موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع !

Jan
10

موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع فقہ اسلامی میں ”سب و شتم“ سے کیا مراد ہے؟
عربی لغت میں”سب“ کا معنی یہ ہے کہ ”کسی چیز کے بارے میں ایسے کلمات کہے جائیں جن سے اس چیز میں عیب و نقص پیدا ہو سکے۔(مرقاة)ابن ِ تیمیہ فرماتے ہیں: ” جو کلامِ عرف میں نقص، عیب،طعن کے لیے بولی جاتی ہو، وہ ’سب و شتم ‘ ہے“۔ (الصارم المسلول، ص ۵۳۴)
معاملہ جب رحمتِ عالم ا کی شان اور ذاتِ مقدسہ کا ہو تو احتیاط و ادب کا لازم ہونا کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور نبوت سے اختلاف بھی اباحت ِ دم کے زمرے میں آتا ہے، چہ جائیکہ آپ ا کی مخالفت اور مذمت کی جائے۔ علامہ ابنِ تیمیہ اس سلسلہ میں یوں رقم طراز ہیں: ” اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ اس کے محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے اعراض کرنے کی وجہ سے (جبکہ وہ معاہد نہ ہو) اس کا خون مباح ہو جاتا ہے اور ان حقوقِ واجبہ سے روگردانی کرنے کی بنا پر اس کو سزا دینا روا ہو جاتا ہے۔ یہ صور تحال محض اسے اس لیے پیش آتی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز و احترام سے صرف سکوت اختیار کیا، لیکن جب اس کے عین برعکس وہ آپ ا کی مذمت کرتا ،گالی دیتا اور توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی سزا اباحت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کہ سزا کا تعین جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔“ (الصارم المسلول، ص۵۹۳، اردو ترجمہ )
علامہ ابنِ تیمیہ مزید صراحت فرماتے ہیں کہ ”جب ہم کسی مشرک یاکتابی کو سنیں کہ وہ الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوایذا دے رہا ہے تو ہمارے اور اس کے مابین کوئی عہد قائم نہیں رہتا بلکہ بقدرِ امکان و استطاعت ان سے جہاد و قتال ہم پر واجب ہے“۔ (الصارم المسلول، ص۲۹۱، اردو ترجمہ )
گالی کے معنی و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد دیکھئے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا سے متعلق احکام الفقہ کیا ہیں اور ائمہ اربعہ کے فتاویٰ اور تصریحات کیا ہیں:
امامِ اعظم امام ابو حنیفہ کا مذہب
علامہ خیرالدین رملی حنفی فتاوٰی بزازیہ میں لکھتے ہیں: ”شاتمِ رسول اکو بہرطور حداً قتل کرنا ضروری ہے۔اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی، خواہ یہ توبہ گرفت کے بعد ہو یا اپنے طور پر تائب ہو جائے کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہوتا ہے، جس کی توبہ قابلِ توجہ ہی نہیں اور اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے، یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا، جس طرح دیگر حقوق (چوری، زنا) توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جس طرح حد ِ تہمت توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔یہی سیّدناابوبکر، امام اعظم، اہل ِکوفہ اورامام مالک کا مذہب ہی“۔(تنبیہ الولاة و احکام، ص ۳۲۸)
امام ابن عابدین شامی حنفی امت کی رائے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ گستاخِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل واجب ہے اور امام مالک، امام ابولیث، امام احمدبن حنبل، امام اسحاق اور امام شافعی، حتیٰ کہ سید نا ابوبکر صدیق ان تمام کا مسلک یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے “۔ (فتاویٰ شامی، ج۳، ص۳۱۸)
فقہ حنفی کے ایک معتبر امام، اما م ابن ہمام لکھتے ہیں: ” جو بھی شخص حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھے، وہ مرتد ہو جاتا ہے ۔گالی دینے والا تو بطریقِ اولیٰ مرتد ہو گا، ہمارے نزدیک ایسے شخص کو بطورِ حد قتل کرنا ضروری ہے اور اس کی توبہ کو قبول کرتے ہوئے قتل معاف نہیں کیا جائے گا ، اہلِ کوفہ، امام مالک، بلکہ سید نا ابوبکر صدیق سے یہی منقول ہے“۔علماء نے یہاں تک فرمایا کہ گالی دینے والا نشے میں ہو تب بھی قتل کیا جائے گا اور معاف نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر، ج۴، ص۴۰۷)
علامہ طاہر بخاری اپنی کتاب خلاصہ الفتاویٰ میں لکھتے ہیں کہ:
”محیط میں ہے کہ جو نبی ا کو گالی دے، آپ ا کی اہانت کرے ،آپ ا کے دینی معاملات یا آپ اکی شخصیت یا آپ ا کے اوصاف میں سے کسی وصف کے بارے میں عیب جوئی کرے چاہے گالی دینے والا آپ ا کی امت میں سے ہو خواہ اہل کتاب وغیرہ میں سے ہو ذمی یا حربی، خواہ یہ گالی اہانت اور عیب جوئی جان بوجھ کر ہو یا سہواً اور غفلت کی بناء پر نیز سنجیدگی کے ساتھ ہو یا مذاق سے، ہر صورت میں ہمیشہ کے لئے یہ شخص کافر ہوگا اس طرح کہ اگر توبہ کرے گا تو بھی اس کی توبہ نہ عنداللہ مقبول ہے اور نہ عند الناس اور تمام متقدمین اور تمام متاخرین و مجتہدین کے نزدیک شریعت مطہرہ میں اس کی قطعی سزا قتل ہے۔حاکم اور اس کے نائب پر لازم ہے کہ وہ ایسے شخص کے قتل کے بارے میں ذرا سی نرمی سے بھی کام نہ لے“۔ (خلاصہ الفتاویٰ ص ۳۸۶، ج۶)
خطابی  کا قول ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے بدگو کے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو اور اگر یہ بدگوئی اللہ تعالیٰ کی شان میں ہو تو ایسے شخص کی توبہ سے اس کا قتل معاف ہو جائے گا ۔“ (فتح القدیر ص ۳۳۲، ج ۵) بزازی  نے اس کی علت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حق العبد توبہ سے معاف نہیں ہوتا جیسے تمام حقوق العباد اور جیسا کہ حد قذف (تہمت کی سزا)توبہ سے ختم نہیں ہوتی۔ بزازی نے اس کی بھی تصریح کی ہے کہ انبیاء میں سے کسی ایک کو برا کہنے کا یہی حکم ہے“۔
امام مالک  کا مذہب
ابنِ قاسم  فرماتے ہیں کہ امام مالک سے مصر سے ایک فتویٰ طلب کیا گیا، جس میں میرے فتویٰ کے بارے میں، جس میں کہ میں نے شاتمِ رسو ل علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا تھا، تصدیق چاہی گئی تھی۔ اس فتویٰ کے جواب میں امام مالک نے مجھ ہی کو اس فتویٰ کا جواب لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے یہ جواب لکھا کہ ایسے شخص کو عبرتناک سزا دی جائے اور اس کی گردن اُڑا دی جائے۔ یہ کلمات کہہ کر میں نے امام مالک سے عرض کی کہ اے ابو عبدالله! (کنیت اما م مالک) اگر اجازت ہو تویہ بھی لکھ دیا جائے کہ قتل کے بعد اس لاش کو جلا دیا جائے۔ یہ سن کر امام مالک نے فرمایا،” یقیناً وہ گستاخ اسی بات کا مستحق ہے اور یہ سزا اس کے لیے مناسب ہے۔چنانچہ یہ کلمات میں نے امام موصوف کے سامنے ان کی ایماء پر لکھ دیے اور اس سلسلے میں امام صاحب نے کسی مخالفت کا اظہار نہ کیا۔ چنانچہ یہ کلمات لکھ کر میں نے فتویٰ روانہ کر دیا اور اس فتویٰ کی روشنی میں اس گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا گیا“۔ (الشفاء، ج۲، ص۴۵۳، اردو ترجمہ)
ابنِ کنانہ کا حکام کو مشورہ
” مسبوط میں ابنِ کنانہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی بارگاہِ رسالت میں گستاخی کا مرتکب ہو تو میں حاکمِ وقت کو مشورہ دیتا ہوں اور ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو پھونک دیا جائے یا براہ راست آگ میں جھونک دیا جائے“۔ (الشفاء، ج۲، ص۴۵۳ ،از قاضی عیاض مالکی) حکمِ قتل پر علمائے مالکیہ کی دلیل
قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ ہمارے علمائے مالکیہ نے ایسے گستاخ ذمی کے قتل کے حکم پر قرآنِ کریم کی اس آیت سے استدلال کیا ہے: ” اور اگر وہ اپنی قسموں کو توڑیں اور عہد شکنی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے بارے میں بدگوئیاں کریں، تو ان کفر کے سرغنوں سے لڑو“۔ (التوبہ، ۱۲)
اس آیت ِ قرآنی کے علاوہ علمائے مالکیہ نے سرکارِدوعالم ا کے عمل سے بھی استدلال کیا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کو اس کی گستاخیوں کی وجہ سے قتل کروایا تھا۔ اس گستاخ کے علاوہ اور دوسرے گستاخ بھی تعمیلِ حکمِ نبوی ا میں قتل کیے گئے تھے۔“(الشفاء، ج۲، ص ۴۴۶۔۴۴۷)
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض فرماتے ہیں :” جوشخص بھی رسول کریم ا کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا دین یا آپ ا کی عادت میں نقص و عیب نکالے یا اسے ایسا شبہ لاحق ہو، جس سے آپ اکو گالی دینے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیصِ شان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض و عداوت اور نقص و عیب کا پہلو نکلتا ہو، وہ دشنام دہندہ ہے اور اس کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے ا ور وہ یہ کہ اسے قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کی کسی شاخ کونہ مستثنیٰ کیا جائے اور نہ اس میں شک و شبہ روا رکھا جائے خواہ گالی صراحتاً دی جائے یااشارةً۔وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعنت کرے یا آپ ا کو نقصان پہنچانا چاہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بددعا کرے یا آپ ا کی شان کے لائق نہ ہو یا آپ ا کی کسی چیز کے بارے میں رکیک ، بے ہودہ اور جھوٹی بات کرے یا جن مصائب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوچار ہوئے ان کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگائے یا بعض بشری عوارض کی وجہ سے، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوچار ہوئے، آپ ا کی تنقیصِ شان کرے، اس بات پر تمام علماء اورائمہ الفتویٰ کا عہدِ صحابہ سے لے کر اگلے تاریخی ادوار تک اجماع چلا آرہاہے۔“ (الصارم المسلول، ص ۷۴۵، اردو ترجمہ )
امام قرطبی اپنی مشہور تفسیر میں لکھتے ہیں: ”مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں کہا کہ کعب بن اشرف کو بدعہدی کرکے قتل کیا گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کہنے والے کی گردن مار دی جائے۔(کیونکہ کعب بن اشرف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا بلکہ وہ مسلسل بدگوئی اور ایذاء رسانی کی وجہ سے مباح الدم بن گیا تھا)۔
اسی طرح کا جملہ ایک اور شخص ابن یامین کے منہ سے نکلا تو کعب بن اشرف کو مارنے والے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کی مجلس میں یہ بات کہی جا رہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔خدا کی قسم! اب آپ کے پاس کسی عمارت کی چھت تلے نہ آؤں گااور اگر مجھے یہ شخص باہر مل گیا تو اسے قتل کر ڈالوں گا۔ علماء نے فرمایا ایسے شخص سے توبہ کے لیے بھی نہ کہا جائے گا بلکہ قتل کردیا جائے گا جو نبی ا کی طرف بدعہدی کو منسوب کرے ۔ یہی وہ بات ہے، جسے حضرت علی اور حضرت محمد بن مسلمہ نے سمجھا ،اس لیے کہ یہ تو زندقہ ہے“۔ (تفسیر قرطبی،ص ۸۲، جلد ۸)
اسلام (کافر ساب) کے قتل کو ساقط نہ کرے گا۔اس لئے کہ یہ قتل نبی ا کے حق کی وجہ سے واجب ہوچکا ہے، کیونکہ اس نے آپ ا کی بے عزتی کی ہے ،آپ ا پر نقص و عیب لگانے کا ارادہ کیا ہے، اس لئے اسلام لانے کی وجہ سے بھی اس کا قتل معاف نہ ہوگا اور نہ یہ کافر مسلمان سے بہتر ہوگا، بلکہ بدگوئی کی وجہ سے باوجود توبہ کے دونوں کو چاہے کافر ہو یا مسلم قتل کر دیا جائے گا۔( تفسیر قرطبی،ص ۸۴، ج۸)
امام شافعی کا مذہب
امام شافعی سے صراحتاً منقول ہے کہ نبی کریم ا کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہیے۔ابن المنذر، الخطابی اور دیگر علماء نے ان سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ امام شافعی اپنی کتاب”الام“ میں فرماتے ہیں : ”جب حاکمِ وقت جزیہ کا عہد نامہ لکھنا چاہے تو اس میں مشروط کا ذکر کرے۔ عہد نامے میں تحریر کیا جائے کہ اگر تم میں سے کو ئی شخص محمدصلی اللہ علیہ وسلم یا کتاب الله یا دینِ اسلام کا تذکرہ نازیبا الفاظ میں کرے گا تو اس سے الله تعالیٰ اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری اٹھ جائے گی، جو امان اس کو دی گئی تھی، ختم ہو جائے گی اور اس کا خون اور مال امیر المومنین کے لیے اس طرح مباح ہو جائے گا جس طرح حربی کافروں کے اموال اور خون مباح ہیں“۔ (الصارم المسلول، ص ۳۲۔۳۳، اردو ترجمہ)
امام محمد بن سخنون بھی اجماع نقل کرتے ہیں:
”اس بات پر علماء کااجماع منعقد ہوا ہے کہ نبی کریم ا کوگالی دینے والا اور آپ ا کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کے بارے میں عذاب ِ خداوندی کی وعید آئی ہے۔ امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور جو شخص اس کے کفر اور اس کی سزا میں شک کرے وہ بھی کافر ہے“۔(الدرمختار، ج۳، ص۳۱۷، نسیم الریاض، شرح الشفاء، ج۴، ص۳۳۸، الصارم المسلول، ص ۲۵۔۲۶ ، اردو ترجمہ)
صحیح بخاری کے مشہور شارح جلیل القدر محدث ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب فتح الباری( ص ۲۳۶ج۱۲) میں لکھتے ہیں: ابن المنذر نے اس بات پر علماء کا اتفاق نقل کیا کہ جو نبی ا کو گالی دے، اسے قتل کرنا واجب ہے ۔ ائمہ شوافع کے معروف امام ابو بکر الفارسی نے اپنی کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی ا کو تہمت کے ساتھ برا کہے، اس کے کافر ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے،وہ توبہ کرے تو بھی اس کا قتل ختم نہ ہوگا کیونکہ قتل اس کے تہمت لگانے کی سزا ہے اور تہمت کی سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔
امام احمد بن حنبل کا مذہب
”جو شخص رسو لِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ ا کی توہین کرے، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، تو وہ واجب القتل ہے۔میری رائے یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کامطالبہ نہ کیا جائے“۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں: ہر آدمی جو ایسی بات کرے جس سے الله تعالیٰ کی تنقیصِ شان کاپہلو نکلتا ہو، وہ واجب القتل ہے؛ خواہ مسلم ہو یا کافر، یہ اہلِ مدینہ کا مذہب ہے۔ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ الله اور اس کے رسول ا کی طرف گالی کا اشارہ کرنا ارتداد ہے، جو موجبِ قتل ہے۔یہ اسی طرح جیسے صراحتاً گالی دی جائے۔علامہ ابن ِتیمیہ اپنے امام کا عقیدہ ارقام فرماتے ہیں:
”ابوطالب سے مروی ہے کہ امام احمد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو۔ فرمایا : اسے قتل کیا جائے، کیونکہ اس نے رسول کریم ا کو گالیاں دے کر اپنا عہد توڑ دیا“۔
حرب کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد  سے ایک ذمی کے بارے میں سوال کیاکہ جس نے رسول کریم ا کو گالی دی تھی۔ آپ نے جواب دیاکہ اسے قتل کیا جائے“۔
امام احمد نے جملہ اقوال میں ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کی تصریح ہے، اس لیے کہ اس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ اس مسئلہ میں ان سے کوئی اختلاف منقول نہیں۔
(الصارم المسلول، ص۲۷۔۲۸، اردو ترجمہ)
خلاصہ یہ ہے کہ رسول کریم ا کو گالی دینے والے، آپ ا کی توہین کرنے والے کے کفر اور اس کے مستحقِ قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک ،امام شافعی، امام احمد بن حنبل) سے یہی منقول ہے۔ (فتاویٰ شامی ، ج۳، ص۳۲۱)
ائمہ اربعہ کی تصریحات کے بعد چاروں مذاہب کے جیّد اور محقق علمائے کرام نے اس خاص مسئلہ پر چار انمول کتب تصنیف فرما کر اتمامِ حجت کر دیا ہے اور ان میں گستاخِ رسول کی سزا اپنے اپنے زاویہ نظر سے ”حداً قتل“ قرار دی گئی ہے۔ ان کتب کے نام درج ذیل ہیں:
۱․․․ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ا ، مرتبہ قاضی عیاض اندلسی مالکی متوفی ۵۵۴ھ،
۲․․․ الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، مولفہ امام حافظ ابنِ تیمیہ حنبلی متوفی ۷۲۸ھ
۳․․․ السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول ،مولفہ امام تقی الدین سبکی شافعی متوفی ۷۵۶ھ
۴․․․ تنبیہ الولاة وا لحکام علیٰ احکام شاتم خیر الانام ا ، علامہ شامی حنفی
نبیِ پاک ا کی سنت کی مخالفت بھی کفر ہے
”اگر کسی شخص نے بیان کیا کہ ناخنوں کا کاٹنا نبی علیہ السلام کی سنت ہے اور سننے والے نے کہا ٹھیک ہے سنت تو ہے مگر میں پھر بھی نہیں کاٹتا، اس سے بھی وہ کافر ہو جائے گا۔“(خلاصة الفتاوٰی، ج۴، ص۳۸۶)
امام ابو یوسف  کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ خلیفہ مامون کے سامنے بیان کیا گیا کہ نبی ا کدو پسند فرماتے تھے۔ ایک آدمی فوراً بولا: میں اسے پسند نہیں کرتا ۔ حضرت امام ابو یوسف نے حکم دیا کہ تلوار اور چمڑا لایا جائے (جو قتل کے لئے منگوایا جاتا ہے) اس آدمی نے کہا میں نے جو کچھ ذکر کیا اس سے اور تمام موجبات کفر سے استغفار کرتا ہوں۔اشہد ان لا الہ اللّٰہ و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ۔امام ابو یوسف نے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا۔اسی قسم کا ایک واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ مامون کے زمانے میں ایک شخص سے پوچھا گیا کہ اگر کسی نے جولاہے کو قتل کیا تو کیا حکم ہے ؟جواب دینے والے نے (قتل کے حکم ِ شرعی کا) مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ایک خوبصورت تروتازہ باندی دینی ہوگی۔ مامون نے یہ جواب سنا تو جواب دینے والے شخص کی گردن اڑانے کا حکم دیا جس پر عمل کیا گیا اور مامون نے کہا کہ یہ شریعت کے احکام کا استہزاء ہے اور شریعت کے کسی بھی حکم کا مذاق اڑانا کفر ہے۔“ (شرح الفقہ الاکبر للقاری  ص۱۳۲تا ص۱۳۴)
دیوبندی مسلک کے فتاویٰ
حکیم الامة حضرت مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
” انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی اور اہانت کرنا کفر ہے“ (امداد الفتاویٰ ، ج۵، ص۳۹۳)
فتاویٰ دارالعلوم دیو بند میں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی طرف فواحش کی نسبت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: ” یہ کفر ہے، کیونکہ یہ چیز انہیں گالی دینے اور ان کی توہین و تحقیر کے برابر ہے۔“ ( فتاویٰ دارالعلوم دیو بند ، ص ۳۶۲، فتاویٰ عالمگیری مصری، ج۲، ص ۳۶۳ )
مولانا سیّد انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:
” مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے الله یا اس کے رسول ا کو گالی دی تو وہ کافر ہے“۔ (اکفار الملحدین ،ص۱۱۹ ، فتاویٰ شامی، ج۳، ص ۳۱۷)
شیخ العرب والعجم سیّد حسین احمد مدنی لکھتے ہیں :
”نبی کریم ا کے بارے میں الفاظ ِقبیحہ بولنے والا اگرچہ معنی حقیقتاً مراد نہیں لیتا بلکہ معنی مجازاً مراد لیتا ہے، تاہم ایہام گستاخی و اہانت و اذیت ذاتِ پاک حق تعالیٰ شانہ اور جناب رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی نہیں کہ اس میں گستاخی، اہانت اور اذیت کاوہم پایا جاتا ہے اور یہی سبب ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے لفظ ” راعنا“ بولنے سے منع فرمایا اور ”انظرنا“ کا لفظ عرض کرنا ارشاد فرمایا۔ پس ان کلماتِ کفر کے بکنے والے کو منع شدید کرنا چاہیے ۔اگر مقدور ہو اور اگر باز نہ آئے تو قتل کر دیا جائے کہ موذی حق تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرم ہے“۔(الشہاب الثاقب، ص۵۰، لطائفِ رشیدیہ ص۲۲)
غیر مقلدین کے فتاویٰ
مذاہبِ اربعہ کی ان بے پایاں تصانیف اور خدمت کے بعد غیر مقلدین کے مشہور و معروف اور معتبر عالم علامہ وحید الزماں بھی اس موقف کی تائید کر تے ہیں:
” کسی نبی کی تحقیر یا توہین کفر ہے ․․․․ مسلمان نہ جناب خاتمِ رسالت ا کے ساتھ بے ادبی کرنے کو گوارہ کریں گے اور نہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ، نہ کسی اور نبی کے ساتھ اور جو کوئی جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بے ادبی کرے گا، اس مردود کو بھی ہم اسی طرح ماریں گے اور قتل کریں گے جیسے حضرت محمدصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بے ادبی کرنے پر اسکو ماریں گے اور قتل کریں گے“۔(حاشیہ سنن ابنِ ماجہ، مترجم علامہ وحید الزماں، حاشیہ بربذکر البعاث، ص۳۹۶، مطبوعہ: الحدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)
بریلوی مسلک کا فتویٰ
مولانا احمد رضا خا ن صاحب بریلوی االاشباہ والنظائر کے حوالے سے لکھتے ہیں:
” نشے کی حالت میں کسی مسلمان کے منہ سے کلمہ کفر نکل گیاتو اسے کافر نہ کہیں گے اور نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی کریم ا کی شان میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشے کی بے ہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے“ ۔ (فتاویٰ رضویہ ج۶،ص۴۰)
گستاخِ رسول ا کے لیے معافی ایک دھوکہ ہے !
بعض اخباروں میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کارٹونسٹ نے معافی مانگ لی کہ ” اگر“ کسی کو تکلیف پہنچی ہو تومیں اس سے معافی چاہتا ہوں،حالانکہ معروف ہستیوں کے نام لے لے کر اُن کی توہین کرنا آزادیِ اظہار نہیں، لیکن پھر بھی معافی ایک دھوکہ ہے، کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ بار بار کیا گیاہے اور اس پر تمام دنیا کے اہل ایمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ”معافیاں“ مانگی گئی ہیں لیکن محسوس ہوتاہے کہ گستاخیاں کرنااور پھر اس پر ”معافی“ مانگناان کا وتیرہ بن چکا ہے۔ اللہ کے محبوب ترین ہستیوں کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کرنابھی الله کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ الله اور رسول ا کو ایذا پہنچانا، دنیااور آخرت میں اپنے اوپر، اپنے حمایتیوں پر، اپنے ہمنواوٴں پر بلکہ ساتھ میں بہت سے عوام پر بھی عذابوں کا مطالبہ کر لینا ہے۔ظاہر ہے کہ اوّل تو اُن سے معافی طلب نہیں کی گئی جس ہستی کو ایذا پہنچائی گئی۔دوسرے شریعت میں معافی کی گنجائش ہی نہیں اور وہاں سے معافی حاصل ہی نہیں ہو سکتی، تویہ سارے عالم کو دھوکہ دے کر اندھا بنانا ہے۔ پھر یہ کہ کارٹونسٹ اور اُس کے سرپرستوں کے بیان میں ”اگر“ کا لفظ بتا رہا ہے کہ اب بھی اُن کے نزدیک کوئی بات اہانت، تذلیل و تحقیر کی واقعی نہیں ہوئی، اگر کسی کو خوامخواہ تکلیف ہوئی ہو تو معافی چاہتے ہیں۔
ذرا غور تو کریں کہ معافی اور وہ بھی صرف اُس وقت کے متنبہ کرنے والوں سے اور پھر اپنی نظر میں غیر واقعی بات کہ ”اگر“ ہو تو، یہ کیا معافی مانگنا ہوا ، یہ تمام دنیا کو دھوکہ دینے کے سوا اور کیا ہے؟ یاد رکھئے الله تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ وہ دلوں کا حال خوب جانتے ہیں۔
دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کو جو اس وقت سخت اضطراب کی آگ میں بھن رہے ہیں اور تڑپ رہے ہیں، کیا اس دھوکہ سے ان کو کوئی سکون ہو سکتا ہے؟جب مسلمانوں کو شرعی طور پر معاف کرنے کا حق ہی نہیں ہے تو کیا وہ عذاباتِ الٰہی جو ایسے عرش ہلا دینے والے گناہوں پر بے قرار ہو کر برس پڑتے ہیں، اس سے ان کی کوئی رکاوٹ ہو سکتی ہے؟
احکامِ الٰہی، ارشاداتِ نبوی، اجماعِ امت ، قیاسِ شرعی، عقلِ سلیم، ہتکِ عزّت کا قانون تمام دنیا کی قوموں اور مملکتوں میں دیکھ چکے ہیں تو اس کے سوا کیا چارہ کار ممکن ہے کہ ان توہین کرنے والوں اور ایذا دینے والوں کے وجود سے زمین و آسمان کو پاک کر دیا جائے، یہی اصل توبہ ہے،چاہے و ہ بدبخت مسلمان ہو، ذمی ہو یا حربی کافر ہو۔
عقلی وجوہات
سب جانتے ہیں کہ رسول ا الله تعالیٰ کی منتخب وہ اعلیٰ ہستی ہیں جن کے لئے الله نے اس دنیا کو قائم کیا اور تمام انبیاء پر مقدّم رکھا، جو ان کی توہین کرے ، برا کہے یا مذاق اڑائے ایسے لوگ یا ا ن کاساتھ دینے والے آخر کیسے الله کے عذاب سے بچ سکتے ہیں ،یہ خدائی احترامات کو پامال کرنے کا جرم ہے جو انتہائی خطرناک اور ناقابلِ معافی گناہ ہے، چاہے ایسا کرنے والا پہلے مسلمان ہو پھر مرتد ہو کر دوبارہ اسلام قبول کر لے، چاہے ذمی یا حربی کافر ہو اورتوہین کرنے کے بعداسلام قبول کر لے ۔ اسی طرح توہین کرنے والوں کو بے قصور تصور کرنا یا پھر یہ کہہ کر ان کے جرم کو ہلکا کرنا کہ وہ توہین کرتے ہیں تو کسی وجہ سے نہیں بلکہ اُن کو اس بات کی اہمیت ہی معلوم نہیں کہ رسول ا ہمارے لئے کیا ہیں۔ یہ کہہ کر ان کو معاف کرنا اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا کہ توہین کرنے والاشخص گناہگار ہے ۔ کیونکہ برائی کو برُا نہ سمجھنا بھی گناہ ہی ہے، جس طرح ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ پھر کافر اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لئے کیا درجہ رکھتے ہیں، جبھی تو وہ اُن کی طرح طرح سے توہین کرتے ہیں۔
امام مالک فرماتے ہیں کہ ” اگر کوئی شخص اپنے نبی کی شان میں گستاخی سن کر خاموش رہے، تو وہ شخص بھی اُس نبی کی امّت سے خارج ہو جاتا ہے“۔
(تحفظ ناموسِ رسالت اور گستاخِ رسول کی سزا ، ص۳۲۳، شائع کردہ عالمی تحفظ ختم نبوت، ملتان)
ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ معمولی آدمی کی ہتکِ عزت بڑا جرم ہے اور ہر حکومت میں یہ جرم قابلِ سزا ہوتا ہے۔اور جب ہتکِ عزت انتہائی معززین کی ہو تو انتہائی سزاوئں کا مستحق ہوتا ہے۔
تمام قوموں سے ایک سوال
اسرائیل ہو یا ساری دنیا، مشرق و مغرب ،شمال وجنوب کی کوئی مملکت یا اقوامِ متحدہ یا کوئی ادارہ جس میں انسانیت کی کوئی رمق باقی ہو، بلکہ دنیا بھر کے ہر ہر فرد سے یہ سوال ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا دوسرے دین کا کوئی فرد آپ کے نبیوں، مقتداؤں، دین کے ستونوں اور ان کے اہلِخانہ کے نام لے لے کر یہ انتہائی برا کام کرے کہ ایک دن کو مقرر کر کے کارٹون ڈے منائے اور اس کو کرنے سے پہلے اعلان کرے کہ جو بھی حصہ لینا چاہے اسے دعوت عام ہے، اور آپ کو اس پر طاقت و قدرت حاصل ہو تو آپ اُس کے ساتھ کیا کریں گے؟
اگر یہ حرکت عالمِ انسانیت کسی طرح اپنے لئے قطعی برداشت نہیں کر سکتی تو اُس وقت وہ انسانیت کہاں غائب ہو جاتی ہے جب ہمارے پیارے نبی ا کی بات آجاتی ہے؟ کیا آپ برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اُس وقت آگ بگولہ نہ ہوں گے؟
مسلمانوں سے سوال
الله اور اس کے رسول ا کو ایذا دینے والوں سے متعلق قرآنی آیات آپ کے سامنے ہیں۔ رسول ا اور صحابہ کرام کا گستاخوں کے ساتھ معاملہ آپ کے علم میں آ گیا۔ احکاماتِ فقہ، فتاوی ائمہ، علماء کے ردعمل اور اجماعِ امت سے واقف ہونے کے بعد اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ توہینِ رسالت کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں اور معافی کا کوئی تصوّر نہیں۔
آخر ہم نے اپنے پیارے نبی ا کی ناموس کی حفاظت کا اب تک کتنا حق اداکیا؟ وہ نبی ا جو تمام عمر یہی دعا کرتے رہے کہ یا الله !میری امّت کو بخش دے اور جب اس دنیا سے تشریف لے جانے لگے تو اُن کے لبوں پر یہی الفاظ تھے کہ یا الله! میری امّت کو بخش دے۔ نہ کبھی اپنے لئے الله پاک سے سوال کیا نہ اپنی اولادوں کے لئے کچھ مانگا ، ہمیشہ امّت کا غم دل میں رکھا۔ وہ جن کی دعاوئں سے آج ہم اجتماعی تباہی سے بچے ہوئے ہیں، ورنہ وہ کون سا گناہ ہے جو امّت ِمحمد یہ نہیں کر رہی جن کی وجہ سے پچھلی قوموں کو الله جل شانہُ نے عذاب میں پکڑا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ہم ایسے کریم شفقت کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسے الفاظ یا توہین آمیز خاکے کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟ اپنی بزدلی اور ایمانی کمزوری کا اقرار کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلّی دے لیتے ہیں کہ اب تو انہوں نے معافی مانگ لی، حالانکہ شریعت میں اِس جرم کی تو معافی ہے ہی نہیں۔
دین ہم تک پہنچانے والے کی ناموس کی حفاظت کے لئے ہم کھڑے نہ ہوئے تو ہمیں مسلمان کہلانے کا کیاحق ہے۔یہ آیت شاید ہم جیسوں کے لئے ہی نازل ہوئی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: یہ گنوار کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے۔تم کہہ دو کہ ابھی ایمان تو تمہارے دلوں میں اُترا ہی نہیں، بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے۔ (الحجرات، ۱۴)
آج ہمارا زمانہ بھی صحابہ کے دور سے قریب تر ہے۔جو اجر صحابہ کرام نے سمیٹ لیا اب وہ کوئی اور نہیں پا سکتا، انہوں نے اسلام کی بنیاد رکھی، انہوں نے اُس وقت دین کو تقویت دی جب چاروں طرف کفر کی ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے چار وں طرف پھیلے کافروں سے ٹکر لی، خاص طور پر اُس وقت کی دو بڑی سلطنتوں روم اور فارس کی شوکت کو توڑا۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کو بلاواسطہ رسول الله کی صحبت نصیب ہوئی ۔آج اسلام پھر غریب الوطن ہے ۔آج ہمارے زمانے میں بھی ساری دنیا پر عالمِ کفر چھایا ہوا ہے اور کہنے کو تو بہت سارے اسلامی ممالک بھی ہیں، لیکن کسی بھی ملک میں شرعی اسلامی حکومت نہیں ہے ، ہر اسلامی ملک نے سربراہ چننے کا جو نظام اپنایا ہوا ہے ،اس میں کسی صورت عالمِ کفر کی مرضی کے برخلاف کوئی اسلامی ذہن رکھنے والا شخص منتخب ہی نہیں ہو سکتا۔یہ اور بھی خطرناک وقت ہے کہ الله کی زمین پر الله کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کرنے والوں کوصرف کفار سے ہی نہیں ٹکرانا ہوتا ہے بلکہ ان کی حفاظت کرنے والے مسلمان اتحادیوں کی مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا زمانہ بعینہ صحابہ کی طرح نہیں پھر بھی ان سے مماثلت رکھتا ہے ۔ہم میں سے اکثر یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہم اگر دورِ صحابہ میں ہوتے تو اسلام کی فلاں خدمت کرتے، رسول ا کی خدمت کر کے انوارات سمیٹتے۔ ذرا آنکھ بند کر کے تصّور کریں ، نبی ا اپنے روضے مبارک میں تشریف فرما ہیں، فرشتے امت کے اعمال اور حالات آپ ا کو پیش کر رہے ہیں۔رسول ِپاک صلی اللہ علیہ وسلم د ل گرفتہ ہیں․․․ ہاں مدینے کی طرف کان لگا کر سنیں․․․ رسو ل الله صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں:” من یکفینی عدوی“میرے شمن کی خبر کون لے گا؟ یہ ہم کو ایذا دیتے ہیں۔ اب آنکھ کھول لیں ․․․ ہاں ، اب آنکھ کھول ہی لیں، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، آپ میں ایمان کی کتنی رمق باقی ہے؟ یقینا ہر مومن کہے گا ” میں حاضر ہوں اے الله کے ر سول ا “۔
ایک حدیث میں نبی ا نے فرمایا ” آخری وقتوں میں لوگوں کی ایک ایسی نسل ہو گی کہ جن میں سے ایک کا اجر پچاس کے برابر ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا کہ ہم میں سے پچاس یا اُن میں سے پچاس۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے پچاس“۔ (الله ہمیں فتح کے لیے تیار کر رہا ہے“، امام انورالعلوقی)
اتنے زیادہ اجر کا ذکر کیوں فرمایا․․․ حالات کی سختیوں کی وجہ سے۔ توجب اجر بٹنے کا وقت ہے پھر پیچھے رہنا کون چاہے گا۔ہاں !جنت کے اعلیٰ درجات تو قربانیوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا سوچیں اورسمجھیں اپنے اعمال پہ نظر کریں، اپنی صلاحیتوں کو ٹٹولیں اور دین کی سربلندی اور ناموس ِرسالت ا کی حفاظت کے لئے استعمال کریں۔ رسول ا کو کافروں سے اتنی تکلیف نہیں پہنچتی جتنی اپنی امّت کے رویہ سے پہنچتی ہے۔ اس دنیا سے آگے بھی ایک دنیا ہے، جہاں ہمیں جانا ہے، کسی کی سفارش یا مصلحت کام نہیں آئے گی، اس دنیا میں تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر وہاں الله تعالیٰ سب کھول کر رکھ دیں گے۔ جو صراطِ مستقیم پر چلے گا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرے گا اُسی کا بیڑا پار ہو گا۔

بشکریہ ماہنامہ بینات کراچی

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں