ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

Mar
06

دوسرے نمبر پر حرم نبی ﷺ بننے والی عظیم المرتبۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا
نام ونسب
سودہ نام ۔قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں جو قریش کا ایک نامورقبیلہ تھاسسلہ نسب یہ ہے
سودہ بنت زمعہ بن قیس بن شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر بن لوی
والدہ کا نام شموس تھا۔یہ مدینہ کے خاندان بنو نجارسے تھیں ان کا پوار نام ونسب یوں ہے
شموس بنت قیس بن زید بن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار۔۔
نکاح اول
سکران رضی اللہ عنہ بن عمرو سے جو ان کے والد کے چچا کے بیٹے تھے سے شادی ہوئی
قبول اسلام
ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں ۔ان کے ساتھ ان کے شوہر بھی مسلمان ہوئے۔اس بنا پران کو قدیم الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے
حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر مکہ میں مقیم رہے لیکن جب مشرکین کے ظلم وستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آمادہوئی تواس میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہرؓ بھی شامل ہوگئےکئی برس حبشہ میں رہ کرمکہ واپس آئیں اور حضرت سکران رضی اللہ عنہ نے کچھ دن کے بعدوفات پائی
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا آنحضرت ﷺ کے نکاح میں
حضرت سکران رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا حرم نبوت بنتی ہیں۔ازواج مطہرات میں یہ فضیلت صرف حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کوحاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے انتقال کے بعدسب سے پہلے وہی آنحضرتﷺ کے عقد نکاح میں آئیں
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال سےآنحضرت ﷺنہایت پریشان ومغموم تھےیہ حالت دیکھ کرحضرت خولہؓ بنت حکیم نے عرض کی کہ آپ کو ایک مونس ورفیق کی ضرورت ہے۔آپ ﷺ نے فرمایاگھربار بال بچوں کاانتظام سب خدیجہؓ کے متعلق تھا۔۔پھر وہ آپ ﷺ کے ایماء سےحضرت سودہؓ کے والد کے
پاس گئیں ۔اور نکاح کا پیغام سنایا،انھوں نے کہا محمدﷺشریف کفوہیں ۔لیکن سودہ سے بھی تودریافت کرو۔وہ تو سن کر بہت خوش ہوئیں اور تمام انتظامات ومراسم طے پاگئے۔۔۔چنانچہ آنحضرت ﷺ خود تشریف لے گئےاورحضرت سودہ رضی اللہ عنہاکے والد نے نکاح پڑھایااور چارسودرہم مہر قرارپایا
(بحوالہ۔زرقانی ج ۳ ص ۲۶۱)
حضرت سودہ رضی اللہ عنہاکا نکاح رمضان10 نبوی میں ہوااور چونکہ ان کے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے نکاح کا زمانہ قریب قریب تھا اس لیے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہےچنانچہ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہاکو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمدبن عقیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے نکاح کو مقدم مانتے ہیں
(بحوالہ۔طبقات ابن سعدج ۸ص۳۶۔۳۷۔۳۸)
فضل وکمال
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے پانچ حدیثیں مروی ہیں جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے۔باقی حدیثیں دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں
صحابہؓ میں حضرت ابن عباسؓ ۔ابن زبیرؓ،اور حضرت یحی بن عبدالرحمن نے ان سے روایت کی ہے
اخلاق،مناقب،اور فضائل
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کرمجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ ا س کے قالب میں میری روح ہوتی
اطاعت وفرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات سے ممتاز تھیں۔آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعے پرازواج مطہرات کو مخاطب کرکےفرمایاتھاکہ میرے بعد گھرمیں بیٹھنا(بحوالہ۔زرقانی ج۳ص291)
چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہانے اس حکم پراس شدت سے عمل کیاکہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں۔فرماتی تھیں کہ میں حج اور عمرہ دونوں کرچکی ہوں اوراب خداکے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھوں گی
(بحوالہ۔طبقات ج ۸ص۳۸)
سخاوت اور فیاضی میں بھی ان کا نمایاں کردار تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوااس وصف میں سب سے ممتاز تھیں۔ایک دفعہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی لانے والے سے پوچھا اس میں کیاہے؟اس نے کہا در ہم اس پر بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں یہ کہہ کر اسی وقت سب کو تقسیم کردیا(بحوالہ۔اصابہ ج ۸ص ۱۱۸)
اولاد
آنحضرتﷺ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔البۃ پہلےشوہریعنی حضرت سکران رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹایادگار چھوڑاجس کانام حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ تھاایک اچھے صحابی تھےانھوں نے جنگ جلولاء۔فارس میں جام شہادت نوش کی(بحوالہ۔زرقانی ج۲ص ۲۶۰)
وفات
ایک دفعہ ازواج مطہر ت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھیں انھوں نے دریافت کیا کہ یارسول اللہﷺہم میں سب سے پہلے کون مریگا؟
فرمایا کہ جس کا ہاتھ سب سے بڑاہے۔انھوں نے اس کا ظاہری معنی سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ ناپنے شروع کردیے ۔چنانچہ بڑاہاتھ بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔۔لیکن حضور ﷺ کا اشارہ سخاوت کی طرف تھا یعنی جو آپ میں سے سب سے زیادہ سخی ہیں اس کا انتقال سب سے پہلے ہوگا
(بحوالہ۔طبقات ج۸ص۳۷)
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۲۲سن ھ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اخیر دور خلافت میں ہوئی۔البۃ بعض روایت سن ھ ۲۳ کے بارے میں بھی ہیں ۔لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ومشہورہےتاریخ خمیس میں بھی یہی روایت ہےاور اسی کو امام بخاری،ذہبی،جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے بھی اختیار کیاہے
(بحوالہ۔اسدالغابۃ واستیعاب وخلاصہ تہذیب حالات سودہؓ،زرقانی ج ۵ص ۲۶۳)

مولانا مجیب منصور

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں