرتبہ فرمایا” بہت زیادہ مجاہدہ نہ کرو بلکہ میانہ روی اختیار کرو،ورنہ تھک کر بیٹھ جاؤگے اور عمل سے اکتا جاؤگے۔“ (ازحلیة الاولیاء)

ایک مرتبہ قریش کے بعض لوگ اپنے نسب کی بڑائی بیان کرنے لگے تو حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے فرمایا ” میں تو اتناجانتا ہوں کہ ناپاک نطفہ سے پیدا کیا گیا ہوں او رمر کر بدبودار نعش بن جاؤں گا، پھر قیامت کے دن مجھے میزان عدل ( اعمال کے ترازو کے پاس کھڑا کیا جائے گا، اگر اس وقت میری نیکیاں بھاری نکلیں تو میں شریف ہوں، ورنہ رذیل ہوں۔“ یعنی شرافت اور ذلت کا فیصلہ وہیں ہو گا۔ (صفة الصفوة)

ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ” تواضع وانکساری اختیار کرو، جو شخص الله کی رضا کے لیے تواضع وانکساری اختیار کرے گا الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کو عزت ورفعت عطا فرمائے گا۔“ ( ازحلیة الاولیاء)

علالت او روفات

حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے 35ھ میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر مبارک 250 سال تھی، مدائن میں مقیم تھے، وہیں علیل ہوئے اوروہیں وفات پائی ۔ وفات سے قبل اپنی بیوی سے فرمایا” آج میرے پاس زیارت کرنے والے فرشتے آئیں گے، تم ایسا کرو مشک پانی میں گھول کر میرے بستر کے چاروں طرف چھڑک دو،کیوں کہ فرشتے خوشبو پسند کرتے ہیں او رپھر کچھ دیر کے لیے مجھے تنہا چھوڑ دینا۔“ چناں چہ ان کی اہلیہ نے حکم کی تعمیل کی، تھوڑی دیر میں جو آکر دیکھا تو جسم سے روح پرواز کر چکی تھی اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آرام کی نیند سو گئے ہیں ۔ ( از صفة الصفوة وحلیة الاولیاء)

الله تعالیٰ ہمیں بھی ان نفوس قدسیہ کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ (آمین)
مولانا عبدالله البرنی

ایک تبصرہ

ایک تبصرہ “حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ”

  1.  یاسر عمران مرزا

    اس قدر خوبصورت ویب سائٹ اور اچھی تحاریر دیکھ کر بہت اچھا لگا۔
    شکریہ

تبصرہ فرمائیں