اکابر دیوبند کیا تھے؟

Jan
18

اکابر دیوبند کیا تھے؟ دوسری اور آخری قسط  مصنف  جسٹس مفتی تقی عثمانی  صاحب دامت برکاتھم

۳۱- امیر شاہ خان صاحب مرحوم راوی ہیں کہ جب منشی ممتاز علی کا مطبع میرٹھ میں تھا، اس زمانے میں ان کے مطبع میں مولانا نانوتوی رحمة اللہ علیہ بھی ملازم تھے اور ایک حافظ جی بھی نوکر تھے۔ یہ حافظ جی بالکل آزاد تھے، رندانہ وضع تھی، چوڑی دار پاجامہ پہنتے تھے، ڈاڑھی چڑھاتے تھے، نماز کبھی نہ پڑھتے تھے، مگر حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ سے ان کی نہایت گہری دوستی تھی۔ وہ مولانا رحمة اللہ علیہ کو نہلاتے اور کمر ملتے تھے۔ مولانا رحمة اللہ علیہ ان کے کنگھاکرتے تھے اور وہ مولانا رحمة اللہ علیہ کے کنگھا کرتے تھے۔ اگر کبھی مٹھائی وغیرہ مولانا رحمة اللہ علیہ کے پاس آتی تو اُن کا حصہ ضرور رکھتے تھے، غرض بہت گہرے تعلقات تھے۔ مولانا رحمة اللہ علیہ کے مقدس دوست ایسے آزاد شخص کے ساتھ مولانا رحمة اللہ علیہ کی دوستی سے ناخوش تھے، مگر وہ اس کی کچھ پرواہ نہ کرتے تھے۔
ایک مرتبہ جمعہ کا دن تھا، حسب معمول مولانا رحمة اللہ علیہ نے حافظ جی کو نہلایا، اور حافظ جی نے مولانا رحمة اللہ علیہ کو۔ جب نہاچکے تو مولانا رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: حافظ جی! مجھ میں اورتم میں دوستی ہے اور یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ تمہارا رنگ اور ہو اور میرا رنگ اور، اس لیے میں بھی تمہاری ہی وضع اختیار کرلیتا ہوں، تم اپنے کپڑے لاؤ، میں بھی وہی کپڑے پہنوں گا اور میری یہ ڈاڑھی موجود ہے تم اس کو بھی چڑھا دو اورمیں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ کپڑے اُتاروں گا نہ ڈاڑھی، وہ یہ سن کر آنکھوں میں آنسو بھرلائے، اور کہا کہ” یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ مجھے اپنے کپڑے دیجیے، میںآ پ کے کپڑے پہنوں گا اور یہ ڈاڑھی موجود ھے اس کو آپ اُتاردیں۔ چنانچہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے ان کو کپڑے پہنائے اور ڈاڑھی اُتاردی اور وہ اس روز سے پکے نمازی اور نیک وضع بن گئے۔(۳۷)
۳۲- دارالعلوم دیوبند کے دوسرے مہتمم حضرت مولانا رفیع الدین صاحب رحمة اللہ علیہ کا ذکر پہلے بھی آچکاہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے محسوس کیا کہ بعض حضرات مدرسین دارالعلوم کے مقررّہ وقت سے کچھ دیر میں آتے ہیں تو آپ نے حاکمانہ محاسبہ کے بجائے یہ معمول بنالیا کہ روزانہ صبح کو دارالعلوم کا وقت شروع ہونے پر دارالعلوم کے دروازے کے قریب ایک چارپائی ڈال کر اس پر بیٹھ جاتے اورجب کوئی استاد آتے تو سلام ومصافحہ اور دریافت خیریت پر اکتفا فرماتے، زبان سے کچھ نہ کہتے کہ آپ دیر سے کیوں آئے ہیں؟ اس حکیمانہ سرزنش نے تمام مدرسین کو وقت کا پابند بنادیا۔
البتہ صرف ایک مدرس اس کے بعد بھی کچھ دیر سے آتے تھے، ایک روز جب وہ وقت مقررہ کے کافی بعد مدرسہ میں داخل ہوئے تو سلام اور دریافت خیرت کے بعد اُنھیں پاس بٹھاکر فرمایا:
”مولانا! میں جانتا ہوں کہ آپ کے مشاغل بہت ہیں، ان کی وجہ سے دارالعلوم پہنچنے میں دیر ہوجاتی ہے، ماشاء اللہ آپ کا وقت بڑا قیمتی ہے اور میں ایک بے کار آدمی ہوں خالی پڑا رہتا ہوں، آپ ایساکریں کہ اپنے گھریلو کام مجھے بتلادیا کریں، میں خود جاکر ان کو انجام دے دیاکروں گا تاکہ آپ کا وقت تعلیم کے لیے فارغ ہوجائے۔“
اس حکیمانہ طرزِ خطاب کا جو اثر ہونا تھا وہ ہوا اور وہ مدرّس بھی آئندہ ہمیشہ کے لیے وقت کے پابند ہوگئے۔(۳۸)
۳۳- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کو اللہ تعالیٰ نے اس صدی میں اصلاحِ خلق کی توفیق خالص اور اس کا انتہائی حکیمانہ اسلوب مرحمت فرمایا تھا۔ اردو کے مشہور شاعر جناب جگر مرادآبادی مرحوم کا واقعہ ہے کہ ایک مجلس میں حضرت خواجہ عزیزالحسن صاحب مجذوب رحمة اللہ علیہ نے حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ سے ذکر کیاکہ: ”جگر مرادآبادی سے ایک مرتبہ میری ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تھانہ بھون جانے اور زیارت کرنے کو بہت دل چاہتاہے مگر میں اس مصیبت میں مبتلا ہوں کہ شراب نہیں چھوڑ سکتا، اس لیے مجبور ہوں کہ کیا منہ لے کر وہاں جاؤں“؟ حضرت رحمة اللہ علیہ نے خواجہ صاحب رحمة اللہ علیہ سے پوچھا: ”پھر آپ نے کیا جواب دیا“؟ خواجہ صاحب رحمة اللہ علیہ نے عرض کیاکہ میں نے کہہ دیا ”ہاں! یہ تو صحیح ہے ، ایسی حالت میں بزرگوں کے پاس جانا کیسے مناسب ہوسکتا ہے“؟ حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: ”واہ خواجہ صاحب! ہم تو سمجھتے تھے کہ اب آپ طریق کو سمجھ گئے ہیں، مگر معلوم ہواکہ ہمارا خیال غلط تھا“۔ خواجہ صاحب رحمة اللہ علیہ کے تعجب پر حکیم الامت قدس سرہ نے فرمایاکہ ”آپ کہہ دیتے کہ جس حال میں ہو اسی میں چلے جاؤ، ممکن ہے کہ یہ ملاقات ہی اس بلا سے نجات کا ذریعہ بن جائے۔“
چنانچہ خواجہ صاحب رحمة اللہ علیہ یہاں سے واپس گئے تو پھر اتفاقاً جگر صاحب سے ملاقات ہوگئی اوریہ سارا واقعہ جگر صاحب کو سنادیا۔ انھوں نے حضرت کے یہ کلمات سن کر زارزار رونا شروع کردیا اور بالآخر یہ عہد کرلیا کہ اب مربھی جاؤں تو اس خبیث چیز کے پاس نہ جاؤں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ شراب چھوڑنے سے بیمار پڑگئے، حالت نازک ہوگئی، اس وقت لوگوں نے کہاکہ آپ کو اس حالت میں بقدرِ ضرورت پینے کی تو شریعت بھی اجازت دے گی لیکن یہ جگر صاحب کا جگر تھا کہ اس کے باوجود انھوں نے اس اُمّ الخبائث کو ہاتھ نہ لگایا۔ اللہ تعالیٰ اہل عزم و ہمت کی مدد فرماتے ہیں، اس وقت بھی حق تعالیٰ کی مدد سے چند روز ہی میں شفاءِ کامل حاصل ہوئی۔ اس کے بعد وہ تھانہ بھون تشریف لائے اور حضرت نے ان کا بڑا اکرام فرمایا۔(۳۹)
۳۴- غالباً شملہ کے کسی کالج میں حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کا بیان ہوا، وہاں آپ نے فرمایا کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کو جوشبہات پیداہوتے ہیں وہ صرف نصابِ تعلیم ہی کاقصور نہیں بلکہ اس کا بڑا سبب وہ لادینی ماحول ہے جس میں ہماری نئی نسل پلتی اور ڈھلتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بزرگ علماء وصلحاء کی مجلسیں بحمداللہ ہرجگہ کچھ نہ کچھ قائم ہیں، کچھ دن اس ماحول میں رہنے کی عادت ڈالیں۔
غالباً اسی مجلس میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کو انگریزی پڑھنے والوں سے نفرت ہے؟ حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ ”ہرگز نہیں۔ ان لوگوں سے کوئی نفرت نہیں، البتہ ان کے بعض اعمال وافعال سے نفرت ہے جو شریعت کے خلاف ہیں“ یہ صاحب بولے ”وہ اعمال وافعال کیا ہیں“؟ حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ ”مختلف لوگوں کے مختلف اعمال ہیں، سب یکساں نہیں“۔ یہ صاحب بھی خوب آزاد آدمی تھے، کہنے لگے کہ ”مثلاً مجھ میں کیا ہیں“؟ آج کے عام وضع طلباء کی طرح ان کی بھی ڈاڑھی صاف تھی، حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: ”بعض چیزیں تو ظاہر ہیں، مگر مجمع میں اس کا اظہار کرنے سے حیا مانع ہے اورآپ کے باقی حالات ومعاملات مجھے معلوم نہیں جس پر کوئی رائے ظاہر کرسکوں“۔
یہ جلسہ ختم ہوا، حضرت رحمة اللہ علیہ تھانہ بھون واپس آگئے پھر اتفاقاً کالج کی تعطیل ہوئی تو ایک طالب علم کا خط آیا، خط میں لکھا تھا کہ ہماری اس وقت تعطیل ہے، میں آپ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق کچھ دن آپ کی خدمت میں رہنا چاہتا ہوں مگر میری ظاہری صورت بھی شریعت کے مطابق نہیں اوراعمال و افعال میں بھی بہت گڑبڑ ہے، ان حالات میں حاضری کی اجازت ہوتو میں حاضر ہوجاؤں، حضرت نے تحریر فرمایا ”جس حالت میں ہیں، چلے آئیں، کوئی فکر نہ کریں“۔ یہ صاحب آگئے اور عرض کیا کہ مجھے بہت سے شبہات واشکالات ہیں، ان کو حل کرنا چاہتا ہوں، حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ مناسب ہے مگر اس کی صورت یہ کرنی ہوگی کہ آپ کے جتنے شبہات ہیں ان سب کو لکھ لیں اور آپ مجلس میں بیٹھ کر ہماری باتیں سنیں، کوئی سوال نہ کریں۔ جب آپ کی مدتِ قیام کے تین دن رہ جائیں اس وقت یاد دلائیں تو میں آپ کو سوالات کا مستقل وقت دوں گا اور یہ بھی فرمایاکہ جو سوالات آپ لکھ کررکھیں گے، اس عرصہ میں کسی سوال کا جواب سمجھ میں آجائے تو اس کو کاٹ دیں۔
ان صاحب نے ایسا ہی کیا اور جب رخصت سے تین روز پہلے حضرت رحمة اللہ علیہ نے سوالات کا وقت دیاتو انھوں نے بتلایا کہ میرے سوالات کی بہت طویل فہرست تھی مگر دورانِ قیام اکثر سوالات کے جواب خود سمجھ میںآ گئے، ان کو کاٹتا رہا۔ اب صرف چند سوال باقی ہیں چنانچہ یہ سوالات انھوں نے پیش کیے اور حضرت رحمة اللہ علیہ سے ان کے جوابات پاکر ہمیشہ کے لیے مطمئن ہوگئے۔(۴۰)
مخالفین سے سلوک
۳۵- اکابر دیوبند کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے مخالف مسلک والوں سے بھی بداخلاقی کا برتاؤ نہیں کرتے تھے نہ ان کی تردید میں دلآزار اسلوب کو پسند کرتے تھے اور نہ طعن آمیز القاب سے یاد کرنا پسند کرتے تھے بلکہ جہاں تک ہوسکتا بداخلاقی کا جواب خوش خلقی سے دیتے اورمخالفین کی دینی ہمدردی وخیرخواہی کو پیش نظر رکھتے تھے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ کے خادمِ خاص حضرت امیر شاہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مولانا رحمة اللہ علیہ خورجہ تشریف لائے اور وہاں ایک مجلس میں مولوی فضل رسول بدایونی کا تذکرہ چل گیا (چونکہ وہ مخالف مسلک کے تھے اس لیے) میری زبان سے (طنز کے طور پر) بجائے فضل رسول کے فصل رسول نکل گیا۔ مولانا رحمة اللہ علیہ نے ناخوش ہوکر فرمایاکہ ”لوگ ان کو کیا کہتے ہیں“؟ میں نے کہا ”فضل رسول“ آپ نے فرمایا ”تم فصل رسول کیوں کہتے ہو“؟ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”یہ حضرات تھے جو لا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب کے پورے عامل تھے حتیٰ کہ مخالفین کے معاملہ میں بھی۔“(۴۱)
۳۶- بریلی کے مولوی احمد رضا خاں صاحب نے اکابر دیوبند کی تکفیر اور ان پر سبّ وشتم کا جو طریقہ اختیار کیاتھا وہ ہر پڑھے لکھے انسان کو معلوم ہے، ان فرشتہ خصلت اکابر پر گالیوں کی بوچھاڑ کرنے میں انھوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے جو اس دشنام طرازی کا سب سے بڑا نشانہ تھے، ایک روز اپنے شاگردِ رشید حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کاندھلوی رحمة اللہ علیہ سے فرمایاکہ اُن کی تصنیفیں ہمیں سنادو۔ حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب رحمة اللہ علیہ نے عرض کیا کہ ”حضرت! ان میں تو گالیاں ہیں۔“ اس پر حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
”اجی دُور کی گالیوں کا کیا ہے؟ پڑی (یعنی بلاسے) گالیاں ہوں، تم سناؤ۔ آخر اس کے دلائل تو دیکھیں، شاید کوئی معقول بات ہی لکھی ہو تو ہم ہی رجوع کرلیں۔“(۴۲)

اللہ اکبر! یہ ہے حق پرستوں کا شیوہ، کہ مخالفین بلکہ دشمنوں کی باتیں بھی، اُن کی دُشنام طرازیوں سے قطع نظر، اس نیت سے سنی جائیں کہ اگر اس سے اپنی کوئی غلطی معلوم ہوتو اس سے رجوع کرلیاجائے۔
۳۷- مولانا محمود صاحب رام پوری رحمة اللہ علیہ (جن کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے) فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ میں اور ایک ہندو تحصیل دیوبند میں کسی کام کو گئے میں حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے یہاں مہمان ہوا اور وہ ہندو بھی اپنے بھائیوں کے گھر کھانا کھاکر میرے پاس آگیا کہ میں بھی یہاں ہی رہوں گا، اس کو ایک چارپائی دے دی گئی۔ جب سب سوگئے تو رات کو میں نے دیکھا کہ مولانا رحمة اللہ علیہ زنانہ میں تشریف لائے، میں لیٹا رہا اور یہ سمجھتا تھا کہ اگر کوئی مشقت کا کام کریں گے تو میں امداد کروں گا ورنہ خواہ مخواہ اپنے جاگنے کا اظہار کرکے کیوں پریشان کروں میں نے دیکھا مولانا رحمة اللہ علیہ اس ہندو کی طرف بڑھے اور اس کی چارپائی پر بیٹھ کر اس کے پاؤں دبانے شروع کیے۔ وہ خرّاٹے لے کر خوب سوتا رہا۔ مولانا محمود صاحب کہتے ہیں کہ میں اُٹھااور عرض کیاکہ حضرت! آپ تکلیف نہ کریں، میں دبادُوں گا مولانا رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ تم جاکر سوؤ، یہ میرا مہمان ہے، میں ہی اس خدمت کو انجام دوں گا۔ مجبوراً میں چپ رہ گیا اور مولانا رحمة اللہ علیہ اس ہندو کے پاؤں دباتے رہے۔(۴۳)

۳۸- مولانا احمد حسن صاحب پنجابی مدرّس کانپور نے ”ابطالِ امکانِ کذب“ میں ایک مبسوط رسالہ تحریر کرکے شائع کیا جس میں حضرت مولانا محمد اسمٰعیل شہید رحمة اللہ علیہ اور ان کے ہم عقیدہ حضرات کو فرقہٴ ضالہ مزداریہ میں (جو معتزلہ میں سے ایک گروہ ہے) داخل کردیا اوراس پر تقریظ لکھنے والوں نے تو اکابردین کی نسبت زبان درازی کی انتہا کردی۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن صاحب رحمة اللہ علیہ کو یہ رسالہ دیکھ کر طیش تو بہت آیا لیکن علم وتقویٰ کا مقام بلند ملاحظہ فرمائیے کہ غیظ وغضب کے جذبات کو پی کر ارشاد فرمایا:
”ان گستاخ لوگوں کو بُرا کہنے سے تو اکابر کا انتقام پورا نہیں لیاجاسکتا، اور ان کے اکابر کی نسبت کچھ کہہ کر اگر دِل ٹھنڈا کیا جائے تو وہ لوگ معذور و بے قصور ہیں۔“(۴۴)
۳۹- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کے مواعظ سے امت کو جو بے مثال نفع پہنچا وہ محتاجِ بیان نہیں۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کے مواعظ کا فیض آج تک جاری ہے اور جن حضرات نے ان کا مطالعہ کیا ہو وہ جانتے ہیں کہ یہ مواعظ دین کی بیشتر ضروریات پر حاوی ہیں اوراصلاح وتربیت کے لیے بے نظیر تاثیر رکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ جونپور میں آپ کا ایک وعظ ہونا تھا۔ وہاں بریلوی حضرات کا خاصا مجمع تھا، آپ کے پاس ایک بے ہودہ خط پہنچا جس میں چار باتیں کہی گئی تھیں ایک تو یہ کہ تم جُلاہے ہو دوسرے یہ کہ جاہل ہو، تیسرے یہ کہ کافر ہو۔ اور چوتھے یہ کہ سنبھل کر بیان کرنا۔
حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نے وعظ شروع کرنے سے پہلے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس قسم کا ایک خط میرے پاس آیا ہے پھر وہ خط سب کے سامنے پڑھ کر سنایا اور فرمایاکہ ”یہ جو لکھا ہے کہ تم جلاہے ہو، تو اگر میں جلاہا ہوں بھی تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ میں یہاں کوئی رشتے ناتے کرنے توآیا نہیں، احکامِ الٰہی سنانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، سو اس کو قومیت سے کیا علاقہ؟ دوسرے یہ چیز اختیاری بھی نہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو جس قوم میں چاہا پیدا فرمادیا، سب قومیں اللہ تعالیٰ ہی کی بنائی ہوئی ہیں اور سب اچھی ہیں اگراعمال واخلاق اچھے ہوں۔ یہ تو مسئلہ کی تحقیق تھی۔ رہی واقعہ کی تحقیق سو مسئلہ کی تحقیق کے بعد واقعہ کی تحقیق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی لیکن پھر بھی اگر کسی کو تحقیق واقعہ کا شوق ہی ہوتو میں آپ کو اپنے وطن کے عمائد کے نام اور پتے لکھوائے دیتا ہوں، ان سے تحقیق کرلیجئے، معلوم ہوجائے گا کہ میں جلاہا ہوں یا کس قوم کا؟ اوراگر مجھ پر اطمینان ہوتو میں مطلع کرتاہوں کہ میں جلاہا نہیں ہوں- رہا جاہل ہونا، اس کا البتہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں جاہل بلکہ اجہل ہوں لیکن جو کچھ اپنے بزرگوں سے سنا ہے اور کتابوں میں دیکھا ہے اس کو نقل کردیتا ہوں۔اگر کسی کو کسی بات کے غلط ہونے کا شبہ ہو اُس پر عمل نہ کرے- اور کافر ہونے کو جو لکھا تواس میں زیادہ قیل وقال کی حاجت نہیں، میں آپ صاحبوں کے سامنے پڑھتا ہوں:
اشہد أن لا الٰہ الا اللّٰہ وأشہد أن محمّد رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم)
اگر میں نعوذ باللہ کافر تھا بھی تو لیجیے اب نہیں رہا – آخر میں سنبھل کر بیان کرنے کی دھمکی دی گئی ہے، اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ وعظ گوئی کوئی میرا پیشہ نہیں ہے، جب کوئی بہت اصرار کرتا ہے تو جیسا کچھ مجھے بیان کرنا آتاہے بیان کردیتا ہوں، اگر آپ صاحبان نہ چاہیں گے تو میں ہرگز بیان نہ کروں گا۔ رہا سنبھل کر بیان کرنا تو اس کے متعلق صاف صاف عرض کیے دیتا ہوں کہ میری عادت خود ہی چھیڑ چھاڑ کی نہیں ہے، قصداً کبھی کوئی ایسی بات نہیں بیان کرتا جس میں کسی گروہ کی دل آزاری ہو یا فساد پیداہو، لیکن اگر اصول شرعیہ کی تحقیق کے ضمن میں کسی ایسے مسئلہ کے ذکر کی ضرورت ہی پیش آجاتی ہے جس کا رسوم بدعیہ سے تعلق ہے تو پھر میں رُکتا بھی نہیں، اس لیے کہ یہ صریح دین میں خیانت ہے- سب باتیں سننے کے بعد اب بیان کے متعلق جو آپ صاحبوں کی رائے ہو اس سے مطلع کردیا جائے۔ اگر اس وقت کوئی بات کسی کے خلافِ طبع بیان کرنے لگوں تو فوراً مجھ کو روک دیا جائے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی ادنیٰ شخص بھی مجھے روک دے گا تو میں اپنے بیان کو فوراً منقطع کردوں گا اور بیٹھ جاؤں گا۔ بہتر تو یہ ہے کہ وہی صاحب روک دیں جنھوں نے یہ خط بھیجا ہے یا اگر خود کہتے ہوئے انھیں شرم آئے یا ہمت نہ ہوتو چپکے سے کسی اور ہی کو سکھلاپڑھا دیں، ان کی طرف سے وہ مجھے روک دیں۔
یہ سن کر ایک معقولی مولوی صاحب جو بدعتی خیال کے تھے اور جن کا وہاں بہت اثر تھا، کڑک کر بولے: ”یہ خط لکھنے والا کوئی حرام زادہ ہے، آپ وعظ کہیے آپ کیسے فاروقی ہیں“؟ حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: ”میں ایسی جگہ کا فاروقی ہوں جہاں کے فاروقیوں کو یہاں کے لوگ جلاہے سمجھتے ہیں۔“
جب سارا مجمع خط لکھنے والے کو برابھلا کہنے لگا، خاص طور سے وہ مولوی صاحب فحش فحش گالیاں دینے لگے تو حضرت والا رحمة اللہ علیہ نے روکا کہ ”گالیاں نہ دیجیے، مسجد کا تو احترام کیجیے“ – پھر حضرت والا رحمة اللہ علیہ کا وعظ ہوا اور بڑے زور شور کا وعظ ہوا۔اتفاق سے دورانِ وعظ میں بلاقصد کسی علمی تحقیق کے ضمن میں کچھ رسوم وبدعات کا بھی ذکر چھڑگیا پھر تو حضرت والا رحمة اللہ علیہ نے بلاخوفِ لومة لائم خوب ہی ردّ کیا، لوگوں کو یہ اختیار دے چکے تھے کہ وہ چاہیں تو وعظ کو روک دیں، لیکن کسی کی ہمت نہ ہوئی۔
وہ معقولی مولوی صاحب شروع شروع میں تو بہت تحسین کرتے رہے اور بار بار سبحان اللہ سبحان اللہ کے نعرے بلند کرتے رہے، کیونکہ اس وقت تصوف کے رنگ پر بیان ہورہا تھا لیکن جب ردّ بدعات ہونے لگا تو پھر چپ ہوگئے مگر بیٹھے سنتے رہے، یہ بھی خدا کا بڑا فضل تھا کیونکہ بعد کو معلوم ہوا کہ وہ ایسے کٹر اور سخت ہیں کہ جہاں کسی واعظ نے کوئی بات خلافِ طبع کہی، انھوں نے وہیں ہاتھ پکڑ کر منبر سے اتار دیا، لیکن اس وقت انھوں نے دم نہیں مارا، چپکے بیٹھے سنتے رہے۔ لیکن جب وعظ ختم ہوا اور مجمع رخصت ہونے کے لیے کھڑا ہوگیا تو اُس وقت اُن مولوی صاحب نے حضرت والا رحمة اللہ علیہ سے کہا کہ ”ان مسائل کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی“؟ اس پر ایک دوسرے ذی اثر مولوی صاحب (جو خود بدعتی خیال کے تھے) بڑھے اور جواب دینا چاہا لیکن حضرت والا رحمة اللہ علیہ نے انھیں روک دیا کہ خطاب مجھ سے ہے، آپ جواب نہ دیں، مجھے عرض کرنے دیں پھر حضرت والا رحمة اللہ علیہ نے اُن معقولی مولوی صاحب سے فرمایاکہ ”آپ نے یہ بات پہلے مجھ سے نہ فرمائی، ورنہ میں احتیاط کرتا، میں نے تو جو کچھ بیان کیا ضروری ہی سمجھ کر کیا، مگر اب کیا ہوسکتا ہے؟ اب تو بیان ہوچکا۔ ہاں! ایک صورت اب بھی ہوسکتی ہے وہ یہ کہ ابھی تو مجمع موجود ہے، آپ پکار کر کہہ دیجیے کہ صاحبو! اس بیان کی کوئی ضرورت نہ تھی، پھر میں آپ کی تکذیب نہ کروں گا اور آپ ہی کی بات اخیر رہے گی۔“ اس پر سب لوگ ہنس پڑے اور مولوی صاحب وہاں سے رخصت ہوگئے۔
اُن کے چلے جانے کے بعد سب لوگ اُن کو برا بھلا کہنے لگے، جب بہت شور غل ہوا تو حضرت والا رحمة اللہ علیہ نے کھڑے ہوکر فرمایاکہ ”صاحبو! ایک پردیسی کی وجہ سے آپ مقامی علماء کو ہرگز نہ چھوڑیں، میں آج مچھلی شہر جارہا ہوں۔ اب آپ صاحبان یہ کریں اور میں ان صاحب کو بالخصوص خطاب کرتا ہوں جنھوں نے خط بھیجا ہے کہ وہ میرے بیان کا رد کرادیں پھر دونوں راہیں سب کے سامنے ہوں گی جو جس کو چاہے اختیار کرے، فساد کی ہرگز ضرورت نہیں“۔ پھر ان دوسرے مولوی صاحب نے (جو بدعتی خیال کے ہونے کے باوجود حمایت کے لیے آگے بڑھے تھے) کھڑے ہوکر فرمایاکہ:
”صاحبو! آپ جانتے ہیں کہ میں مولودیہ بھی ہوں، قیامیہ بھی ہوں مگر انصاف اور حق یہ ہے کہ جو تحقیق آج مولوی صاحب نے بیان فرمائی ہے صحیح وہی ہے۔“(۴۵)
۴۰- احقر نے اپنے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہم سے سنا ہے کہ حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے متعلقین میں سے کسی صاحب نے اہل بدعت کی تردید میں ایک رسالہ لکھا تھا۔ اہل بدعت نے اس کا جو ردّ لکھا، اس میں انھیں کافر قرار دیا۔اس عمل کے جواب میں ان صاحب نے دو شعر کہے:
مرا کافر اگر گفتی غمے نیست چراغِ کذب را نبود فروغے

مسلمانت بخوانم در جوابش دروغے را جزا باشد دروغے(۴۶)

انھوں نے حضرت شیخ الہند کو یہ شعر سنائے تو آپ نے شعری لطافت کی تو تعریف فرمائی لیکن ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ ”تم نے اُن کو لطافت کے ساتھ ہی سہی، کافر تو کہہ دیا حالانکہ فتویٰ کی رُو سے وہ کافر نہیں ہیں اس لیے ان اشعار میں اس طرح ترمیم کرلو۔

مرا کافر اگر گفتی غمے نیست

چراغِ کذب را نبود فروغے

مسلمانت بخوانم در جوابش

وہم شکر بجائے تلخ دوغے

اگر تو موٴمنی فبہا ، و اِلاّ

دروغے را جزا باشد دروغے(۴۷)

یہ چند واقعات ہیں جو کسی خاص اہتمام اور تحقیق و جستجو کے بغیر زیرقلم آگئے۔ اس مختصر مضمون میں اس قسم کے واقعات کا احاطہ مقصود نہیں۔ اگر کوئی بندئہ خدا مزید تحقیق وجستجو اور مطالعہ کے بعد ان حضرات کے ایسے واقعات کو یکجا کردے تو علم و دین کی بڑی خدمت ہو لیکن مذکورہ چند واقعات اکابر دیوبند کے حسن وجمال کی ایک جھلک دکھانے کے لیے، اُمید ہے کافی ہوں گے۔ وللہ الحمد اولاً وآخرا۔
٭٭٭
حواشی:

(۳۷) مجالس حکیم الامت، حضرت مفتی محمد شفیع صاحب، ص:۵۸۔

(۳۸) مجالس حکیم الامت: حضرت مفتی محمد شفیع صاحب، ص:۶۰-۶۲۔

(۳۹) ارواح ثلاثہ،ص:۱۷۵، نمبر ۲۲۸۔

(۴۰) ارواحِ ثلاثہ،ص:۲۱۱، نمبر ۳۰۸۔

(۴۱) ارواحِ ثلاثہ،ص:۲۸۵، نمبر ۴۳۲۔

(۴۲) حیات شیخ الہند رحمة اللہ علیہ از حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب رحمة اللہ علیہ،ص:۱۸۳۔

(۴۳) اشرف السوانح، ج:۱، ص:۶۸-۷۲۔

(۴۴) تم نے مجھے کافر کہا مجھے اس کا غم نہیں کیونکہ جھوٹ کا چراغ جلا نہیں کرتا۔میں اس کے جواب میں تمہیں مسلمان کہوں گا، کیونکہ جھوٹ کی سزا جھوٹ ہی ہوسکتی ہے۔“

(۴۵) ”تم نے مجھے کافر کہا،مجھے اس کا غم نہیں کیونکہ جھوٹ کا چراغ جلا نہیں کرتا، میں اس کے جواب میں تمہیں مسلمان کہوں گا اور تلخی کا جواب شیرینی سے دوں گا، اگر تم واقعی مومن ہوتو خیر ورنہ جھوٹ کی سزا جھوٹ ہی ہوسکتی ہے۔“
بشکریہ ماہنامہ دارلعلوم

ایک تبصرہ

ایک تبصرہ “اکابر دیوبند کیا تھے؟”

  1.  سیفی خان

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہت ہی اچھا مضمون ہے جزاک اللہ خیرا

تبصرہ فرمائیں