عامر بن عبدالله

Nov
11

حضرت عمر کا دو رخلافت ہے ، ابھی بڑے بڑے صحابہ کرام اور تابعین عظام کی جماعت موجود ہے ، خلیفہ المسلمین حضرت عمر  کے حکم سے بلاد عجم میں ایک شہر کی داغ بیل ڈالی گئی ہے جس کو بصرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، بصرہ بلاد عجم میں ایک فوجی چھاؤنی، دعوت کا مرکز او رمنبع نور وہدایت کی حیثیت سے آباد کیا گیا ہے ۔

چناں چہ جزیرہ عرب کے ہر خطہ نجد ، حجاز ویمن سے مسلمان کھنچ کھنچ کے چلے آرہے ہیں، سب کا مقصد سرحد اسلامی کی حفاظت ہے۔

قافلہ نجد میں قبیلہ تمیم کا ایک نوجوان بھی شامل ہے جس کو لوگ عامر بن عبدالله تمیمی کے نام سے جانتے ہیں ، جوانی کی دہلیز میں قدم رکھنے والے اس نوجوان کی روشن پیشانی شرافت ونجابت ، ذہانت وفطانت ، قلب کی طہارت اور فطرت کی پاکیزگی کا پتہ دے رہی ہے ، بصرہ اگرچہ ابھی نیا نیا آباد ہوا ہے، لیکن دوسرے اسلامی شہروں کے مقابلہ میں یہ شہر زیادہ مال دار اور ثروت والا ہے، اس کی وجہ فتوحات کی کثرت ، مال غنیمت کی بہتات ہے ، ایسا لگتا ہے کہ مال کا ایک سیلاب ہے، جو ہر طر ف سے اس شہر میں امڈا آرہا ہے۔

لیکن اس تمیمی نوجوان کو اس سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے، مال ودولت سے بے رغبت یہ نوجوان صرف الله کا دل دادہ ہے، دنیا اور دنیا کی آرائش سے کنارہ کش یہ الله کا بندہ الله کی مرضیات کے حصول میں مگن ہے۔

اس وقت اس نو آباد شہر کے والی او رذمہ دار صحابی رسول ابو موسی اشعری رضی الله عنہ ہیں ، یہی یہاں کے گورنر، فوج کے کمانڈر، مسجد کے امام اورمدرسہ کے معلم ہیں یعنی اپنی قابلیت وصلاحیت سے ان تمام امور کو انجام دے رہے ہیں،بس عامر بن عبدالله، موسیٰ اشعری کے ساتھ ہو گئے اور پھر سفر وحضر، امن وجنگ ہر حال میں ان کے ساتھ رہنے لگے ، چناں چہ عامر نے ابو موسی اشعری سے قرآن کو اسی طرح پڑھا جیسے رسول پاک کے قلب اطہر پر نازل ہوا تھا، حدیث رسول کی اسی طرح روایت کی جیسے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا اورانہیں کی شاگردی میں ” تفقہ فی الدین“ کی دولت سے مالا مال ہوئے، جب انہوں نے کامل علم حاصل کر لیا تو اپنے معمولات کچھ اس طرح بنائے کہ اپنے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ، ایک حصہ خاص کر دیا تعلیم وتعلم کے لیے ، اس وقت آپ بصرہ کی مسجد میں لوگوں کو قرآن وحدیث کی تعلیم دیتے، ایک حصہ عبادت کے لیے خاص تھا، اس میں اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوتے ، لمبی لمبی نمازیں پڑھتے کہ پاؤں تھک تھک جاتے اور ایک حصہ جہاد فی سبیل الله کے لیے خاص کر دیا تھا، اس میں الله کے راستہ میں جہاد کرتے تھے۔

انہوں نے چوبیس گھنٹہ کی زندگی میں کوئی وقت خالی نہ چھوڑ رکھا تھا، جس میں ان تین کاموں کے علاوہ کوئی اور کام کرتے ، یہاں تک کہ لوگ آپ کو زاہد بصرہ کے لقب سے پکارنے لگے۔

عامر بن عبدالله کے واقعات میں بصرہ کے ایک شیخ نے بیان کیا ہے۔

کہتے ہیں ایک سفر میں عامر کے ساتھ تھا، جب رات ہوئی تو ہم نے ایک نالہ کے پاس جنگل تھا، اس جگہ قیام کیا، میں نے دیکھا عامر نے اپنا سامان جمع کیا، گھوڑے کو ایک درخت سے باندھا، اسی کی رسی ذرا لمبی کر دی اورگھاس لا کر اس کے سامنے ڈال دیا، خود اس جنگل میں گھس گئے ، میں نے سوچا آج ان کے پیچھے چلتے ہیں، دیکھیں رات کو یہ کیا کرتے ہیں ۔

میں نے دیکھا، چلتے چلتے وہ ایک ٹیلہ پر پہنچے، جو درختوں سے گھرا ہوا تھا ، لوگوں کی نگاہ اس پر نہیں پڑ سکتی تھی ، قبلہ رخ ہوئے اور نماز کی نیت باندھ لی، بخدا !میں نے اس سے زیادہ کامل خشوع وخضوع والی نماز اپنی عمر میں اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی ، جب نماز پڑھ چکے تو دعا شروع کی ، منجملہ اور دعاؤں کے یہ دعا بھی تھی ، الہٰی! تونے اپنے حکم سے مجھے پیدا فرمایا او راپنی مشیت سے اس دنیا کی آزمائش میں لاکھڑا کیا ہے ، پھر تونے یہ حکم دیا ہے میں اپنے اوپر ضبط کروں تو اے طاقت والے ، اے قوت والے! کیسے میں اپنے نفیس پر قابو پاسکتا ہوں اگر تونے اپنے لطف وکرم سے میری مدد نہیں فرمائی، اے بارالہا! توجانتا ہے کہ اگر پوری دنیا اور دنیا کا سارا سازوسامان مجھ کو مل جائے او رکوئی تیری رضا کے بدلے مجھ سے مانگے تو میں اس کو دے دوں گا، لہٰذا اے ارحم الراحمین! تو مجھ کو بخش دے۔

اے رب کریم! میں نے تجھ سے ایسی محبت کی ہے کہ اس نے ہر مصیبت کو میرے لیے آسان اور ہر فیصلہ پر مجھ کو راضی کر دیا ہے ، اگر تیری محبت مجھ کو حاصل ہے تو پھر مجھ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ میرے شام وسحر کیسے گزر رہے ہیں۔

روای کہتے ہیں کہ پھر مجھ پر نیند کا غلبہ ہونے لگا، تو میں نیم بیدار ، نیم خوابی کے عالم میں رہا اور عامر کھڑے اپنے رب کی عبادت ومناجات کرتے رہے ، یہاں تک کہ صبح نمود ار ہو گئی، جب صبح ہوئی تو فجر کی نماز ادا کی اور دعا فرمائی، اے الله! صبح روشن ہو گئی ہے، لوگ آجار ہے ہیں، ہر شخص اپنی حالت میں تیرے رزق کی تلاش میں لگا ہے، ہر ایک کی ایک حاجت اور ضرورت ہے، لیکن تیرے بندے عامر کی ضرورت صرف یہ ہے کہ تو اس کو معاف فرما دے ، اے الله! تو میری اور لوگوں کی ضرورت پوری فرما دے۔

اے الله! میں نے تجھ سے تین چیزیں مانگی تھیں تونے دو قبول فرمائیں ایک قبول نہیں فرمائی، اے الله! تو اس کو بھی قبول فرما لے تاکہ تیری عبادت اس طرح کر سکوں جیسے میں کرنا چاہتا ہوں پھر اپنی جگہ سے اٹھے تو ان کی نگاہ مجھ پر پڑی وہ گھبرا اٹھے، اس لیے کہ سمجھ گئے کہ میں نے رات کا ماجرا دیکھا ہے، ایسا لگا کہ ان کی کوئی بڑی پونجی گم ہو گئی ، پھر بڑے غم بھرے لہجہ میں بولے، بھائی ! میں سمجھ رہا ہوں کہ آج رات تم مجھ کو دیکھ رہے تھے۔

میں نے کہا: جی ہاں!

فرمایا:
جو کچھ دیکھا ہے لوگوں سے مخفی رکھنا، الله تمہاری ستاری فرمائے گا۔

میں نے کہا آپ وہ تینوں باتیں مجھے بتا دیں جو اپنے رب سے مانگی ہیں، ورنہ میں تو اس راز کو فاش کردوں گا۔ انہوں نے بڑی لجاجت سے کہا نہ، ایسا نہ کرو ، میں نے کہا نہیں، آپ میری شرط پوری کیجیے۔ جب انہوں نے میرا اصرار دیکھا تو فرمایاکہ اچھا تم مجھ سے وعدہ کرو کہ کسی اورکو نہیں بتاؤ گے۔ میں نے کہا الله سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی زندگی میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔

فرمایا: میرے نزدیک دین کے سلسلے میں عورتوں سے زیادہ کوئی چیز خطرہ کی نہیں تھی تو میں نے الله سے دعا کہ عورت کی محبت میرے دل سے نکال دے، اس کو الله نے قبول فرمالیا۔

میں نے کہا: دوسری بات؟

فرمایا: دوسرے یہ کہ میں نے دعا مانگی اے الله! میں تیرے سوا کسی سے نہ ڈروں، چناں چہ یہ بھی قبول ہو گئی ، اب میں آسمان وزمین میں سوا الله کے کسی سے نہیں ڈرتا۔

میں نے کہا: تیسری چیز؟

فرمایا: میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے الله! مجھ سے نیند ختم کر دے، تاکہ میں رات دن تیری عبادت کر سکوں ، الله نے اس کو قبول نہیں فرمایا۔

جب میں نے یہ سناتو کہا، عامر! اپنے اوپر رحم کرو ، تم پوری رات کھڑے ہو کر الله کی عبادت میں اور دن بھر روزہ رکھ کر گزارتے ہو ، جنت کی نعمت اس سے کم میں مل سکتی ہے اور دوزخ کے عذاب سے تو اس سے کم مجاہدہ میں بچا جاسکتا ہے۔

فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس دن مجھ کو ندامت نہ ہو جس دن ندامت کوئی فائدہ نہ دے گی ، بخدا! میں الله کی عبادت میں مجاہدہ کرتا رہوں گا جب تک میرے اندر اس کی سکت باقی رہے گی پھر بھی اگر نجات پا گیا تو یہ الله کا رحم ہو گا اور اگر دوزخ میں ڈال دیا گیا تو یہ میری کوتاہی کا نتیجہ ہو گا۔

مگر یہ بھی یاد رہے کہ عامر بن عبدالله صرف رات کے عبادت گزار ہی نہ تھے، بلکہ میدان جنگ کے شہسوار بھی تھے، جب الله کا منادی جہاد کی ندا لگاتا تو عامر بن عبدالله سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں ہوتے ، جب مجاہدین کے ساتھ جہاد میں جانا ہوتا تو مناسب جماعت کی تلاش میں رہتے، تاکہ اس کے ساتھ ہو لیں ، جب ایسی جماعت مل جاتی جن کی رفاقت مناسب معلوم ہوتی تو ان سے کہتے بھائیو! میں تمہارے ساتھ چلنا چاہتا ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم اپنے تین کام میرے حوالہ کردو۔

وہ پوچھتے: وہ کیا؟

فرماتے: پہلی بات یہ کہ میں سفر میں آپ سب کا خدمت گزار ہوں گا ، خدمت میں مجھ سے کوئی جھگڑے گا نہیں، دوسرے یہ کہ نماز کے لیے اذان میں دوں گا تیسرے یہ کہ اپنی استطاعت کے بقدر میں آپ لوگوں پر خرچ کروں گا۔

اگر وہ منظور کرتے تو ان کے ساتھ ہو جاتے ، راستہ میں اگر کو ئی شخص ان کاموں میں ان سے مزاحمت کرتا تو ان کا ساتھ چھوڑ کر کسی اورجماعت کے ساتھ ہو لیتے۔

عامر بن عبدالله ان مجاہدین میں سے تھے جو لڑائی میں تو پیش پیش اور مال غنیمت لینے سے گریز کرنے والے تھے، وہ خطرات مول لینے میں آگے آگے اور نفع حاصل کرنے میں پیچھے پیچھے رہتے تھے۔

یہ سعد بن وقاص ہیں، اسلامی فوج کے کمانڈر، جنگ قادسیہ میں فتح ہوتی ہے، یہ کسریٰ کے محل میں اترتے ہیں او رعمر بن مقرن کو حکم دیتے ہیں کہ مال غنیمت جمع کرو اور اس کو شمار کرو تاکہ خمس بیت المال میں اور باقی مجاہدین میں تقسیم کیا جاسکے ،ان کے سامنے مال ودولت اور قیمتی قیمتی اشیاء کا اتنا بڑا ڈھیر لگ جاتا ہے جو بیان سے باہر ہے، کہیں بڑی بڑی مہر بندٹوکریاں ہیں،جن میں شاہان ایران کے سونے چاندی کے برتن بھرے ہیں ، تو کسی طرف قیمتی لکڑی کے صندوق ہیں جن میں شاہ ایران ” کسریٰ“ کے جوڑے ، ہار او رموتی وجواہر سے جڑی زر ہیں ہیں۔

عورتوں کے سنگھار دان ہیں، جو قیمتی زیورات او رعمدہ سنگھار کے سامان سے پُر ہیں، اس میں شاہان ایران کی نیا میں ہیں، جن میں ان کی تلواریں اور ان قائدین او ر بادشاہوں کی تلواریں ہیں جو شاہان ایران کو مال غنیمت میں حاصل ہوئی تھیں۔

ابھی عمال مال غنیمت مسلمانوں کے سامنے شمارکر ہی رہے ہیں کہ ایک پراگندہ بال او رگرد سے اَٹا شخص لوگوں کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے ، اس کے ساتھ ایک وزنی صندوقچہ ہے، جو دونوں ہاتھوں سے اٹھائے ہوئے ہے۔

لوگوں نے غور کیا تو کیا دیکھتے ہیں یہ تو بڑا قیمتی ہے، ایسا تو کسی نے دیکھا بھی نہیں ہے او راب تک اتنے مال جمع کیے گئے، مگر اس میں کوئی چیز اتنی قیمتی نہیں ملی ہے ، جب کھولا تو وہ عمدہ اور قسم قسم کے ہیرے وجواہرات او رموتی سے بھرا تھا۔

لوگوں نے آدمی سے پوچھا ، اتنا قیمتی خزانہ تم کو کہاں سے ہاتھ لگا؟

اس نے کہا، اس معرکہ میں فلاں جگہ ملا ہے ، لوگوں نے کہا اس میں سے کچھ نکالا تو نہیں ہے ۔

اس نے کہا، الله تمہیں ہدایت دے ، یہ صندوقچہ اور شاہان ایران کی تمام دولت میرے نزدیک تراش کر پھینکے جانے والے ناخن کے برابر بھی نہیں ہے ، اگر بیت المال کا حق نہ ہوتا تو اس کو چھوتا بھی نہیں، وہیں پڑا رہنے دیتا۔

لوگوں کو بڑا تعجب ہوا ، پوچھا آپ کون صاحب ہیں ؟

انہوں نے کہا ، والله! نہ تو میں تم کو اپنا پتہ بتاؤں گا نہ کسی او رکو ، کہ تم میری قصیدہ خوانی اور تعریف کرو ، بلکہ میں الله کی تعریف کرتا ہوں، اسی سے ثواب کی امید رکھتا ہوں پھر وہ شخص چلا گیا۔

لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جاؤ پتہ لگاؤ! یہ کون صاحب ہیں؟

آدمی پیچھے چلا چلتے چلتے ان کے اپنے ساتھیوں میں پہنچ گیا، اس شخص نے ان کے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟

لوگوں نے کہا کہ تم نہیں جانتے ؟ارے !یہ تو بصرہ کے زاہد عامر بن عبدالله تمیمی ہیں۔

عامر بن عبدالله کو اس درجہ زہد وتقویٰ کے باوجود حاسدوں کے حسد اور دشمنوں کی دشمنی کی وجہ سے سخت حالات سے دو چار ہونا پڑا۔

ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ پولیس والا ایک ذمی کو گھسیٹے لیے جارہاتھا اور زبردستی اس سے کام کروانا چاہتا تھا، اس پر عامر بن عبدالله نے اس کی مدد کر دی اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو ذمی کو چھوڑنا پڑا، بس اس بات کو لے کر وہ خفا رہا اور بہت سی بے بنیاد باتیں جو آپ کی عبادت گزاری اور دنیا بے زاری میں معاون تھیں ، مثلاً یہ کہ سنت رسول سے ان کو بے رغبتی ہے کہ شادی نہیں کرتے او رگوشت نہیں کھاتے او راسی طرح کی بعض اور باتوں سے خلیفہ کے کان بھرے، خلیفہ وقت حضرت عثمان نے تحقیق کرائی تو معلوم ہوا سب الزامات ہیں، حقیقت کچھ اور ہے ، پھر بھی احتیاطاً آپ سے درخواست کی گئی کہ بصرہ چھوڑ کر شام چلے جائیں، آپ شام چلے گئے ، حضرت عثمان نے شام کے گورنر کو حکم دیا کہ ان کابھرپور استقبال کیا جائے، چناں چہ ان کا خوب استقبال کیا گیا ، جب وہ بصرہ چھوڑنے لگے تو ایک جم غفیر آپ کو الوداع کہنے کے لیے آپ کے ساتھ نکلا، جب ” ظاہر المربد“ پہنچے تو لوگوں سے کہا، دیکھو! میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔

لوگ ساکت ہو گئے، سب کی نگاہیں ان کی جانب اٹھ گئیں ، انہوں نے ہاتھ اٹھایا او ردعا کی۔

اے الله! جس نے میرے خلاف لگائی بجھائی کی ہے ، جھوٹے الزامات لگائے ہیں ، اس شہر سے نکلوانے کا سبب بنا، میرے اور میرے ساتھیوں میں جدائی کا باعث ہوا ہے، اے الله! میں نے اس کو معاف کر دیا، تو بھی اس کو معاف کر دے، دنیا وآخرت دونوں جہاں میں اس کو عافیت وسلامتی عطا فرما،مجھ کو او راس کو اور سارے مسلمانوں کو اپنی بے پایا ں رحمت سے ڈھانپ لے۔

پھر شام کی جانب روانہ ہو گئے او ربقیہ زندگی وہیں گزاری، بیت المقدس میں بودوباش اختیار کر لی، شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابوسفیان کی طرف سے ان کے ساتھ ان کے شایان شان عزت واکرام کا برتاؤ کیا گیا۔

جب عامر کا آخری وقت آگیا تو لوگ ان کے پاس حاضر ہوئے ، دیکھا رو رہے ہیں! لوگوں نے کہا آپ کیوں روتے ہیں، آپ تو بڑی عبادت وریاضت کرنے والے ہیں؟ فرمایا، روتا اس لیے ہوں کہ سفر بڑا طویل اور زاد راہ قلیل ہے ، زندگی کے نشیب وفراز کو طے کرتے ہوئے زندگی کی شام آپہنچی، نہیں معلوم دوزخ کی طرف جارہاہوں یا جنت کی طرف، اس کے بعد دنیا کے اس مسافر کی شام میں زندگی کی شام ہو گئی #

آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
محترم عبدالرحیم ندوی

ایک تبصرہ

ایک تبصرہ “عامر بن عبدالله”

  1.  شہزاد شاکر

    کاش اے میرے اللہ میاں!
    ہم بھی ان لوگوں کی پاؤں کی خاک جیسے ہو جائیں۔ اے کاش ہمیں سوائے اللہ کے کسی کا ڈر اور خوف نہ ہو۔ زندگی کا مقصد عبادت، ریاضت، صداقت ہو۔ آمین

تبصرہ فرمائیں