انکارِ حدیث کیوں؟3

Jan
18

انکار حدیث کیوں؟  فقیہ العصر مولانا یوسف لدھیانوی شھید رحمتہ اللہ علیہ کی  ایک  نادر کتاب آخری حصہ پیش خدمت ہے

(۳) عہدصحابہ رضی اللہ عنہم میں حدیث کا مقام

قرآن وحدیث کے بعد ہمارے سامنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تعامل ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے حالات پر صحیح غور وفکر کا جن لوگوں کو موقع ملا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی سیرت کا ایک ایک باب اخلاص وانقیاد اور اتباع وامتثال کا حسین مرقع ہے۔ ان کی ہر ادا سے اتباع نبوی کی شان ٹپکتی ہے۔ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے مشرف ہی اس لئے کیاگیا تھا تاکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وعادات، عبادات ومعاملات اور آپ کے اسوئہ حسنہ کو اپنی ذات میں جذب کرکے حسب استعداد آپ کے رنگ میں رنگین ہوجائیں اور بعد میں آنے والی امت کو اس رنگ میں رنگین کرتے چلے جائیں۔

معلّم انسانیت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ان بلاواسطہ شاگردوں کے متعلق یہ تصور کرنا کتنا گندا اور مکروہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور احادیث کو کوئی مرتبہ نہ دیتے تھے۔ العیاذ باللہ، کج ذہنی اور خام عقلی کی حد ہے کہ تلاش کرنے والے اسی ذخیرہ حدیث سے جو سب کا سب صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے مروی ہے۔ آج ایسی روایات تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جن سے ثابت کیا جائے کہ معاذ اللہ صحابہ کرام حدیث نبوی کے دشمن، تعلیم نبوت کے مخالف اور سنت رسول کے مٹانے والے تھے۔ تعجب عقل وفہم کے ان مریضوں پر نہیں، بلکہ حیف ان نادانوں پر ہے جو ان دیوانوں کے ہذیانات پر وحی الٰہی کی طرح ایمان لاتے چلے جاتے ہیں۔

”دیوانہ گفت آبلہ باور کرد“

کیا کسی کی عقل باور کرسکتی ہے کہ جس امی قوم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الرسول کی حیثیت سے کھڑا کیاگیا تھا اسی قوم میں سے جن حضرات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق دی گئی، آپ کی خدمت کے لئے جن کو چن لیا گیا، آپ کی حمایت اور نصرت کے لئے جن کو اٹھایاگیا اور آپ پر مرمٹنے ہی کے لئے جن کو آپ کے زمانہ میں پیدا کیاگیا، کیا وہ دنیا میں لائے ہی اس لئے گئے تھے کہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی ایک ایک سنت کو مٹاڈالیں۔ آپ کی سیرت کا ایک ایک ورق دھوڈالیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل علم وعمل، سیرت وکردار، اخلاق وعادات اور قضایا واحکام میں سے ایک ایک کو بدل ڈالیں۔ کتابیں پڑھنے اور پڑھ پڑھ کر خدا کی مخلوق کو گمراہ کردیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی میں انکار حدیث کی روایات تلاش کرنے سے پہلے کیا اتنی عقل سے کام لینا ضروری نہیں تھا کہ صحابہ کرام کو صحابہ بنایا کس مقصد کے لئے گیا تھا اور بعد میں آنے والے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو پیدا نہیں کیاگیا اس میں کیا حکمت ہے۔

جن نفوس قدسیہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لئے منتخب کیاگیا، مسلسل تیئس سال تک امتحان اور آزمائش کی بھٹی میں جن کو نکھارا گیا، جن کو تعلیم وتربیت، تزکیہ وتطہیر، اصلاح و تکمیل کیلئے عالم انسانیت کے سب سے بڑے معلّم، سب سے بڑے مصلح صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیاگیا، خداوند قدوس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی آخری شریعت کا سب سے پہلا امین اور محافظ جن کو بنایاگیا اور طویل مدت تک اسوئہ حسنہ کا رنگ جن کی زندگی کے ہر خاکہ میں بھراگیا۔ مسجد نبوی کے علاوہ بدر کے میدانوں، احد کی پہاڑیوں۔ حدیبیہ کی وادیوں، حنین کی گھاٹیوں اور تبوک کے کھنڈرات کو جن کے لئے تعلیم گاہ قرار دیاگیا۔ کیا انہی کے متعلق عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہوجانے کے بعد قرآن کے سوا وہ اپنے نبی کی ہر تعلیم سے بیگانہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرسنت سے نا آشنا ہوگئے ہوں گے۔ اور ان کے نزدیک آپ کی احادیث کا مرتبہ محض بے سروپا داستان سرائی ہوگا۔ استغفراللہ! پیش کرنے والے (حکام وقت کی رضا جوئی کے لئے) اسی نظریہ کو جو پیش کررہے ہیں بتلایا جائے کہ فساد ذہن اور خلل دماغ کے سوا، عقل اس کی کیا توجیہہ کرسکتی ہے؟ نعوذ باللّٰہ من فتنة الصدور۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین جنھوں نے ایک ہی ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لئے بیوی بچوں سے جدا ہوجانا گوارا کیا، خویش واقربا کو چھوڑا، قبیلہ اور قوم سے منہ موڑا، ملک بدر ہوئے، جاہ وجلال اور زر ومال کو بھی خیرباد کہا، الغرض جو پوری کائنات سے کٹ کر ایک ہی ذات کے قدموں میں آپڑے تھے، جو جلوہ ہائے رنگارنگ سے ہٹ کر ایک ہی جلوہ جہاں آرا پر نظریں جماچکے تھے، جو ایک ہی مطاع کے سامنے مٹ کر اپنی زندگی کو ایک ہی زندگی میں فنا کردینے کا عزم کرچکے تھے، جو ایک ہی مقتدا کی اتباع میں اپنی تمام خواہشات سے دست کش ہوجانے کا فیصلہ کرچکے تھے، جن کی وارفتگی کو دیکھ کر حقیقت ناشناس ان کے بے عقل وناداں اور رفتار زمانہ سے ناواقف ہونے کا طعنہ دیا کرتے۔ جیساکہ قرآن میں ہے کہ کافر اور منافق لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھ کر کہتے تھے ﴿غَرّ ہوٴلاءِ دینَہُمْ﴾ ”ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا“

﴿أنُوٴمِنُ کما اٰمن السفہاءُ﴾ (القرآن)

”کیا ہم نبی اور نبی کی ہر بات کو ایسا مان لیں جیسا یہ کم عقل مان بیٹھے ہیں“۔ جن صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی جاں نثاری کا تماشہ وقت کے سب سے بڑے دشمن سے بھی خراج عقیدت وصول کرلیا کرتا تھا۔

زید بن وثنہ کو جب برسرِدار کھینچنے کے لئے میدان میں لایاگیا، تو ابو سفیان نے (جو بعد میں رضی اللہ عنہ کا مصداق بنے) کہا، صرف اتنا لفظ زبان سے کہہ دو کہ کاش میری جگہ ”محمد رسول اللہ ہوتے“ تو تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن کسی کی محبت میں تختہ دار جس کے لئے تیار کیاگیا تھا، جانتے ہو اس کی زبان سے کیا لفظ نکلا۔

”واللّٰہِ مَا أحبُّ انَّ محمدًا الآن فی مکانہ الذی ہُوَ فیہ تُصیبہ شوکةٌ وأنا جالِسٌ فی أہلی۔(الشفاء بتعریب حقوق المصطفٰی، قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ)

”بخدا مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ اب تشریف فرما ہیں، اس جگہ آپ کو کانٹا چبھے اور میں اپنے گھر بیٹھا رہوں۔“

اس جاں گداز فقرے کو سن کر پتھر دل مجمع تڑپ گیا۔ ابوسفیان کو اقرار کرنا پڑا اور اقرار صرف اسکے متعلق نہیں جس سے یہ فقرہ سنا گیا بلکہ پوری ایمانی برادری کے متعلق ابوسفیان کا اقرار ہے۔

”ما رَأیتُ مِنَ النَّاسِ یُحِبُّ أحَدًا کَحُبِ أصْحاب محمدٍ مُحمَدًا صلی اللہ علیہ وسلم۔

”محمد کے صحابہ محمد کے ساتھ جس قدر محبت کرتے ہیں، میں نے ایسی محبت کسی کو کسی کے ساتھ کرتے نہیں دیکھا۔“

جو حضرات اپنے باپ کا سرکاٹ لانے کے لئے محض آپ کے اشارہ چشم کے منتظر رہا کرتے تھے، جو عمر بھر گریبان کھلا رکھنے کے اس وجہ سے عادی ہوگئے تھے کہ کسی کو انھوں نے ایک دفعہ کھلے گریبان دیکھ لیا تھا، جو سر کے بال اسلئے نہیں کٹواتے تھے کہ کسی کا ہاتھ ایک دفعہ ان بالوں پر پھر گیا تھا۔ جو خاص قسم کی سبزی کے اسلئے گرویدہ ہوگئے تھے کہ اس کی رغبت ان کو کسی میں محسوس ہوگئی تھی۔

سوچنا چاہئے کہ ان کا حال اس محبوب کے ساتھ کیا ہوگا اوراس محبوب کے ارشادات کی ان کے نزدیک کیا قدروقیمت ہوگی۔ سچ تو یہ ہے اور اس کا صحیح اندازہ بھی بیچارے بعد میں آنے والوں کو کب ہوسکتا ہے اور ان جذبات واحساسات کی پوری تصویر کشی بھی کب ممکن ہے۔ بالخصوص جب اس پر بھی نظر کرلی جائے کہ جس جلوہ جہاں آرا کی زیارت سے دیدہ ودل کی روشنی کا سامان ان کو میسر ہوا کرتا تھا، اب وہی ان کی نظروں سے پردہ میں جاچکا تھا، جس شمع عالم افروز پر پروانہ وار جانثاری کا منظر وہ رات دن پیش کیا کرتے تھے۔ وہی شمع عالمتاب اب محفل سے اٹھائی جاچکی تھی۔ ان کے ہر درد کا درماں جس چہرئہ انور کی زیارت تھی، وہی ان کے سامنے سے اوجھل ہوگیا تھا، ان حالات میں ان کے زخمِ دل کا مرہم اور داغِ جگر کا مداوا بجزتکرار حدیث یار ہوبھی کیا سکتا تھا؟

ما ہرچہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم

اِلاّ حدیث یار کہ تکرار مے کنیم

راقم الحروف کو چند گھنٹوں کے لئے ایک معمر خاتون کی خدمت میں حاضری کا اتفاق ہوا۔ ان کے والد ماجد ایک پختہ عالم اور درویش طبع انسان تھے۔ والد ماجد کی تعلیم سے زیادہ تربیت کا ان پر گہرا اثر تھا۔ اسی خاتون کو میں نے دیکھا کہ بار بار ان کی زبان سے بے ساختہ نکل جاتا۔ ابّا جی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ابّاجی یہ مسئلہ اس طرح بیان کیاکرتے تھے۔

میں تنہائیوں میں باربار سوچتا ہوں کہ یا اللہ! جو خوش قسمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاواسطہ تربیت یافتہ تھے بلکہ مجھے اجازت دی جائے تو میں کہوں گا کہ جن حضرات کی تعلیم وتربیت کا سامان خود رب العزت جلّ مجدہ کی جانب سے کیا جارہا تھا اور قدم قدم پر جن کی تربیت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار ہدایات فرمائی جارہی تھیں جیساکہ قرآن حکیم کی آیات شاہد ہیں، ملائکة اللہ کو جن کی تثبیت (ثابت قدم رکھنے) کے لئے بھیجا گیا تھا، الغرض وحی اور صاحب وحی جس کی تربیت کے نگراں تھے ان کی تربیت کا رنگ کتنا گہرا، کتنا پختہ، کتنا پائیدار اور کتنا انمٹ ہوگا؟ (صِبْغَةُ اللّٰہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِن اللّٰہ صبغة)

سوچا نہیں جاتا جس آفتاب نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرنیں، آج چودہ صدیوں کے فاصلے پر بھی کروڑوں قلوب کو روشن اور تابناک کررہی ہیں وہی آفتاب خوش قسمتی سے جن کے گھر طلوع رہا ان کے آئینہ قلب کی روشنی کا کیا عالم ہوگا۔ لمبی لمبی راتوں میں تڑپنے والے قلب کی حرارت جب ہزار سال بعد بھی بے شمار دلوں کو گرما اور تڑپا رہی ہے جن کے سامنے وہ تڑپایا جاتا تھا اور اس کے سینے سے ہنڈیا پکنے کی آواز جن کو ان ناسوتی کانوں سے سنائی دیا کرتی تھی ان کی گرمیٴ باطن اور سوزِ دروں کا کیا حال ہوگا۔ ان باتوں کو کہاں تک بیان کیا جائے۔

حسن ایں قصہٴ عشق است در دفتر نمی گنجد

بہرکیف عقلیں اگر ماؤف نہیں ہوگئیں، دماغوں سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں اگر بالکلیہ رخصت نہیں ہوگئیں تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان حالات میں جن کا ایک شمّہ نقل کرچکا ہوں، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے متعلق کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے محبوب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ادائیں یکسر بھول گئے ہوں گے یا وہ ان کو قصہ کہانی سے زیادہ کوئی وقعت نہ دیتے ہوں گے لَقَد جئتُمْ شیئاً ادَّا لوگوں کو آج تعجب ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک جملہ حدیث کی تصدیق و تائید کے لئے ایک ایک ماہ کی طویل مسافت کیسے طے کیاکرتے تھے، وہ طلب حدیث کے نشہ میں گرما وسرما کی شدتوں سے بے پروا کیسے ہوگئے تھے، صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کا نام زبان پر جب آجاتا ان کا رنگ کیونکر بدل جاتا تھا، ان کے بدن پر لرزہ کیوں کر طاری ہوجاتا تھا، ان پر گریہ وزاری اور رقت وبے قراری کی کیفیت کس لئے طاری ہوجاتی تھی!

ہائے! تعجب سے سرپیٹنے والے ان نادانوں کو کس طرح سمجھایا جائے کہ عشق نبوی کی جوآگ ان کے دلوں میں لگادی گئی تھی اس کا نتیجہ اس کے سوا ہوبھی کیا سکتا تھا؟

حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم

یہاں تک جو بیان کیاجاچکا ہے اس سے ہر ذی شعور عقل سلیم کی روشنی میں فیصلہ کرسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تعلق حدیث اور صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسا تھا۔ اب اس طرف توجہ منعطف کرانا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن حکیم کے بعد حدیث نبوی کو دینی حجت قرار دیتے تھے۔ یعنی جس طرح قرآن کریم کا ہر فیصلہ ناطق ہر حکم واجب العمل اور ہر فرمان واجب الاطاعت ہے، (بشرطیکہ منسوخ نہ ہو) کتاب اللہ کے بعد ٹھیک یہی حیثیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک حدیث رسول کی تھی۔ ان کا ایمان اور عقیدہ یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فیصلہ ہر حکم ہر ارشاد اور ہر فرمان وحی خداوندی ہے۔ ان کے نزدیک جس طرح قرآنی بینات سے اعراض کرنے والوں کے لئے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، حدیث اور سیرت کی کتابوں میں صحابہ کرام کی زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ انھوں نے کسی حدیث کو صرف اس وجہ سے رد کردیا ہو کہ معاذ اللہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا ان کے لائے ہوئے دین میں کوئی مقام نہیں، اس لئے نہ ہمارا حدیث پر ایمان ہے نہ وہ ہمارے لئے دینی سند ہے۔ اس قسم کے نظریات کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب کرنے والے افترا پرداز جس ملحدانہ نجاست سے صحابہ رضی اللہ عنہم کرام کے دامن کو آلودہ دیکھنا چاہتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی تدبیروں کے باوجود ناکام رہیں گے۔ (وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال)

واقعہ جیش اُسامہ (رضی اللہ عنہ)

نظر صحیح سے اگر کام لیا جاتا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں پیش آنے والا صرف ایک واقعہ ہی حدیث سے متعلقہ تمام شکوک وشبہات کو دفع کرنے کیلئے کافی ثابت ہوتا۔ میرے نزدیک خلافت کی ذمہ داری قبول کرلینے کے بعد حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا پہلا کارنامہ مرتبہٴ حدیث کی تعیین اور مقام سنت کی تشخیص تھا۔ میرا اشارہ جیش اُسامہ رضی اللہ عنہم کے واقعہ کی طرف ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری ایّام میں سرحد شام کی طرف بھیجنے کے لئے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کی امارت میں لشکرتیار فرمایا۔ مدینہ طیبہ سے کچھ فاصلہ پر مقام جرف میں یہ لشکر ابھی جمع ہورہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا سانحہ کبریٰ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر ملال کی خبر سن کر یہ سارا لشکر مدینہ طیبہ واپس آگیا۔

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہم کو دوبارہ تیاری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

”اَنفِذْ فِیْ وجہکَ الذی وجّہک فیہ رَسُولُ اللّٰہ“

(جس مہم کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو روانگی کا حکم دیا تھا اس کیلئے روانہ ہوجاؤ)

چنانچہ لشکر دوبارہ اسی جگہ جمع ہونا شروع ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حالات کس قدر نازک ہوچکے تھے اس کا کچھ اندازہ آج بھی تاریخی وثائق سے کیا جاسکتا ہے۔ حالات کی اسی نزاکت کے پیش نظر کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کو لشکر اسامہ کا بھیجا جانا شاق گذرا۔ حضرت عمر، عثمان، ابوعبیدہ، سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم جیسے اہل حل وعقد صحابہ کا وفد بارگاہ خلافت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔

”اے خلیفہ رسول اللہ! عرب آپ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑے ہیں۔ اس مٹھی بھر لشکر کو منتشر کردینا خلاف مصلحت ہے۔ براہ کرم اس لشکر کو مرتدین کے مقابلہ میں بھیجئے اور لشکر کا کچھ حصہ مدینہ طیبہ کی حفاظت کے لئے یہاں رکھئے۔ دشمن کی طرف سے براہ راست مدینہ طیبہ پر اگر حملہ کردیا جائے جس کا ہر وقت اندیشہ ہے تو آپ عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا کیا انتظام کریں گے؟ روم سے سردست ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ ان کی طرف پیش قدمی ضروری ہو اس لئے بہ مقابلہ روم لشکرکشی میں اگر توقف کرلیا جائے تو کیا مضائقہ ہے پہلے مرتدین سے نمٹ لیا جائے پھر آپ بصدخوشی اسامہ کو بھیج سکتے ہیں۔“

نہیں کہا جاسکتا کہ اراکین وفد نے حالات کی الجھن کو کس بے چینی کے ساتھ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا ہوگا۔ کس قدر مبسوط تقریریں ان کی جانب سے اس موضوع پر کی گئی ہوں گی اور کس قسم کے دلائل سے اپنا موقف سمجھانے کے لئے انھوں نے استدلال کیا ہوگا۔ البتہ روایت کے الفاظ سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ ارکان وفد کے پاس ترکش سخن کا کوئی تیر باقی نہیں رہ گیا تھا جس کو انھوں نے استعمال نہ کرلیا ان کی پوری تقریر سن کر خلیفہ اسلام نے استفسار فرمایا: ”ہَلْ مِنْکُمْ أحَدٌ یُریدُ أن یقُولَ شیئًا“

”آپ حضرات میں سے کوئی صاحب کچھ اور تو نہیں کہنا چاہتے“

وفد کے تمام ارکان نے بیک زبان کہا ”نہیں“ ہمیں جو کچھ کہنا تھا وہ آپ سن چکے ہیں۔

حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سننے سے پہلے اس پر غور کیجئے کہ اُسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو بھیجنے یا نہ بھیجنے کا مسئلہ بظاہر ایک وقتی اور ہنگامی قسم کا مسئلہ تھا پھر جن حالات میں یہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم لشکر اسامہ کو روک لینے کا مشورہ دے رہے تھے ان حالات میں ان کا مشورہ اس کے سوا ہوبھی کیا سکتا تھا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا جانشین جس کو بنایاگیاتھا اس کے نزدیک یہاں بحث کسی خاص لشکر کی نہیں بلکہ فیصلہٴ نبوت کی تھی۔ عوام نہیں بلکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم اور مہاجرین اولین کے نزدیک بھی صرف ایک لشکر کے نہ بھیجنے کا سوال تھا اور جن حالات میں یہ مشورہ ان کی طرف سے پیش کیا جارہا تھا، بعد کے نتائج کو اگر سامنے نہ رکھا جائے تو ہر دیکھنے اور سننے والا ان کے اس مشورہ کو مبنی بر صواب قرار دینے پر مجبور ہوگا۔ لیکن نبی کے وصال کے بعد یتیم امت کا سربراہ اور متولی جس کو بنایا گیا تھا۔ اس کے نزدیک یہاں کسی لشکر کے بھیجنے یا نہ بھیجنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ اس کے نزدیک اصل سوال صرف یہ تھا کہ لشکر اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو روم بھیجنے کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں اور حالات کچھ ہوجائیں، آسمان ٹوٹ پڑے، زمین شق ہوجائے، پہاڑ ہل جائیں اور دنیا تہہ وبالاہوجائے لیکن پوری امت کے مقتداء اور پوری امت کے امام کے لئے کیا یہ گنجائش ہوسکتی ہے کہ فیصلہٴ نبوت کوبدل دے۔ نہیں! ہرگز نہیں۔ یہی اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم جو نازک ترین حالات کا حوالہ دے کر لشکر اُسامہ کے روک لینے کا مشورہ دے رہے تھے، وہ وہی سن رہے تھے (خدا ان پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے کہ ان کے طفیل آج ہم اور آپ بھی سن رہے ہیں) کہ خلیفہ اسلام ان کے جواب میں فرمارہے ہیں۔

”والذی نفسی بیدہ لو ظننتُ أنّ السباعَ تأکُلنِی بالمدینة لأنفذتُ ہذا البعث ولا بُدّ أنْ یوٴب مِنہ کیف ورسُولَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عَلیہ الوحیُ مِن السماءِ یقُولُ أنفِذُوا جَیش أسَامة“ (حیات الصحابہ،ج:۱،ص:۴۱۰)

ترجمہ: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر مجھے اندیشہ بھی ہو کہ اس لشکر کو بھیج دینے کی صورت میں مجھے درندے کھا جائیں گے تب بھی میں اس لشکر کو بھیج کر رہوں گا اور اسے وہاں سے ہوکر ہی آنا ہوگا میں اس لشکرکو بھیجنے سے کیسے رُک جاؤں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آسمان سے وحی نازل ہورہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر کو بھیجو۔“

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عقیدہ!

حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس پُرحکمت ارشاد میں اسلام کے کتنے بڑے اصول کو بیان کردیا گیا۔ تفصیل تو اس کی شاید کسی دوسرے موقع پر کرسکوں گا لیکن اجمالاً اتنا تو یہاں بھی سمجھ ہی لینا چاہئے کہ نبی کی پوری امّت اور علماء امت کا عقیدہ کہ وحی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وحی جلی جسے قرآن کہا جاتا ہے دوم وحی خفی جسے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول وفعل بھی وحی الٰہی میں مندرج ہے۔ آپ جو کچھ کہتے تھے اپنی خواہش اور رائے سے نہیں کہتے تھے۔ بلکہ وحی الٰہی اور مرضی خداوندی کی روشنی میں کہتے تھے۔ اسی طرح جو فعل بھی آپ سے صادر ہوتا تھا۔ وہ بھی ہوائے نفس اور تقاضائے ہوس سے نہیں بلکہ وحی خداوندی کے تحت ہوتا تھا۔ یہ ناممکن تھا کہ معاذ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل یا ارشاد رضائے خداوندی کے خلاف ہو اور وحی الٰہی خاموش رہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال وافعال جسے حدیث کہا جاتاہے، کی حیثیت بھی وحی الٰہی کی ہے۔ بہرحال علماء اسلام کا یہ عقیدہ کہ حدیث نبوی وحی الٰہی وحی خفی ہے، کیا یہ عقیدہ کسی عجمی سازش کی پیداوار ہے؟ معاذ اللہ۔

حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ ”کیف ورسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزلُ علیہ الوحیُ مِن السماء۔

”اسامہ کا لشکر بھیجو۔ میں اس لشکر کو کیسے روک لوں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آسمان سے وحی نازل ہورہی تھی اور آپ فرمارہے تھے۔

”أَنفِذُوا جَیش أسَامة“ اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر بھیجو۔

میں کیا اس عقیدہ کا اظہار نہیں کیا جارہا۔ انفذوا جیش اسامہ کا جملہ جو لسان نبوت سے صادر ہوا۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی کسی آیت کا جزو نہیں لیکن امت کے سب سے پہلے خلیفہ سے آپ سن رہے ہیں کہ اکابر صحابہ کی موجودگی میں وہ اس کے وحی من السماء (آسمانی وحی) ہونے کا اعلان پوری قوت کے ساتھ کررہے ہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ خلیفہ اسلام کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم اورہر فیصلہ وحی من السماء میں داخل ہے اور جس طرح قرآن حکیم وحی الٰہی ہونے کے سبب ملت اسلامیہ کے لئے دینی حجت ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فیصلہ دینی سند ہے جس طرح قرآن حکیم کا متبع وحی الٰہی کا متبع ہے، اسی طرح حدیث نبوی کا منکر وحی من السماء (آسمانی وحی) کا منکر ہے۔ خلیفہ اوّل کے بیان کئے ہوئے اس عقیدہ کو عجمی سازش قرار دے کر پوری امت کو گمراہ قرار دینے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ خود ہی کسی شیطانی سازش کا شکار تو نہیں؟

صدیقی عقیدہ کہ احکام نبویہ ناقابل تغیر ہیں

بہرحال حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس صدیقانہ جملہ سے ایک اصول تو یہی ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ”وحی من السماء“ہیں اس لئے امت کے لئے ان کا درجہ وہی ہوگا جو وحی الٰہی کا ہونا چاہئے۔ دوسرا قاعدہ جو اسی پہلے عقیدہ پر مرتب ہوتا ہے، اس صدیقی ارشاد سے یہ ثابت ہوا کہ دین کی جن جزئیات کو وحی من السماء (آسمانی وحی) نے متعین کردیا ہے۔ ان جزئیات میں تغیر وتبدّل اگر ہوسکتا ہے تو وحی کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی نام نہاد مرکز ملت بصیرت قرآنی کے دعوے کے ساتھ، ان جزئیات میں تغیر وتبدل کی جرأت کرے تو اسے وحی الٰہی میں تحریف کا مجرم قرار دے کر بیک بینی و دوگوش ملت اسلامیہ سے خارج قرار دیا جائے گا۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خلیفہ راشد کون ہوگا اور جن اکابر صحابہ کا مجمع آپ کے گرد جمع تھا ان سے بڑھ کر قرآنی بصیرت کسے حاصل ہوسکتی ہے لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو روک لینے پر محض اس لئے راضی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اَنفذوا جیش اُسامہ کی تحریف اس سے لازم آتی ہے۔

پس جبکہ ایک فوجی نوعیت کے جزوی حکم کو نہیں بدلا جاسکتا تو کون عقلمند کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احکام عبادات، معاملات، خصومات اور اخلاق سے متعلق ہیں، ان کے کسی ایک شوشے کو دنیا کی کوئی قوت بدل سکتی ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشاد کے موافق جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال وارشادات وحی من السماء ہیں تو اس وحی آسمانی کی متعین کردہ جزئیات میں تبدیلی کی جرأت کسی شیطان کو ہوتو ہو کسی مسلمان کو کب ہوسکتی ہے۔ اس جملہ سے ایک اور مطلب کی بات نکل آئی وہ یہ کہ جب حدیث رسول اللہ وحی آسمانی ہے اوراس کے متعین کردہ جزئیات اسی طرح ناقابل تبدیلی ہیں جس طرح قرآنی جزئیات تو اس سے ثابت ہوا کہ حالات کی تبدیلی کا سہارا لے کر اگر کوئی شخص احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلو تہی کرنا چاہے تواس کی بھی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ جملہ کس قدر ایمان ویقین میں ڈوبا ہوا جملہ ہے کہ ”اگر مجھے درندے بھی مدینہ میں کھاجائیں تب بھی میں اس لشکر کو بھیج کر رہوں گا“۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی آسمانی سے یہ حکم فرمایاہے کہ اُسامہ کے لشکر کو بھیجو اوریہ قصہ کیا یہیں ختم ہوگیا؟ جیساکہ میں نے کہا ایک طرف اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم حالات کی نزاکت سے بے چین تھے۔ ان کے لئے یہ تصور بھی ناقابل برداشت تھا کہ حضرت اُسامہ کے ساتھ اہل اسلام کی عظیم جمعیة اگر مدینہ سے باہر دور دراز سفر کے لئے نکل گئی تو مدینة الرسول کی حفاظت کس طرح ہوگی۔ مدینہ طیبہ میں رہ جانے والے بیچاروں پر دشمن اگر حملہ کردے تو ان کی مدافعت کا کیا سامان ہوگا اور مسلمانوں کے بیوی بچوں کے علاوہ خود اُمہات المومنین کی حرمت کو خدا نخواستہ خطرہ اگر لاحق ہوتو اس کے لئے کیا صورت کی جائے گی۔ حالات کی یہی پیچیدگی عام صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ خود امیر جیش حضرت اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی بے چین کئے جارہی تھی چنانچہ امیر لشکر نے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا کہ خلیفہ رسول کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کی طرف سے واپسی کی اجازت طلب کریں پیغام میں اسی بے چینی کا اظہار تھا۔

”فان مَعِی وُجوہُہُم واعیاہم ولا أمن علی خلیفةِ رسُولِ اللّٰہ وثَقَلُ رسول اللّٰہ وأثقال المسلمین أن یتخطفَہُم المشرکون“۔

”مدینہ کی تمام قوت میرے ساتھ ہے۔ اس صورت میں خلیفہ رسول اللہ اور ازواج مطہرات اورمسلمانوں کے بیوی بچوں کے معاملہ میں مجھے بے اطمینانی ہے کہ دشمن ان کواچک نہ لیں۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیر لشکر کا یہ پیغام لے کر چلے تو آتے ہوئے انصار نے ان سے کہا کہ اگر خلیفہ رسول اس لشکر کے بھیجے بغیر راضی نہ ہوں تو ان کی خدمت میں ہماری یہ درخواست پیش کردیں کہ

”أن یولی علینا رجُلا أقدمُ سنًا من أسامة“

”اُسامہ کے بجائے کسی بڑی عمر کے آدمی کو ہم پر امیر مقرر کردیں۔“

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ امیر لشکر کا پیغام لے کر بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئے عام اندازہ یہی تھا کہ خلیفہ رسول اللہ سپہ سالار کے پیغام کو سن کر شاید نرم ہوجائیں گے۔ عام صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ سالار جیش کے نزدیک بھی یہ لشکر کشی کا تقاضائے وقت سے چونکہ آہنگ نہیں تھی۔ اس لئے قوی امید کی جاسکتی تھی کہ خلیفہ اعظم اپنے حکم پر نظر ثانی فرمائیں گے اور لشکر کوواپسی کا حکم ہوجائے گا اس موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم کی نظر ایک طرف تقاضائے حالات پر تھی تو دوسری طرف صدیق اکبر کا اصرار لشکر کشی ان کے لئے اچھا خاصہ معمہ تھا۔ لیکن حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بصیرت ایمنانی کا فیصلہ یہ تھا کہ اسلام یا مسلمانوں کی حفاظت کا راز کسی لشکر کے بھیج دینے یا روک لینے میں نہیں۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور فیصلہ کی حفاظت میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی حفاظت اگر کرلی گئی تو اسلام زندہ رہے گا اور مسلمان بھی محفوظ رہیں گے۔ خدانخواستہ جس دن فیصلہٴ نبوت مسلمانوں کے ہاتھوں میں محفوظ نہ رہا اس دن نہ مسلمانوں کو کوئی لشکر دشمن سے بچاسکے گا، نہ غریب اسلام ہی کی حفاظت ہوسکے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ رسول اللہ کی خدمت میں امیر لشکر کا پیغام جب نقل کیاتو سن کر فرمایا۔

”ولو اختطفنی الکلابُ والذیابُ لم أرد قضاءُ قضاہُ رسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم“

”مجھے اگر کتے اور بھیڑئیے بھی گھسیٹ کر لے جائیں تب بھی میں اس بات کو تبدیل نہیں کرسکتا جس کا فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں۔“

یہا ں حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر بھیجنے کے لفظ ہی کو حذف فرمادیا۔ اصل بات نکھر کر سامنے آگئی کہ فیصلہٴ نبوت ناقابل تبدیل ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یقین ہوگیا کہ اب حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ لشکر اُسامہ کے روک لینے پر کبھی رضامند نہ ہوں گے۔ اسلئے انھوں نے انصار کی درخواست پیش کی یعنی اسامہ کم عمر ہیں ان کے بجائے کسی بڑی عمر کے آدمی کو لشکر کا امیر مقرر کردیا جائے۔

وہی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ جن کے حلم و بردباری، متانت اور وقار کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر حلم خلیل اللّٰہی کے ہمرنگ قرار دیا تھا، اس درخواست کو سن کر ان ہی پر دیکھا گیا کہ یکایک جلال موسوی طاری ہوگیا۔

”فوثب أبوبکر، وکان جالساً فَأخَذَ بلحیتہ عُمر وقال ثکلتک أمُّکَ وعَدَمتکَ أمُّکَ یا ابن الخطاب استَعْمَلہُ رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وتأمُرُنی أن أنزعَہ“

”ابوبکر بیٹھے تھے۔ اچانک اپنی جگہ سے اچھلے اور لپک کر عمر کی داڑھی پکڑلی اور فرمانے لگے۔ اے خطاب کے بیٹے تیری ماں تجھے گم پائے اور تیری ماں تجھے مردہ پائے۔ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنایا ہے اور تو مشورہ دیتا ہے کہ میں اسے معزول کردوں۔“

آج خلیفہ رسول کی جانب سے خلیفة اللہ (موسیٰ علیہ السلام) کی سنت جوش و جلال کا مظاہرہ کیا جارہا ہے غور کرو کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ طرز عمل قرآن کے ان الفاظ کی کیسی عمدہ تصویر ہے۔

”فأخَذَ بلحیة أخیہ یجُرُہ الیہ“

”موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی ہارون کی داڑھی پکڑکر اپنی طرف کھینچنے لگے“

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا پرجلال انداز اس وجہ سے تھا کہ ہارون علیہ السلام قوم کو گئوسالہ پرستی کی گمراہی میں مبتلا دیکھ کر پھر بھی اسی قوم میں رہنا کیسے برداشت کرسکے۔ چنانچہ قرآن حکیم نے اطلاع دی کہ:

”قال یا ہارونُ ما منعک اذ رأیتَہُم ضَلُوا أن لا تتبعن، أفعصیت أمری“

ترجمہ: ”موسیٰ علیہ السلام نے ہارون سے فرمایا۔ ”اے ہارون جب تونے قوم کو دیکھ لیا تھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تجھے کیا مانع پیش آیا کہ تم قوم کو چھوڑ کر میرے پیچھے نہ آئے۔“

ادھر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ غیظ وغضب اسلئے تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی فاروقی بصیرت نے ایسے پیغام کو کیوں گوارا کیا جس سے فیصلہ نبوت میں ادنیٰ تبدیلی کا وہم پیدا ہوسکتا تھا۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ نہ پیغام بھیجنے والوں کے وہم وگمان میں تھا کہ اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی معزولی سے فیصلہ نبوت میں تبدیلی ہوجائے گی، نہ پیغام لانے والے کے خواب و خیال میں تھا کہ اس مشورہ پر عمل کرنے سے نبوت کے فیصلوں کو پس پشت ڈالنے کا دروازہ کھل سکتا ہے لیکن ”صدیقی فراست“ اس نکتہ کو پارہی تھی اس لئے انھوں نے حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر اس فتنہ کا ہمیشہ کے لئے سدباب کردیا تاکہ آئندہ کسی شکم سیر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متعین کردہ جزئیات میں ترمیم و تنسیخ کی جرأت نہ ہو۔ اگر حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے فیصلہ نبوت کی حفاظت کے لئے اتنی شدت کا اظہار نہ کیاجاتا اور اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جگہ کوئی دوسرا امیر مقرر کردیا جاتا تو کہنے والوں کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امیر کو معزول کردیا تھا۔ اسی راستہ سے دین میں تراش وخراش اور فیصلہ نبوت میں کتربیونت کا موقع لوگوں کو مل جاتا۔ لیکن صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ پر خدا کی ہزاروں نعمتیں نازل ہوں پوری امت کی جانب سے ان کو جزائے خیر دی جائے کہ انھوں نے ہر شدت کوگوارا کیا۔ مگر حدیث نبوی کے حصار میں شگاف نہ آنے دیا۔ ہر آزمائش کا مقابلہ کیا مگر فیصلہ نبوت میں ادنیٰ تغیر کو برداشت نہ کیا۔ ”فجزاہُ اللّٰہ عنا“۔

حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس موسوی طرز عمل کو سامنے رکھ کر اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ حضرت صدیق کی قرآنی بصیرت میں حدیث نبوی سے اعراض اور فیصلہ نبوت سے انحراف، گئوسالہ پرستی کے ہمسنگ تھا تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دعویٰ بے جاہوگا۔

حضرت صدیق کی طرف سے اپنے بھائی وعمر کی داڑھی پکڑ کر کپکپاتے ہوئے جسم اور لرزتی ہوئی آواز میں جب کہا جارہا تھا۔

”استَعْمَلہُ رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وتأمُرنی أن أتزعہ“

ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امیر مقرر کیا ہے تو مجھے کہتا ہے کہ میں اسے معزول کردوں۔“

اس وقت کسے معلوم تھا کہ کچھ زمانہ بعد ایسے ”سامری صفت“ بھی پیدا ہوں گے جو حکامِ وقت پراللہ ورسول کا نام چسپاں کرتے ہوئے ۔

(ہَذا الہکُم والہ موسٰی فنسی) (القرآن الحکیم)

”یہ تمہارا اور موسیٰ کا خدا، موسیٰ تو بھول کر طور پر چلا گیا“ کا ”سامریانہ“ نعرہ لگائیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے تمام بینات میں قطع وبرید کرڈالنا ہی ان کے نزدیک ”قرآنی بصیرت“ ”سنت جاریہ“ اور ملکہ اجتہاد قرار پائے گا۔

”یقرأون القرآن ولا یجاوز تراقیہم“

”وہ قرآن پڑھیں گے لیکن کیا مجال کہ ان کے حلق سے نیچے اتر جائے۔“

اور لُطف یہ کہ انہیں سامری صفت دجالوں کو ایسے سادہ لوح پرستار بھی مل جائیں گے جو اپنی عبادت کی وجہ سے اس نئے گئوسالہ سامری ”مرکز ملت“ کو سچ مچ اللہ ورسول مان لیں گے اور چودہ صدیوں کے ہارون صفت علماء ربانی کی ہارونی نصیحت

”یا قوم انّما فُتِنْتُمْ بہ وانّ ربَکُم الرحمنُ فاتبِعُوْنِی واَطِیعُوا أمری“ (القرآن الحکیم: طہ)

”لوگو! تم فتنہ میں مبتلا ہوگئے ہو۔ تمہارا رب (یہ گئوسالہ سامری نہیں بلکہ) وہ رحمان ہے جس کی رحمت زمین وآسمان کو محیط ہے۔ اس لئے خدارا تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔“

ان کے لئے بے اثر ثابت ہوگی، اور یہ شاگردان سامری، ہارون صفت علماء ربانیین کی اتباع کو انسان پرستی اور مذہبی اجارہ داری کا نام دیں گے!

بہرحال دور خلافت میں حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا پہلا کارنامہ میرے نزدیک یہی تھا کہ انھوں نے پوری قوت اور شدت سے مرتبہٴ حدیث کو اجاگر کیا۔ اور ”مقام سنت“ کو واضح فرمایا اور حکمت الٰہی ان کے لئے ایسے اسباب بروئے کار لاتی رہی جن سے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو مختلف عنوانات میں مرتبہ حدیث نبوی کی وضاحت کا موقع بار بار ملتا رہا۔

جیش اُسامہ کے واقعہ میں تو ایسا نظر آتا ہے کہ حضرت صدیق پر وجد اور حال کی سی رقت طاری تھی اور وہ اس واقعہ میں جرأت وہمت کے پیکر تھے۔ اسی واقعہ کا اور روح پرور اور ایمان افروز جز اور سنئے!

حضرت اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کا لشکر جب رخصت ہونے لگا تو خلیفہ رسول اللہ بنفس نفیس اُسامہ اور ان کے ہمراہیوں کو رخصت کرنے کے لئے مقام ”جرف“ میں تشریف لائے۔ واقعہ کے عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ اسامہ اپنی سواری پر تھے اور خلیفہ اسلام ان کے پہلو میں سواری موجود ہونے کے باوجود پیدل چل رہے تھے۔ اسامہ کی طرف سے ہر چند اصرار بھی کیاگیا۔

”یا خلیفَة رسول اللّٰہ لترکبن أو لأنزلن“

”خلیفہ رسول! یا آپ سوار ہوجائیں یا میں اتر جاؤں“ لیکن جواب میں خلیفہ اسلام فرمارہے تھے:

”واللّٰہ لا تَنزِل، و واللّٰہ لا أرکبُ ومَا علی أنْ أغبَرَّ قدمیّ ساعةً فی سبیل اللّٰہ فان للغازی بِکُلٍ خَطرَةٍ یخطُوہا سَبْعُ مائةٍ حسَنةً تُکتَبُ لَہُ وسَبْعُ مائةٍ درجة ترفَعُ لَہ، وتُمحَی عَنہ سَبْعُ مائةِ خطیئة“ (حیات الصحابہ)

”خداکی قسم نہ تم اتروگے اور خداکی قسم نہ میں سوار ہوں گا میں اگر راہ خدا میں ایک ساعت کے لئے اپنے قدم غبار آلود کرلوں تو کیا مضائقہ ہے کیونکہ غازی کے لئے ہر قدم پرسات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، سات سو درجے اس کے بلند کئے جاتے ہیں اور سات سو خطائیں اس کی مٹادی جاتی ہیں“۔ (حیات صحابہ)

جو کہنا چاہتا ہوں وہ آگے آتا ہے۔ یعنی حضرت اُسامہ اور ان کی جماعت کو رخصت کرکے جب واپس آنے لگتے ہیں تو اسلام کا الوداعی جملہ اَستودعُ اللّٰہ دِینک واَمانتکَ وخَواتیم عَملک“ (تیرا دین امانت اور خاتمہ عمل اللہ کے سپرد کرتا ہوں) ادا کرنے کے بعد خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امیر لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے:

”أن رسول اللّٰہ أوصاک فأنفِذ لأمر رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانی لَستُ أمرک ولا أنہاک عَنہ انما أنا مُنْفِذٌ لأمرٍ أمَرَ بِہ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم“ (حیات الصحابہ)

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو وصیت فرماچکے ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم گرامی بجاؤ۔ بندہ نہ کسی بات کا آپ کو حکم کرتا ہے نہ کسی چیز سے منع کرتا ہے۔ میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نافذ کرنے والا ہوں اور بس“

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس فقرہ کا مطلب یہی سمجھا ہوں اور شاید اس کے سوا دوسرا مطلب ہوبھی نہیں سکتا کہ حضرت صدیق ایک طرف ”مرتبہ فیصلہٴ نبوت“ بیان فرمارہے ہیں کہ اس میں ترمیم وتنسیخ صدیقی مسلک میں غیر صحیح ہے۔ دوسری طرف وہ خلیفہ رسول یا بلفظ دیگر خلیفہ اسلام کی حیثیت متعین کررہے ہیں کہ اس کی حیثیت صرف احکام نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نافذ کرنے والے کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قضایا اور فیصلوں میں تبدیلی کردینا اس کا نہ منصب ہے نہ وہ اس کا مجاز ہے۔ کیوں نہ ہو جب خلیفة اللہ کو یہ منصب تفویض نہ کیاگیا کہ وہ اپنی رائے اور احکام اور فرامین میں رد وبدل کرڈالے۔ چنانچہ داؤد علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا جاتا ہے۔

”یا داودُ انا جعلناک خَلیفَةً فِی الأرضِ فاحکُمْ بین الناسِ بالحقِ ولا تتبع الہَوٰی فیضلک عن سبیل اللّٰہ“ (القرآن الکریم)

اے داؤد علیہ السلام ہم نے تمہیں اپنی زمین میں خلیفہ بنایا ہے اس لئے لوگوں کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کیا کرو۔ اور خواہش کی پیروی نہ کیجیو۔ ورنہ تمہیں اللہ کی راہ سے بہکادے گی۔

پس سوچنا چاہئے کہ اس بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”خلیفہ راشد“ کے لئے کب گنجائش ہوسکتی ہے کہ وہ صاحبِ وحی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور ارشادات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور قضایا میں ردو بدل شروع کردے۔ ایسی صورت میں وہ جانشین رسول اور خلیفہ نبی کہلانے کا کب مستحق ہوگا۔

حکیم الامت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ ضروریات خلافت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

واجب است بر خلیفہ نگاہ داشتین دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم برصنفیکہ بسنت مستفیضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ثابت شدہ واجماع سلف صالحین براں منعقد گشتہ وانکار برمخالف“

(ازالتہ الخفاء جلد۱، ۲۹ طبع جدید)

”خلیفہ پر دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور نگہداشت اسی شکل میں لازم ہے۔ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مستفیضہ سے ثابت ہے اور سلف صالحین کا اجماع اس پر منعقد ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ خلیفہ کے فرائض میں یہ بھی داخل ہے کہ سنت مستفیضہ اور اجماع کی خلاف ورزی کرنے والوں پر گرفت کرے۔“

اسی مضمون کو حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ان الفاظ میں بیان فرمارہے ہیں جو اوپر نقل کرچکا ہوں، یعنی

”انما أنا مُنفِذٌ لأمرٍ أمَرَ بہ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم“

”میں تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نافذ کرنے والا ہوں“

یہ الفاظ تو خیر اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمائے گئے جس سے ایک گونہ اپنے اصرار کی وجہ بیان کرنا اور دوسرے لوگوں کا مشورہ قبول کرنے سے معذوری پیش کرنا بھی مقصود تھا۔
پہلا صدیقی خطبہ کہ ”دستور خلافت“ کتاب وسنت ہوں گے

لیکن کیا مرتبہ حدیث اور منصب خلافت کی ذمہ داریوں کا بیان صرف اسی موقع پر کیاگیا؟ جہاں تک صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے واقعات لوگوں کو مل سکتے ہیں ان کی روشنی میں ہر شخص یہی سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ نہ صرف حضرت صدیق بلکہ تمام اکابر واصاغر صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک ”خلیفہ رسول اللہ“ کی حیثیت احکام نبوت کی تنفیذ ہی کی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ان کے نزدیک بدیہیات میں داخل تھا۔ لیکن اس ”بدیہی“ مسئلہ کو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ بار بار کیوں بیان کررہے تھے؟

مثلاً حضرت صدیق کا پہلا خطبہ جو منبررسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مہاجرین وانصار (رضی اللہ عنہم) کے کثیر مجمع کے سامنے پیش کیاگیا جس کوآج کی اصطلاح میں حلف وفاداری کہیے تو بجا ہے اس میں بھی قرآن حکیم کے ساتھ ”سنت“ کو دین کی بنیاد کے طورپر انھوں نے پیش کیا۔ اور اسلام میں خلیفہ کا منصب کیا ہے؟ اور ”کتاب وسنت“ کے ساتھ خلیفہ کے تعلق کی نوعیت کیا ہوگی؟ اسی نکتہ کی وضاحت انھوں نے فرمائی۔ ابن سعد وغیرہ میں اس خطبہ کو ان الفاظ میں نقل کیاگیا ہے:

”یا أیہا الناسُ قد ولیتُ امرکم ولستُ بخیرکُمْ ولکِن نزل القرآن وسن النّبیُّ صلی اللہ علیہ وسلم السُنن فَعلمنا وتعلمنا أیُّہَا الناسُ انما أنا مُتّبعٌ ولَسْتُ بِمُبتدعٍ فان أحسَنْتُ فأعینُونِی وأن زغتُ فَقُومونی“ (بحوالہ اعجاز القرآن للباقلانی)

”لوگو! مجھے تمہارے امور کا متولی بنادیاگیا۔ مجھے تم سے بہتر ہونے کا دعویٰ نہیں لیکن قرآن نازل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتیں جاری فرمائیں۔ پس آپ نے تعلیم دی اور ہم نے تعلیم حاصل کی۔ لوگو! میں محض پیروی کرنے والا ہوں۔ نئی بات کو ایجاد نہ کروں گا۔ پس اگر میں صحیح راستہ پر گامزن رہوں تو میری مدد کرنا اور اگر (بالفرض) کتاب وسنت سے کجی اختیار کی تو مجھے سیدھا کردینا“

یہ اسلام کے پہلے خلیفہ کا پہلا خطبہ ہے جس میں کتاب اور سنت کو دستور خلافت قرار دے کر دونوں سے وفاداری کا عہد واقرار خلیفہ کی طرف سے کیاگیا اور تمام مہاجرین وانصار سے وہ اپیل کرتے ہیں کہ اگر خلیفہ اس حلف وفاداری پر قائم رہے تو ہر ممکن طریق سے اس کی مدد کی جائے اگر خدانخواستہ خلیفہ میں کتاب وسنت کی کجی نظر آئے تو پوری قوت سے اسے راہ راست پر لائیں۔ بلاشبہ حضرت صدیق کا یہ خطبہ اسلامی تاریخ میں دستور خلافت کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

صدیقی اعلانات پر ایک اہم سوال

بہرحال سوال یہاں یہی ہے کہ جن امور کو حضرت صدیق اپنے خطبات، مجالس اور خطوط میں باصرار وتکرار جہاں ان کو موقع ملتا تھا اور بتلاچکا ہوں کہ حکمت الٰہیہ ان کے لئے یہ موقع فراہم کررہی تھی، بیان کرتے رہتے تھے۔ صحابہ کرامرضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک جب ان امور کی حیثیت ”بدیہیات اولیہ“اور ”ضروریات دین“ کی تھی۔ یعنی قرآن کے بیّنات سے انحراف جس طرح خلیفہ کے لئے صحیح نہیں ٹھیک اسی طرح سنّت نبویہ سے اعراض کی گنجائش بھی اس کے لئے نہیں،اور امت کے لئے قرآن جس طرح حجت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ جو احکام و فرامین چھوڑے ہیں اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کا ثبوت قطعی ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے والوں کے لئے ان کا تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ امور جب صحابہرضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک ”ضروریات“ میں داخل ہیں توامت کے پہلے خلیفہ کے لئے یہی ”بدیہی مسئلہ“ اس قدر اہمیت کیوں اختیار کرگیا تھا کہ کبھی منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پایہ پکڑکر کبھی اپنے بھائی (عمررضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) کی داڑھی پکڑ کر، کبھی امیر جیش (اُسامہ رضی اللہ تعالی عنہ) کی رکاب تھام کر وہ اسی کی تکرار، اسی کا اعلان اسی کی منادی کیوں کئے جارہے تھے کہ۔

۱- دستور خلافت کے لئے کتاب اللہ وسنت رسول بنیادی پتھر ہیں۔

۲- خلیفہ اسلام کی حیثیت متبع کی ہوگی۔ مبتدع کی نہ ہوگی۔

۳- میں اس لشکر کو روک لینے کا مجاز نہیں جس کے بھیجنے کا حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحی الٰہی سے فرماچکے ہیں۔

۴- میرا منصب نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر فرمودہ امیر کو معزول کردوں۔

۵- مجھ پر کیسے ہی حالات گزرجائیں لیکن مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں فیصلہ نبوت کو تبدیل کردوں۔

۶- حد یہ کہ میں اس جھنڈے کو کھول دینے کی ہمت نہیں رکھتا۔ جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باندھ چکے ہیں ”ولا حللت لواء عقدہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم“ (ہدایہ ج۶، ۳۰۵، بحوالہ حیات الصحابہ)

۷- اس سے بڑھ کر یہ کہ

”وأمَرَ منادیہ یُنادی غُزمَةً منی أن لا یتخلف عن أسامَة من بعثہ مَن کانَ انتَدبَ مَعَہ فِی حیاةِ رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (حیات الصحابہ، ص:۴۱۰، ج۱)

”جو شخص لشکر اسامہ میں حیات نبوی میں شریک ہوچکے تھے میں ان میں سے کسی کو عدم شرکت کی اجازت دینے کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔“

یہ اعلانات عام لوگوں کے نزدیک ممکن ہے کہ کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں اور وہ صرف اتنا کہہ کر آگے گذرجانے کی کوشش کریں، کہ کوئی وقتی ضرورت اس اعلان کی پیش آئی ہوگی۔ اس لئے جس طرح اوراحکام خلافت کی طرف سے دئیے جاتے ہیں یا بہت سے اعلان کئے جاتے ہیں، کسی ضرورت کے تحت یہ اعلان بھی کردیاگیا ہوگا، لیکن حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ان پے درپے اعلانات میں ایمان ویقین کا نور، عزم و احتیاط کی نزاکت اور دَرد وبے چینی کا سوز جو پایا جاتا ہے وہ کم از کم مجھے تواجازت نہیں دیتا کہ، نظر عمیق اور فہم صحیح سے کام لئے بغیر گزرنے والے سرسری طور پر اس مقام سے گزرجائیں اور ان صدیقی بیانات کو معمولی چیز قرار دے کرپہلو تہی کی کوشش کریں۔

منشاء صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی توضیح

ان ”صدیقی کلمات“ کا اصل منشاء کیا ہے اس کومعلوم کرنے کے لئے ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب اس عالم میں رونق افروز تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہی دین وشریعت تھی۔ لسان نبوت سے جو کچھ صادر ہوتا تھا، سننے والوں کے لئے وہی دین اوراسلام تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا تسلیم کرلینا ایمانی علامت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے پہلو تہی کرنا علامت نفاق تھی، اہل ایمان کے لئے رضائے خداوندی، ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور آپ کی فرمانبرداری میں منحصر تھی۔ اہل ایمان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول وفعل وحی الٰہی کا تابع اور منشائے خداوندی کا ترجمان تھا۔ اس لئے اہل اسلام کے لئے آخری مرجع ذات قدسی صفات تھی (صلی اللہ علیہ وسلم) حکیم الامت شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ کے الفاظ ہیں:

”اما چوں ایّام نبوت بود، وحی مفترض الطاعت در قلب پیغمبرے رسید و شک وشبہ را آنجا ہیچ گنجائش نہ بود نہ در اوّل نہ در آخر۔ (ازالتہ الخفاء،ص:۹۹، ج۱)

”جب تک نبوت کا زمانہ تھا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر وحی نازل ہوتی تھی جس کی اطاعت فرض ہے اور شک وشبہ کیلئے وہاں قطعاً گنجائش نہ تھی۔ اوّل میں نہ آخر میں“۔

وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت ذہن وفکر کے دوراہے پر

لیکن وصال نبوی سے دور نبوت ختم اور دور خلافت شروع ہوگیا اورامت اس حادثہ میں یکایک ایک دور سے دوسرے دور میں منتقل ہوگئی اس وقت امت ایک طرف اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے سانحہ کبری پر ماتم کناں دیوانہ وار تڑپ رہی تھی۔ خدا کے سوا کون تھاجو ان کی تعزیت کرے۔ دوسری طرف یہ فطری سوال کھڑا ہوگیا کہ آج کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا امت کا رشتہ واطاعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے کٹ گیا؟ یا بدستور باقی ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی پیروی امت کے لئے لازم ہوگی یا یہ قصہ وصال نبوی پر ختم ہوگیا؟ کیا آپ کی زبان ناطق بالوحی سے صادر شدہ ہر کلمہ اب بھی دین اسلام کا جزو سمجھنا ہوگا جیساکہ آپ کی زندگی میں تھا یا ”امیرجماعت“ اور ”مرکز ملت“ اسلام کے جدید کل پرزے تیار کیاکرے گا؟ کیا رضائے خداوندی اتباع نبوی میں اب منحصر رہے گی، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہٴ حیات میں تھی،یا یہ سعادت صرف آپ کے زمانہٴ حیات تک تھی؟ کیا آپ کی ہر بات کو تسلیم کرنے والا مومن اور تسلیم نہ کرنے والا منافق اب بھی قرار دیا جائے گا؟ یا ایمان وکفر اور اخلاق ونفاق کا یہ معیاری فرق صرف آپ کی زندگی تک تھا؟

قرآن مبین کی سینکڑوں آیات میں آپ کی اطاعت، فرمانبرداری اور امتثال امر کا حکم جو دیاگیا ہے کیاقرآن کا یہ مطالبہ اب بھی موجود ہے یا یہ قرآنی مطالبہ وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں سے اٹھ گیا؟

کیا مسلمانوں کا خلیفہ ہدایات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری طرح پابند ہوگا۔ یا آپ کا جانشیں ٹھیک وہی منصب حاصل کرے گا جو زمانہ حیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا؟ معاذ اللہ

خلیفہٴ اسلام کی پوزیشن صحیح کیا ہوگی؟ اسے خلافت کی بنیادوں کو کن خطوط پر استوار کرنا ہوگا؟ قرآن حکیم کے علاوہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا برتاؤ کیا ہوگا؟

وحی الٰہی کی نگرانی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”دین قیم“ کے جن نقوش کو چھوڑ گئے ہیں۔ جن جزئیات کی تعین فرماگئے ہیں عقائد، عبادات، معاملات، خصومات اور اخلاق کا جو نظام آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرتب فرماگئے ہیں ان تمام چیزوں کو علیٰ حالہ باقی رکھنا خلیفہ کا فرض ہوگا یا فیصلہ نبوت سے ہٹ کر ”دین قیم“ کے نئے نقشے مرتب کرنے کی بھی اسے اجازت ہوگی؟

آسمانی پیغام کی حفاظت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال وحرام، صحیح اور غلط، جائز وناجائز کی جو فہرست امت کے سامنے پیش کی تھی ان کو بلا تغیر وتبدل بدستور قائم رکھ کرنافذ کرنا خلیفہ اسلام کا منصب ہوگا یا ان میں ردوبدل بھی اس کے لئے جائز ہوگا۔

الغرض دور نبوت اور دور خلافت کے وسطی نقطہ میں جو اہم سوال پیداہونا چاہئے تھا۔ وہ یہی تھا کہ دور نبوت کے ختم اور دور خلافت کے شروع ہوجانے کے بعد امت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت رسول اللہ کا کیا مقام ہوگا اور جانشین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت کیا ہوگی؟ عقلاً یہاں دو ہی صورتیں ممکن تھیں اوّل یہ کہ جس طرح ایک ”سربراہ مملکت“ کے فیصلے صرف اس کی حیات تک نافذ رہتے ہیں اس کی موت سے جیسے وہ خود بخود معزول ہوجاتا ہے اسی طرح اس کے اوامر کی اطاعت بھی نہیں رہتی۔ بلکہ اس کی جگہ اس کاجانشین لے لیتا ہے ٹھیک یہی حال نبی اور خلیفہ نبی کا ہوکہ معاذ اللہ وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم امت کی امانت سے معزول ہوگئی۔ اب نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کے ساتھ امر ونہی کا تعلق رہا،نہ امت کو آپ کے ساتھ سمع و طاعت کا بلکہ امر ونہی کے تمام اختیارات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے خلفاء کی طرف منتقل ہوگئے۔ اب قرآن کاجو مفہوم یہ خلیفہ متعین کرے۔ پوری امت کے لئے اسی کا ماننا لازم ہوگا خواہ یہ مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ مفہوم کے کتنا ہی خلاف کیوں نہ ہو اور اسلام کی جو تصویر خلیفہ پیش کرے گا اب وہی صحیح اسلامی تصویر کہلائے گی، خواہ یہ تصویر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ نقشے کے کیسی ہی الٹ ہو (یہی آجکل کے مغرب زدہ طبقہ کا موقف ہے جس کا منشاء مقام نبوت سے نا آشنائی ہے بلکہ یہ تصورانکار نبوت ہی کی ماڈرن شکل ہے)

دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدستور صاحب امرونہی رہیں گے امّت کو بدستور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سمع وطاعت کا تعلق باقی رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا خلیفہ آپ کے ارشاد فرمودہ امرو نہی، حلال و حرام جائز و ناجائز احکام و قضایا نافذ کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلے کی خلاف ورزی نہ اس کیلئے جائز ہوگی اورنہ ملت کے لئے خلیفہ کے ایسے احکام کی تعمیل جائز ہوگی، جن میں آپ کی ”سنت مستفیضہ“ سے انحراف نہ کیاگیا ہو۔ قرآن کے مفہوم ومعانی اوراسلام کے نقوش بدستور وہی باقی رہیں گے جو زمانہ نبوی میں تھے۔

حاصل یہ کہ خلیفہ مطاع مستقل نہیں ہوگا، بلکہ اس کی اطاعت صرف اسی لئے ہوگی اور اسی وقت تک ہوگی جب تک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں احکام نبویہ کو نافذ کرتا رہے۔ اس کی حیثیت صرف یہ ہوگی کہ آپ کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اوراوامر ونواہی کی تنفیذ کرے۔

بہرحال وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”رسول“ اور جانشینِ رسول“ کا مرتبہ اسلام میں کیاہوگا اس کی یہی دو صورتیں جو میں نے ذکر کیں ہوسکتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت امت اور قیامت تک آنے والی امت، ذہن وفکر کے اسی دوراہے پر کھڑی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ جب خلیفہ ہوئے تو قت کا سب سے پیچیدہ مسئلہ اورامت کے لئے سب سے اہم اصولی سوال یہی تھا جس کو بیان کرتا چلا آرہا ہوں۔ اس کی پیچیدگی کی وجہ یہ نہ تھی کہ صحابہ کرامرضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے لئے یہ ”علم“ نیاتھا۔ آپ مجھ ہی سے سن چکے ہیں کہ یہ مسئلہ صحابہ کرام کے نزدیک بدیہیات میں سے تھا۔ اصل وجہ اس سوال کی اہمیت کی یہ تھی کہ منشائے خداوندی جسے ”خلیفہ اوّل اور بلاواسطہ جانشین رسول“ بنارہی تھی۔ یابی اللہ والمومنون الا ابابکر آنے والی پوری امت کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ آنے والے تمام خلفاء کے لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا طرز عمل قانونی اصطلاح میں ”نظیر“ اور شرعی اصطلاح میں ”سنت خلیفہ راشد“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ اس کی ماہیت، اس کے حل وعقد اس کے انتظام وانصرام اور اس کے طرز عمل کا پہلا تجربہ زمین والوں کو ہورہا تھا۔ گویا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ اوّل بنائے جانے کا مطلب یہ تھا کہ صدیقی خلافت جن نقوش پر استوار کی جائے گی، آئندہ خلافت صحیحہ کے لئے وہی پتھر کی لکیریں بن جائیں گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں جو چیز دستور خلافت قرار پائے گی ہمیشہ کے لئے خلافت شرعیہ کادستور وہی رہے گا۔ گویا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نحیف کندھوں پر ملت کے صرف موجودہ دور اور موجودہ افراد کا بوجھ نہیں تھا بلکہ خلافت کے ”نقاش اوّل“ کی حیثیت سے قیامت تک آنے والی تمام امت اور خلفاء کے لئے خلافت کے صحیح خطوط متعین کرنا اور غلط نقوش کو جو کبھی پیدا کئے جاسکتے تھے ایک ایک کرکے مٹانا بھی ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے فرائض میں شامل تھا۔ غرض یہ کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس عقیدہ کو کہ ”دستور خلافت“ کتاب وسنت ہیں ہدایات کی آہنی زنجیر بنادیا جسے کبھی توڑا نہیں جاسکتا۔

دوسری طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی نزاکتوں پر غور کرو تو صحیح اندازہ ہوگا کہ ان صدیقی اعلانات میں کتنا زور ہے۔ بلاشبہ صحابہ کرامرضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک ”سنت رسول اللہ کامقام“ اور ”خلیفہٴ اسلام کا منصب“ یہ دونوں چیزیں اپنے اندر کوئی خفا نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن حضرت ابوبکر اپنی آواز انہی تک محدود نہ رکھنا چاہتے تھے جو ان کے سامنے موجود تھے بلکہ وہ اپنی گرجتی ہوئی آواز کو قیامت کی دیواروں سے ٹکرا کر پوری امت کے خلفاء کو آگاہ کردینا چاہتے تھے کہ خلیفہ اسلام کی صحیح پوزیشن کیاہے۔

بسا اوقات ایک مسئلہ ایک زمانہ میں بدیہیات میں شمار ہوتا ہے لیکن دوسرے زمانے کے لوگ اپنی غباوت کی وجہ سے اسے نظری بلکہ ناممکن بناڈالتے ہیں۔ کیا آج ”دین قیم“ کے واضح اور بدیہی مسائل ”نظر وفکر“ کی آماجگاہ بنانے کا تماشا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر چاہتے تھے کہ ان کی یہ آواز جو حلف وفاداری کی شکل میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نشرکی جارہی ہے۔ قیامت تک کے لئے ہر آنے والے گوش زد ہوجائے۔ یعنی

”أیُّہَا الناسُ انما أنا مُتبِعٌ ولَسْتُ بِمُبتدعٍ“

”لوگو! میں صرف قرآن وسنت کی پیروی کرنے والا ہوں نئی بات ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔“

تاکہ ”مرتبہ حدیث“ کے ساتھ ساتھ ”منصب خلافت“ کا مسئلہ جس طرح آج والوں کے لئے بدیہی ہے کل والوں کے لئے بھی بدیہی بن جائے۔ اور یوں اس مسئلہ کی ”بداہت“ ایسی آہنی زنجیر میں تبدیل ہوجائے کہ آنے والی کوئی بھی طاغوتی قوت اس کے توڑ ڈالنے پر قادر نہ ہو۔ الغرض یہ مسئلہ جیسے آج شک وشبہ سے بالاتر ہے، آئندہ ہر دور میں بھی اسے شک و تردد سے بالا تر سمجھا جائے یہ ذمہ داری جس قدر اہم تھی، اسی قدر فکر ان کو اس سے عہدہ برا ہونے کی تھی۔ اس کے لئے انھوں نے کتنی محنت فرمائی۔ اس کی کچھ داستان آپ کے سامنے آچکی ہے۔ یعنی قرآن کے ساتھ سنت کو بنیاد خلافت قرار دے کر مختلف مجالس میں مختلف عنوانات سے اس کا بار بار اعلان کردیا اور عملی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اس قدر مضبوطی سے تھاما گویا جس قدر کارنامے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ظہور پذیرہوئے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ظاہر ہورہے تھے، ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آلہ اور جارحہ کی طرف احکام نبویہ کی تنفیذ فرمارہے ہیں۔

حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ایام خلافت بقیہ ایام نبوت بودہ است گویا در ایام نبوت حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تصریحا بزبان مے فرمودہ ودرایامِ خلافت بدست وسراشارہ مے کرد“

”خلافت راشدہ کا دور دور نبوت ہی کا تھا کہنا چاہئے کہ زمان نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زبان سے تصریحاً فرماتے تھے اورایام خلافت میں ہاتھ اور سر کے ساتھ اشارہ فرمارہے تھے۔“

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام تصریحیہ اور اشاریہ کی تنفیذ میں خلیفہٴ اوّل رضی اللہ تعالی عنہ نے جس بیداری اور نزاکت احساس سے کام لیا بلاشبہ یہ انہیں کا حصہ تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسی طرز عمل کانتیجہ ہے کہ عملی کمزوریوں کے باوجود خلافت راشدہ کے بعد آنے والے کسی حکمران کو بھی یہ جرأت نہ ہوسکی کہ قانونی طور پر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ”دینی سند“ کی حیثیت سے تسلیم نہ کرے اور نہ قیامت تک انشاء اللہ کسی کو یہ جرأت ہوسکے گی۔ اسلام میں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام ہے اور خلیفہ کاکیا منصب ہے یہ مسئلہ صدیقی محنت سے آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہوگیا فالحمد للّٰہِ أولاً وآخرًا.

تمت بالخیر

٭٭٭

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں