نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ حیات طیبہ پرایک مختصر نظر

Feb
26

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش یتیمی کی حالت میں واقعہ فیل کے تقریباً پچاس دن بعد مشہور قول کے مطابق ۱۲/ربیع الاول مطابق ۲۰/اپریل ۵۷۱ء بروز پیر موسم بہار میں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اور والدہ نے خواب میں ایک فرشتے سے بشارت پاکر احمد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن تک اپنا دودھ پلایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب کی باندی ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چند دن دودھ پلایا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے دوسال پورے ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا، دوسال پورے ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دودھ چھڑادیا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھ سال تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر آٹھ سال ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب بھی دنیا سے پردہ فرما گئے۔ بارہ سال دو ماہ کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کی ہمراہی میں تجارت کی غرض سے ملک شام کی طرف پہلا سفر کیا۔ راستے میں یہودیوں کے ایک بڑے عالم بحیرہ راہب سے ملاقات کے بعد جناب ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس مکہ بھیج دیا، ۱۵/سال سات ماہ کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبیلہ قریش اور ایک دوسرے قبیلہ قیس کے درمیان ہونے والی جنگ (حرب الفجار) میں حصہ لیا، لیکن اس لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا، اس جنگ کے بعد عرب کے چند قبائل نے ان جنگوں سے تنگ آکر یہ معاہدہ کیا کہ آئندہ قبائلی عصبیت سے بالاتر ہوکر صرف مظلوم کی مدد کی جائے گی، اس معاہدے کو حلف الفضول کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند فرماتے ہوئے اس میں شرکت فرمائی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۱۵/ سال آٹھ ماہ تھی، ۲۳/ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سامان کو تجارت کی غرض سے ملک شام لے کر گئے اور اس میں خوب نفع کما کر واپس ہوئے، پچیس سال دوماہ کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے بطن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی پیدائش سب سے پہلے ہوئی، یہ پاؤں پر چلنا سیکھ چکے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی۔ دوسرے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں، انہی کا لقب طیب وطاہر ہے، پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا، ان کی ولادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے بعد ہوئی۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۳۰/ سال ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی، ان کا نکاح مکہ میں ہی ان کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۳۳/ سال ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی، جن کا نکاح مکہ میں ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں، جن کا نکاح مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاکی وفات کے بعد ۳ ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔ نبوت ملنے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۴۱/ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی، ان کا نکاح مدینہ میں غزوہ بدر کے بعد ذوالحجہ سنہ ۲ ھ میں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک تیسرے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ ہیں جو حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، سترہ ماہ کی عمر پاکر ۱۰ھ میں ان کی وفات ہوگئی۔
تقریباً ۳۳/ برس کی عمرمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیبی اسرار کا ظہور شروع ہوا۔۳۵/سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل کے سب منتخب افراد کے ساتھ کعبہ کی از سر نو تعمیر کے دوران حجر اسود کی اپنے ہاتھ سے تنصیب کی۔ ۹/ربیع الاول مطابق ۱۴/فروری ۶۱۰ء کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس برس ایک دن تھی تو باضابطہ طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے خلعتِ نبوت کے ساتھ ممتاز ومشرف فرمایا۔ بعثت نبوی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے بعد سے شروع ہونے والا زمانہ) کے پہلے سال صبح وعصر کی نمازیں فرض کردی گئیں، اٹھارہ رمضان المبارک کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال چھ ماہ چھ دن ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا، نبوت ملنے کے تین سال بعد تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ تبلیغ فرماتے رہے. جس کے نتیجے میں ۳۰/ سے زائد افراد مسلمان ہوگئے۔ تین سال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ علی الاعلان شروع کردی، جس کے نتیجے میں کفار مکہ جو اس وقت بیت اللہ میں رکھے بتوں کو پوجا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وصحابیات رضی اللہ عنھم کو تکلیفیں پہنچانے لگے، ان کفار مکہ کے مظالم جب حد سے بڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےبعثت کے پانچویں سال اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ودیگر اقارب کو جو تقریباً گیارہ مرد اور چار عورتوں پر مشتمل پندرہ افراد تھے، ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیا (تین ماہ بعد اس اطلاع پر کہ اہل مکہ نے اسلام قبول کرلیاہے، ان میں سے کچھ افراد مکہ واپس آگئے ،یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ اطلاع جھوٹی تھی) بعثت کے چھٹے سال حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ بھی اسلام لے آئے تو لوگ اعلانیہ اسلام میں داخل ہونے لگے، اسلام کی روز بروز بڑھتی ہوئی شان سے خوفزدہ ہوکر کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کے مکمل مقاطعہ کے لئے ایک عہد نامہ لکھ کر بیت اللہ میں لٹکادیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت کے ساتویں سال ایک گھاٹی شعب ابی طالب میں اپنے تمام اقرباء ورفقاء سمیت مقید کردیئے گئے، ان سخت حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ پھر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کے لئے فرمایا، جن میں تراسی مرد اور بارہ عورتیں شامل تھیں۔ تین سال بعد اس شدید محاصرے کا خاتمہ ہوا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً ۴۹/ سال سات ماہ ہوئی تو ماہ شوال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب وفات پاگئے اور اس کے صرف تین دن بعد ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا۔
اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے سفر پر تشریف لے گئے۔ اور اسی سفر میں پانچوں نمازیں فرض کی گئیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں اسلام کی اشاعت کا فیصلہ فرمالیا تو قبیلہ اوس کے چند آدمیوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ میں ملاقات ہوگئی اور ان میں سے دو آدمی اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اورذکوان بن عبد قیس رضی اللہ عنہ مشرف باسلام ہوئے۔ بعثت نبوی کے گیارہویں سال کچھ اور آدمی مدینہ سے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور ان میں سے تقریباً آٹھ افراد مسلمان ہوئے ۔ بعثت نبوی کے بارہویں سال جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۵۲/ سال تھی، ماہ ذو الحجہ میں جمرہ عقبہ کے قریب مدینہ سے آئے ہوئے تقریباً بارہ افراد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، جسے بیعت عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے، اگلے سال جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر کے تریپنوے سال میں تھے تو ماہ ذو الحجہ میں مدینہ طیبہ سے ایک بڑا قافلہ مکہ معظمہ پہنچا، جن میں ستر مرد اور دوعورتیں شامل تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شب کے وقت جمرہ عقبہ کے قریب ان سے ملاقات کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے آئے ہوئے ان حضرات سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: یہ میرا بھتیجا ہے جو ہمیشہ اپنی قوم میں عزت وحفاظت کے ساتھ رہا ہے، تم ان کو مدینہ لے جانا چاہتے ہو ۔ اگر ان کے مخالفین سے ان کی حفاظت کا ذمہ لے سکتے ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ ان کو اپنے قبیلہ میں رہنے دو۔اس مدنی قافلہ کے سردار نے کہا کہ ہم حضورا کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا دست مبارک دیجئے کہ ہم بیعت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھادیا اور یہ سب لوگ بیعت نبوی سے مشرف ہوئے، اس بیعت کو بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں۔
پھر اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ صفر کی ستائیسویں شب میں مکہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ساتھ لئے روانہ ہوکر غار ثور پہنچے اور اس غار میں تین راتیں قیام کرنے کے بعد یکم ربیع الاول ایک ہجری (وہ زمانہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ کی طرف ہجرت سے شروع ہوا) بروز پیر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً باون سال گیارہ ماہ انیس دن تھی، مدینہ طیبہ روانہ ہوگئے، سات دن کے سفر کے بعد ۸/ربیع الاول سنہ۱ھ مطابق ۲۳/ ستمبر ۶۲۲ء بروز پیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے علاقے قباء پہنچے اور یہاں مسجد قباء کی بنیاد رکھی۔ ۱۲/ربیع الاول بروز جمعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قباء سے سوار ہوکر بنی سالم کے گھروں تک پہنچے تھے کہ جمعہ کا وقت ہوگیا ،یہاں تقریباً سو آدمیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا پہلا جمعہ پڑھایا۔ جمعہ سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے روانہ ہوئے، جہاں اب مسجد نبوی ہے، اس سے متصل حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا، یہاں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی رک گئی ،پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم مستقل یہیں قیام فرمایا۔
مدینہ میں قیام کے بعد ماہ ربیع الاول میں ہی سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنھم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے لئے گھر تعمیر کرائے۔ جب مسجد نبوی کی تعمیر تقریباً مکمل ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے ۴۵/ مہاجرین اور ان انصار مدینہ کے مابین مواخات قائم کرتے ہوئے ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بلاکر فرماتے گئے کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہو، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سال اسلام کا پہلا مدرسہ صفہ قائم فرمایا۔صفہ سائبان کو کہتے ہیں، یہ سائبان مسجد نبوی کے ایک کنارے پر مسجد سے ملاہوا تیار کیا گیا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جو دن بھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سنتے تھے، رات کو یہیں آرام فرماتے۔
اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منشور تیار کیا جس میں مہاجرین وانصار کے علاوہ ان یہود ومشرکین کو بھی شامل کیا گیا جو اس وقت مدینہ میں آباد تھے، جس کا مقصد بلا امتیاز مذہب وقوم کے اندرونی وبیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک اتحادی عمل کی ترویج تھی، اس معاہدہ کو میثاق مدینہ کہا جاتا ہے، اسی سال ماہ شوال میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی (جن کا نکاح آپ سے پہلے ہی ہو چکا تھا) رخصتی ہوئی۔ اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسریّے (سریہ جہاد کے اس دستے کو کہا جاتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود شرکت نہ فرمائی ہو، بلکہ اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو اس دستے کا امیر مقرر کرکے روانہ فرمایا ہو ،خواہ جنگ کی نوبت آئی ہو یا نہیں، نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ دستہ جنگ ہی کی نیت سے روانہ کیا گیا ہو) روانہ فرمائے۔
۲ ھ میں پانچ غزوات (غزوہ اس چھوٹے یا بڑے لشکر کو کہتے ہیں جس میں آپ ابنفس نفیس شریک ہوئے ہوں، خواہ اس سفر میں جنگ کی نوبت آئی ہو یا نہ آئی ہو اور خواہ اس لشکر کے پیش نظر جنگ کے علاوہ کوئی اور مقصد ہو) ہوئے، غزوہ ابوأ جس کو غزوہ ودان بھی کہتے ہیں۔ غزوہ بواط، غزوہ بدر کبریٰ، غزوہ بنی قینقاع، غزوہ سویق۔ اس سال کے غزوات میں سے سب سے اہم غزوہ بدر ہے جو رمضان المبارک کی ۱۸/ تاریخ کو بدر کے مقام پر( جو مدینہ سے ۸۰ میل دور ہے) وقوع پذیر ہوا۔اب تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر پندرہ شعبان ۲ھ نماز ظہر کے دوران اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی طرف مسلمانوں کو منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اسی سال یکم رمضان المبارک کو روزے فرض کئے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکم شوال کو نماز عید الفطر پڑھائی اور خطبہ عید الفطر میں لوگوں کو صدقة الفطر کا حکم دیا۔
۳ھ میں تین غزوات ہوئے:غزوہ غطفان، غزوہ احد، غزوہ حمرأ الاسد اور دوسریّے روانہ ہوئے، غزوہ احد اس سال کا سب سے اہم غزوہ ہے جو ماہ شوال میں وقوع پذیر ہوا۔ ماہ شعبان میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور اسی سال ماہ رمضان میں حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ بنیں ۔ کعب بن اشرف یہودی کا خاتمہ، سود خوری کی حرمت کا ابتدائی حکم، شراب کی ابتدائی حرمت کا حکم، یتیموں اور زوجین کے حقوق سمیت وراثت کے مفصل قوانین کا نزول بھی اسی سال ہوا۔ ۴ھ میں دو غزوات پیش آئے: غزوہ نبی النضیر، غزوہ بدر صغریٰ اور چار سریّے روانہ کئے گئے۔ اس سال کے اوائل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا (جو صرف چار ماہ قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی تھیں) انتقال فرماگئیں۔ یکم ذوالقعدہ بروز جمعہ کو پردے کا حکم نازل ہوا، شراب کی قطعی حرمت کا حکم بھی اسی سال دیا گیا۔نیز حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسی سال ماہ جمادی الثانیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں۔
سنہ۵ھ میں چار غزوات ہوئے: غزوہ ذات الرقاع، غزوہ دومتہ الجندل، غزوہ مریسیع جس کو غزوہ بنو المصطلق بھی کہا جاتا ہے اور غزوہ خندق جو زیادہ مشہور اور اہم ہے۔ غزوہ بنو المصطلق سے واپسی پر تیمم کا حکم نازل ہوا، اسی سال ماہ شعبان میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں اور اسی سال حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ بنیں۔
۶ھ میں تین غزوات پیش آئے۔ غزوہ بنی الحیان، غزوہ غابہ جس کو ذی قرہ بھی کہا جاتا ہے، غزوہ حدیبیہ جس کو صلح حدیبیہ بھی کہا جاتا ہے اور گیارہ سریّے بھی روانہ کئے گئے۔ اسی سال کے وسط میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں اور اسی سال کے اواخر میں حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی اسی سال مسلمان ہوئے اور نیز اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے درج ذیل بادشاہوں کو دعوتی خطوط لکھ کر اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعے ان تک پہنچائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ہرقل نامی بادشاہ روم کے پاس بھیجا، حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو کسریٰ خسرو پرویز کج کلاہ ایران کی طرف روانہ فرمایا اور حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو سلطان مصر واسکندریہ (مقوقس) کی طرف بھیجا اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بادشاہان عمان یعنی جیفر اور عبد اللہ کے پاس بھیجا۔
۷ھ میں صرف ایک غزوہ خیبر ہوا اور پانچ سرایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمائے، غزوہ خیبر کے بعد اس سال کے اوائل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور اسی سال کے آخر میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں، اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرہ کی جو صلح حدیبیہ میں چھوڑدیا گیا تھا، قضاء فرمائی۔
۸ھ میں چار اہم غزوات پیش آئے۔ غزوہ موتہ، فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ طائف اور دس سرایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمائے، ابوسفیان رضی اللہ عنہ جو اب تک مسلمانوں کے دشمن تھے ،اس سال اسلام لے آئے۔
۹ھ میں غزوہ تبوک ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سرایا روانہ کئے… غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کی مسجد ضرار ( جس میں جمع ہو کر وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مشورہ کرتے تھے) کو آگ لگادینے کا حکم دیا۔ اطراف عالم میں پھیلتی اسلام کی نشر واشاعت سے متاثر ہوکر اس سال درج ذیل وفود قبول اسلام کی غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے: وفد ثقیف، وفد بنی فزارہ، وفد بنی تمیم، وفد کندہ، وفد بنی عبد القیس، وفد بنی حنیفہ، وفد بنی قحطان، وفد بنی الحارث، نیز اسی سال عیسائیوں کا ایک وفد جو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا ،جسے وفد نجران کہا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ میں ملا ،یہ لوگ جب ایمان نہ لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جزیہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے لئے ایک صلح نامہ تحریر فرمایا۔
۱۰ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو سریّے روانہ فرمائے اور اسی سال ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع ادا فرمایا اور جو مسلمان اس سال حج میں نہیں تھے، ان کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔
۱۱ھ میں سفر حج کے بعد ۲۶ صفر ۱۱ھ بروز پیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد روم کے لئے تیار فرمایا، جس میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ ، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اورحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ جیسے اکابر شامل تھے، مگر اس کے امیر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے، یہ وہ آخری لشکر تھا جس کا انتظام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا، ابھی یہ لشکر روانہ نہ ہوا تھا کہ ۲۸ صفر ۱۱ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار شروع ہوگیا ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض طویل اور سخت ہوگیا تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنھم سے اجازت لے کر آخری ایام مرض میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے گھر رہنے لگے، رفتہ رفتہ مرض اتنا بڑھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تک بھی تشریف نہ لاسکتے، ایسی صورت حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: صدیق اکبررضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں، تقریباً تیرہ دن متواتر یہ بخار رہا اور ۱۲/ ربیع الاول ۱۱ھ بروز پیر بوقت چاشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کو بلند فرمایا: زبانِ قدسی سے اللّٰہم الرفیق الاعلیٰ کہتے ہوئے جسم اطہر سے روح انور پرواز کرکے عالم قدس میں جا پہنچی، قمری سال کے مطابق اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ سال چار دن تھی۔ انا لله وانا الیہ راجعون

بشکریہ ماہنامہ بینات

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں