سازشِ قتلِ حسین، پس منظر، پیش منظر

Dec
14

جانشینِ امیرِ شریعت، امامِ اہلِ سنت سید ابو معاویہ ابوذر بخاری قدس سرہ کے ایک خطاب کے کچھ حصّہ کا مطالعہ کریں 

’’آپ پڑھیے ابنِ کثیر، ابنِ جریر کو! آپ کی آنکھیں کھلیں گی، میں ایسے نہیں کہہ رہا، میں نے ۱۹۴۸ء سے لے کر ۱۹۶۲ء تک نہ شہادتِ حسین بیان کی ہے، نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حسن رضی اللہ عنہ وحسین رضی اللہ عنہ کی مکمل سیرت بیان کی ہے۔ جب تک پڑھ نہیں لیا‘زَبان نہیں کھولی۔ اب بھی دعویٰ نہیں کہ جو میں سمجھا ہوں سب کچھ صحیح ہے لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں میں طالب علم ہوں اس موضوع کا‘ الحمدللہ! ہر آدمی مجھے اس مسئلے میں نہ روک سکتا ہے، نہ خاموش کرا سکتا ہے، نہ میں ہر ایک آدمی کو حجت سمجھتا ہوں۔ جس کا جی چاہے بات کر لے۔ تقریباً اٹھارہ برس میں نے صرف اس موضوع کو پڑھنے اور سمجھنے میں گزارے ہیں۔ شہادت حسین رضی اللہ عنہ میری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنھم موجود ہیں اور حسین رضی اللہ عنہ کیوں ذبح ہو گئے؟۔ صحابہ موجود ہیں عثمان رضی اللہ عنہ کیسے قتل ہو گئے؟ گھر میں لٹا کر بکرے کی طرح ذبح کردیا گیا اور یہ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کوئی مدد نہیں! ایک آدمی پاس نہیں پھٹکا۔ اس پر اگر غور نہیں کریں گے تو سمجھ میں کیسے آئے گا؟ پس منظر سمجھنے کے لیے بڑی دور جانا پڑا۔ جنگِ جمل اور صفّین، قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ ، خلافتِ علی رضی اللہ عنہ کو سمجھا تو قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ خود بخود سمجھ میں آگئے۔ اب بھی کہتا ہوں کہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ کو سمجھنا ہے تو قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کو سمجھو اور اگر قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کو سمجھنا ہے تو ابولولو فیروز، ایرانی بدمعاش، اور مجوسی لفنگا جس نے پناہ کے نام پر مسجدِ نبوی کے پڑوس میں سازش کا مرکز بنایا، جس نے ہرمزان کو ساتھ ملایا، جفینہ کو ساتھ ملایا، سازشی ٹولہ اکٹھا ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وعباس رضی اللہ عنہ کے کہنے پر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو مدینے میں پناہ دی تھی۔ انہوں نے اس پناہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ یہ سیاسی جرائم پیشہ ٹولہ تھا۔ اس نے وہی کچھ کیا جو ایران کے مجوسیوں کو کرنا چاہیے تھا۔ سازش ہوئی، دو دھارے نوکیلے خنجر سے عمررضی اللہ عنہ کی انتڑیاں کٹیں، زخم مندمل نہ ہوسکا اور تیسرے دن انتقال ہوگیا۔ وہی سازش بڑھی، ابنِ سباء کے روپ میں آئی، عثمان رضی اللہ عنہ کی گردن اتری۔ فتنہ ختم نہیں ہوا۔ وہ سازش مزید آگے بڑھی۔ علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک پر ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے کولہے پر اور خارجہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گردن پر ایک ہی رات میں سحر کے وقت تلوار پڑی۔ علی رضی اللہ عنہ وخارجہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے معاویہ رضی اللہ عنہ بچ گئے۔ یہی تلوار آگے چلی، اسی میں حسن رضی اللہ عنہ کو معزول ہونا پڑا۔ یہی سازش آگے بڑھی‘ حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے بچوں کے لاشے کربلا کے میدان میں تڑپے ہیں۔ سازش یہود اور مجوس کی ہے، صحابہ رضی اللہ عنھم کا اس میں کوئی قصور نہیں۔جب تک سازش کی ابتدا سے نہیں چلو گے‘ سراغ نہیں ملے گا کہ حسین رضی اللہ عنہ کیوں ذبح ہوگئے؟ مذاق ہے کوئی؟ حد ہوگئی، پوچھنے والا کوئی نہیں! ہم بھی سوچتے ہیں آخر۔ ہمارے باپ کو جیل میں روٹیاں پہنچانے والے موجود تھے، حسین رضی اللہ عنہ کو پانی کا گلاس دینے والا کوئی نہیں تھا؟‘‘

خطاب: جانشینِ امیرِ شریعت، امامِ اہلِ سنت سید ابو معاویہ ابوذر بخاری قدس سرہ
اقتباسِ خطاب: سالانہ جلسہ جامعہ رشیدیہ ساہی وال
۲۵؍ دسمبر ۱۹۸۲ء

ایک تبصرہ

ایک تبصرہ “سازشِ قتلِ حسین، پس منظر، پیش منظر”

  1.  شہزاد شاکر

    بہت خوب صورت تحریر ہے۔ اگر اس بارے میں مزید لکھا جائے تو بہتر ہو گا اور ہم علم کے متلاشی طالبعلموں کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ امید ہے جلد اس بارے میں مزید لکھا جائے گا۔

تبصرہ فرمائیں