گستاخئی رسول کی سزا اور گستاخوں کا انجام

Feb
16

جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کے فیصلے عمومی قوانین سے بڑھ کرہیں کہ شریعت کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ کی رسالت و نبوت پر ایمان اور آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح فرض ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنیٰ توہین بھی ایمان سے محرومی کا ذریعہ ہے اور ایسے مجرم کے لیے بڑی سے بڑی سزا بھی ناکافی ہے۔

اطاعت نبوی فرض ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

مَنْ یُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہ۔جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے الّٰلہ کی اطاعت کی۔ (النساء:۸۰)۔یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ أُولِی الاَمْرِ مِنْکُمْ۔ترجمہ:اے ایمان والو! الّٰلہکی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔۔۔ ( النساء:۵۹)۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت حاکم یا سربراہِ مملکت ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ رسول ہونے کی حیثیت سے فرض ہے۔ جب حاکم وقت کی توہین قابل مواخذہ جرم ہے تو رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ و سلم کی توہین کتنا بڑا جرم ہو گا؟ اس کا فیصلہ آپ اپنے ایمان سے سرشار دل سے کیجیے۔

دوسرا فرمان ہے۔’’فلَاَ وَ رَبِّکَ لَا یُؤْ مِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً۔‘‘سوقسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس

جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پائیں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں اس کو خوشی سے ( النساء:۶۵)

قاضی عیاض نے الشفاء فی حقوق المصطفیٰ میں لکھا ہے کہ :

فسلب اسم الایمان عمن وجد فی صدرہ حرجا من قضاۂ ولم یسلم لہ۔

یعنی جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں اپنے دل میں تنگی محسوس کرتا ہے اور اس کو دل سے تسلیم نہیں کرتا اس کا ایمان سلب ہو گیا۔

شاتمینِ رسول ﷺ سے الٰہی انتقام

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوُ لہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْنًا۔

جو لوگ الّٰلہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں الّٰلہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے توہین آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (احزاب:۵۷)

وَالَّذِیْن یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْم۔

اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔ ( التوبۃ:۶۱)

اِنّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْْزِءِیْن۔ ہم تیری طرف سے مذاق کرنے والوں کو کافی ہیں(الحجر: ۹۵)

استہزاء کرنے والے وہ لوگ تھے جو اپنی شقاوت قلبی کی وجہ سے نہ صرف جناب رحمت عالم ﷺکی دعوت و تبلیغ میں رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف رہے، بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر انھوں نے حضرت فخر موجودات ﷺ کی بارگاہ اطہر میں دریدہ دہنی جیسی بدکاری کا بھی ارتکاب کیا۔ ذیل میں ایسے چند بد بختوں کے نام اور ان کے بھیانک انجام درج کیے جاتے ہیں۔

(۱) امیہ بن خلف :سیدنا بلال رضی الّٰلہ عنہ پر ظلم وستم توڑنے والا یہی شخص تھا۔ بلال رضی الّٰلہ عنہ ہی کے ہاتھوں نے اس رأس الکفر کو خاک وخون میں سلایا اور دارالبوار کو پہنچایا۔

(۲) عاص بن وائل :گدھے پر سوار تھا۔ ایک غار کے برابر پہنچا۔ گدھے نے ٹھوکر کھائی تو سر کے بل گڑھے میں اوندھا جا پڑا۔ وہاں ایک سخت زہر یلا عقرب موجود تھا۔ اس نے کاٹا، سوجن ہو گئی، سڑسڑ کر مرا۔

(۳)نضر بن حارث :مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہوا۔ یہ گستاخوں کی جماعت میں پیش پیش رہتا تھا۔

(۴) عتیب: اسود بن المطلب کا پوتا تھا۔ عبرتناک موت ہوئی۔

(۵) حارث بن زمعہ : عتیب کا چچیرا بھائی اور اُسی کی طرح گستاخ تھا۔ یہ بھی عبرتناک انجام سے دوچار ہوا۔

(۶) طعیمہ بن عدی : سخت بد زبان تھا۔ قہرِ الٰہی کا شکار ہوا، ذلّت کی موت پائی۔

(۷) اسود بن مطلب : یہ بد بخت حضور صلی الّٰلہ علیہ و سلم کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ ایک درخت کے نیچے سویا۔ اٹھا تو سخت بے چین تھا۔ کہتا تھا کہ میری آنکھوں میں کانٹے چبھوئے جاتے ہیں۔ اسی اذیّت میں موت نصیب ہوئی۔

(۸) عاص بن منبہ :پہلے گدھے پر سوار تھا۔ طائف کی راہ میں کانٹا لگا، اس کے زہر سے ہلاک ہوا۔

(۹) منبہ بن حجاج :اندھا ہوا، پھر تڑپتا ہوا مرگیا۔

(۱۰) ابو قیس بن ناکہ :جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا دہی کو اپنی راحت سمجھتا تھا۔ اذیت سے ذلیل ہو کر مرا۔

(۱۱) ابو جہل :رأس الاشرار تھا۔ بدر میں کم سن صحابی معاذ اور معوذ رضی الّٰلہ عنہما کے ہاتھوں قتل ہوا۔

(۱۲) عقبہ بن ابی معیط:جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں سجدہ کرتے وقت پھندا ڈالا۔ صحابہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔

(۱۳) حارث بن قیس سہمی :پیٹ میں زرد پانی پڑگیا تھا۔ جو اس کے منہ سے نکلا کرتا۔ اسی ذلت سے ہلاک ہوا۔

(۱۴) ولید بن مغیرہ :ایک خزاعی سوار کا نیزہ اکحل میں لگا، رگِ جان کٹ گئی۔

(۱۵) ابو لہب :عدسہ وطاعون میں مبتلا ہوکر واصل جہنم ہوا۔ دوستوں اور عزیزوں نے بھی لاش کو ہاتھ نہ لگایا۔ کوٹھے پر چڑھ کر اس کے اقارب نے لاش پر اتنے پتھر پھینکے کہ لاشہ ان میں چھپ گیا اور یہی ڈھیر اس کی قبر بنا۔

(۱۶) اسود بن یغوث :بادِ سموم سے چہرہ جھلس گیا۔ گھر آیا تو گھر والوں نے اسے شناخت نہ کیا۔ گھر سے باہر تڑپ تڑپ کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگیا۔ زبان پیاس کے مارے دانتوں سے باہر نکلی ہوئی تھی۔

(۱۷) زبیر بن ابی امیہ :وبا کا لقمہ ہوا۔

(۱۸) مالک بن الطلالہ :لہو، رادھ کی قے آئی اور فوراً مرگیا۔

(۱۹) رکاز بن عبد یزید :بے کسی ونامرادی میں جان دے دی۔

عدالتِ نبوی سے گستاخ�ئ رسول کا فیصلہ

سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مَنْ سَبَّ الْاَنْبِیَاءَ قُتِلَ وَ مَنْ سَبَّ اَصْحَابِی جُلِدَ۔

جو انبیا پر دشنام تراشے اُسے قتل کر دو اور جو صحابہ کو گالی بکے اُسے دُرّے لگاؤ۔(طبرانی، الصواعق المحرقہ)

سیدنا ابن عباس رضی الّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی کی ایک امّ ولد تھی جو نب�ئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی اور روکنے پر بھی باز نہ آتی تھی۔ ایک رات آپ کی برائی کرنے لگی جس پر اس نابینا صحابی نے چھرا اس کے پیٹ میں گھونپ دیا جس سے وہ مر گئی۔ جب صبح ہوئی تو اس کے قتل کا مقدمہ نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش ہوا۔ آپ صلی الّٰلہعلیہ وسلم نے تمام واقعہ سننے کے بعد تمام لوگوں کو حاضر عدالت ہونے کا حکم دیا اور جب سب جمع ہو گئے تو آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے قسم دے کے فرمایا جس شخص نے بھی یہ جرم کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے جس پر وہ نابینا صحابی مجمع کو پھاندتا ہوا آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ انا صاحبہا میں اس کا قاتل ہوں۔ وہ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی برائی کرتی تھیمیری زجر و توبیخ اور منع کرنے پر بھی باز نہ آتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے موتیوں کے مانند دو بیٹے ہیں لیکن کل رات جب اس نے آپ کو بر بھلا کہا تو میں نے اس کے پیٹ میں چھرا گھونپ کر اس کو مار دیا۔ حضور صلی الّٰلہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی کوئی تردید پیش نہیں ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألا اِشْہَدُوا اَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ۔سنو گواہ رہو! اس کا خون رائیگاں گیا۔ (یعنی اس کے خون کے بدلے قصاص یا دیت کا مطالبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ توہینِ رسالت کے سبب سے واجب القتل ہو گئی تھی) (ابو داؤد۔ص:۲۵۱)

کعب بن اشرف :جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کو طرح طرح کی تکلیفیں دیا کرتا تھا۔ قریش مکہ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارتا تھا اور اوّل روز سے جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کو نعوذ بالّٰلہ قتل کرنے کے درپے تھا۔ چنانچہ ایک بار اس نے جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور غرض یہ تھی کہ موقع پا کر آں جناب صلی الّٰلہ علیہ وسلم کو قتل کردے۔ مگر الّٰلہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ عن عمرو بن دینار: ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من لِکعب بنِ اشرف؟ فانہ قد اٰذَی اللّٰہَ ورسولَہٗ۔ قال محمد بن مسلمۃ اتحب ان أقتلَہٗ یا رسول اللّٰہ! قال نعم۔’’حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون کعب بن اشرف کا کام تمام کرے گا؟ اس نے الّٰلہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے۔ محمد مسلمہ رضی الّٰلہ عنہ نے عرض کیا کہ اے الّٰلہ کے رسول! اگر میں اس کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچا دوں تومجھے آپ کی محبّت حاصل ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔‘‘ (بخاری جلد۲، باب قتل کعب بن اشرف)

ابو رافع یہودی :آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھتا تھا اور لوگوں کو بھی آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی دشمنی پر ابھارتا تھا۔ جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الّٰلہ بن عتیکؓ کی نگرانی میں چند انصاری صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عتیکؓ نے اس ملعون کو اس کی خواب گاہ میں تلوار کے دو وار سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

(بخاری جلد۲، باب قتل ابی رافع عبد اللہ بن ابی الحقیق)

ابو عفک یہودی :بنو عمرو بن عوف کا ایک شخص جسے ابو عفک کہتے تھے۔ ایک سو بیس سال کا بڈھا کھوسٹ تھا، لیکن شقاوت ایسی جوان تھی کہ افضل البشر جناب نبی کریم ﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضوان الّٰلہ علیہم کی شان میں گستاخی کے لیے ہجویہ اشعار کہا کرتا تھا۔ حضرت سالم بن عمیر رضی الّٰلہ عنہ نے اس کے قتل کی نذر مانی اور جناب نبی کریم ﷺ سے اجازت لے کر رات میں اس کے گھر جا کر اس کو ٹھکانے لگا دیا۔

عصماء بنت مروان:یہ بنی عمیر بن زید کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کو ایذاء اور تکلیف دیا کرتی تھی۔ سیدنا عمیر بن عدی الخطی رضی الّٰلہ عنہ جن کی آنکھیں اس قدر کمزور تھیں کہ جہاد میں نہیں جا سکتے تھے ان کو جب اس عورت کی بات کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ اے الّٰلہ ! میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تونے رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ سلم کو بخیریت مدینہ منورہ لوٹادیا تو میں اسے ضرور قتل کرونگا آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم اس وقت بدر میں تھے۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم جب بدر سے واپس آئے تو سیدنا عمیر بنعدی رضی اللہ عنہ آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے اس کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی سیدنا عمیر رضی الّٰلہ عنہ نے بچے کو اس سے الگ کیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی پھر نماز فجر آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی۔ جب آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے توسیدنا عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا! کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا؟ عرض کی جی ہاں! میرے ماں باپ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، اے الّٰلہ کے رسول! کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا دوبکریاں بھی اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں گی ۔یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے اور اس میں کوئی دوآپس میں نہ ٹکرائیں۔ سیدنا عمیر رضی الّٰلہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد دیکھا تو فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے الّٰلہ اور اس کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی غیبی مدد کی ہے۔ تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے نابینا نہ کہو، یہ ’’بینا‘‘ ہے۔ (الصارم المسلول)

فتح مکہ کے موقع پر گستاخان رسول کا انجام

فتح مکہ کے موقع پر جب عام معافی کا اعلان ہوا اور عفو وکرم کا دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا اس وقت سولہ اشخاص ایسے تھے جن کے جرائم ناقابلِ معافی تھے اور حضور رحمت عالم صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے ان کے بارے فرمایا کہ یہ جہاں ملیں قتل کر دیے جائیں چاہے یہ غلافِ کعبہ ہی سے لپٹے ہوئے کیوں نہ ہوں۔

وہ سولہ مجرم یہ تھے:

(سیرت احمد مجتبیٰ ﷺ، جلد۳، صفحہ۲۹۸)

فتح مکہ کے موقع پر جن حضرات کو معافی مل گئی اور شرفِ صحابیت سے نوازے گئے :

(۱)

عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح

(۲)

عکرمہ بن ابی جہل

(۳)

ہبار ابن اسود

(۴)

وحشی بن حرب

(۵)

کعب بن زبیر

(۶)

عبد الّٰلہ بن زِبعَر

(۷)

ہند بنت عتبہ زوجہ ابی سفیان رضی اللہ عنہ

(۸)

صفوان بن امیّہ

(۹)

سہیل بن عمرو عامری

(۱۰)

قرتنی یا ام سعد، ابنِ خطل کی لونڈی

فتح مکہ کے موقع پر جن بدبختوں کو معافی نہ ملی اور قتل کیے گئے:

(۱) ا بن خطل

(۲) حویرث بن نُقَید۔ (حارث بن نفیل)

(۳) مقیں بن صبابر۔ (سیدنا عبدالّٰلہ لیثی نے قتل کیا)

(۴) ہُبیرہ بن ابی وہب مخزومی

(۶) سارہ ( بنی عبد المطلب میں سے کسی کی باندی تھی) اسی کے پاس سیدنا حاطب ابن ابی بلتعہ رضی الّٰلہ عنہ کا خط برآمد ہوا تھا بعض کہتے ہیں قتل کی گئی بعض کہتے ہیں اسلام لائی۔

(۷) ارنب ( ابنِ خطل کی لونڈی)

(فتح الباری، جلد۱، صفحہ۹ ؍ سیرۃ المصطفیٰ، جلد۳، حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ )

عبد الّٰلہ بن خطل: یہ فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا اس سے پہلے اس کا نام عبد العزیٰ تھا ۔ جب یہ مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبد الّٰلہ رکھا تھا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے اس صدقات وصول کرنے کے لییدوسری بستیوں میں بھیجا اس کے ساتھ خدمت کے لیے انصاری اور ایک غلام کو بھیجا۔ راستے میں ایک جگہ ابنِ خطل نے پڑاؤ کیا اور غلام کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کر کے کھانا تیار کرے یہ حکم دے کر ابن خطل سو گیا۔ جب سو کر اٹھا تو اس نے دیکھا کہ خادم نے کھانا تیار نہیں کیا تھا اس پر ابن خطل سخت غضبناک ہو گیا اور خادم کو قتل کر دیا۔ قتل کے بعد اس کو سخت خطرہ محسوس ہوا کہ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم ضرور مجھ کو اس کے قصاص میں قتل کر دیں گے اور وہ مرتد ہو گیااور مرتدین میں جا ملا اور صدقات کے اونٹ بھی ساتھ لے گیا۔ یہ چونکہ شاعر تھا اس لیے نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ اشعار بکا کرتا۔ اس کی دو لونڈیاں بھی تھیں جو اس کے اشعار گایا کرتی تھیں۔ اس کے تین جرم تھے۔ (۱) خون نا حق (۲) مرتد ہو جانا (۳) آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کی گستاخی۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ فتح کرنے کے لیے پہنچے تو ابن خطل نے اپنا جنگی لباس پہن کر گھوڑے پر سوار ہو کر نیزہ ہاتھ میں لیا کہنے لگا محمد صلی الّٰلہ علیہ وسلم کو ہرگز مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے مگر جب اس نے الّٰلہ کے شہسواروں کا دستہ دیکھا تو رعب و خوف سے تھرّا اٹھا اور سیدھا کعبہ میں پہنچا اور کعبہ کے پردوں سے جا چمٹا۔ اسی وقت ایک صحابی کعبہ میں پہنچے اور انھوں نے ابن خطل کے گھوڑے اور جنگی سامان پر قبضہ کیا ان چیزوں کو رسول الّٰلہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم اس وقت حجون کے مقام پر تھے۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔

ایک قول ہے کہ جب آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف فرما رہے تھے تو آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ یہ ابن خطل موجود ہے جو کعبہ کا پردہ پکڑے کھڑا ہے آپ صلی الّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا اُس کووہیں قتل کر دو۔ چنانچہ سیدنا سعد ابن حریثؓ اور ابو برزہؓ اسلمی نے اسے قتل کر دیا۔ ایک روایت ہے کہ سیدنا زبیرؓ ابن العوام کو اسے کیفر کردار تک پہنچانے کا موقع ملا۔تیسرا قول یہ ہے کہ سعید ابن زیدؓ نے اس کی گردن حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اڑائی(سیرت حلبیہ سیرت المصطفیٰ)
بشکریہ نقیب ختمِ نبوت ملتان

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں