سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا خاندان نسب اور نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

Apr
11

جس مسلمان نے مجھے دیکھا اُسے آگ نہیں چھوئے گی بلکہ جس نے میرے دیکھنے والوں کو دیکھا اُن کو بھی نہیں چھوئے گی۔ لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِماً رَأٰنِیْ أَوْ رَأیٰ مَنْ رَأٰنِیْ۔الحدیث۔ استاد بزرگوار علامہ سید نور الحسن بخاری رحمہ اللہ (سرپرست تنظیم اہل السنت پاکستان، ملتان) بیان فر ما رہے تھے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے صحابہ کو نبی کے مقام پر کھڑا کر دیا کہ جو مجھے دیکھے اُسے تو ہے ہی اور جو میرے دیکھنے والوں کو دیکھے اُسے بھی، آگ نہیں چھوئے گی۔ نبی نے تو جہنم کی آگ سے حفاظت کا اعلان کر دیا اور اللہ نے تمام اصحاب رسول علیہ السلام کا داخلہ جنت پکا کر دیا۔ وَ کُلاًّ وَعَدَ اللّٰہ الَْحُسْنٰی۔صحابہ سارے جنتی۔۔۔ اب کسی کو ان کے ایمان میں شک ہو تو وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔

نسبت اور صُحبتِ رسول مل جائے تو آدمی دارین کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔ اور اگر نسب تو اونچا ہو مگر نسبتِ رسول یعنی صحبتِ رسول یعنی ایمان باللہ و بالرسول نہ ملے تو نبی کا باپ ، بیٹا، بیوی اور چچا ہونا کچھ کام نہیں آتا۔ کنعان، سیدنا نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا، آزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا باپ تھا، اسی طرح سیدنا لُوط علیہ السلام،سیدنا نوح علیہ السلام سے اُن کی بیویوں اور سرورِ دو عالم سے ابو لہب، ابو طالب، ابو جہل وغیرہ قریب ترین عزیزوں کو کیا ملا۔ جب کہ بدترین دشمنِ اسلام ابوجہل کے فرزند عکرمہ اور جہالت کے دوران بدگوءئ رسول میں نمبر ۱، حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبد المطّلب نے جب رجوع الی الحق کر لیا، سید الشہداء حمزہ کے قاتل حضرت وحشی نے جب نبی پاک کے سامنے توبہ اور اقرار لَا اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ کر لیا تو اب قیامت تک کوئی غیر صحابی اِن خوش نصیبوں کے قدموں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں تک کہ قانون بن گیا ’’جب کسی کو دیکھو کہ وہ اصحابِ رسول میں سے کسی کی تنقیص کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے۔ اس لیے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، قرآن حق ہے۔ قرآن اور سنّت ہم تک پہنچانے کا ذریعہ یہی اصحابِ رسول ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے دین کے گواہوں کو مجروح کر دیں تاکہ کتاب و سنّت کو مجروح کر سکیں۔ یہی لوگ لائق جرح اور زندیق ہیں۔ ’’وَ ہُمْ زَنَادِقَۃ‘‘(کفایۃ، صفحہ ۴۹۔ اصابہ مقدمہ فصل ثالث، امام ابو زرعہؒ )

صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا تریاق ہے کہ ایمان کے بعد حاصل ہوتے ہی جسم و جان سے تمام زہریلے باطل اثرات کو ختم کر دیتا ہے پھر حق تعالیٰ کے فرمان عالی شان کے مطابق اَلُزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْویٰ وَکَانُوْا اَحَقَّبِہَا وَاَہْلِہَا۔۔۔ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّار۔ (۴۸: ۲۶، ۴۸: ۲۹) تمام صحابہ کے لیے تقویٰ و طہارت ایسا لازمہ بن جاتا ہے جیسے سورج کے لیے روشنی، آگ کے لیے گرمی، پانی کے لیے نمی۔۔۔ آگ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی، سورج کالا نہیں ہوتا، پانی میں نمی لازم ہے ایسے ہی کوئی صحابی فاسق اور غیر عادل نہیں ہو سکتا۔۔۔

کوئی بھی غیر صحابی مسلمان اُحد پہاڑ کے برابر سونا فی سبیل اللہ خیرات کرے، وہ ایک ادنیٰ صحابی کے ایک مُدّ یا نصف مُدّ (جو) کے برابر نہیں ہو سکتا۔ (مفہوم حدیث)

دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب اللہ کسی کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں میرے تمام اصحاب کی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔ طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ’’اللہ نے مجھے چنا، میری صحبت کے لیے میرے صحابہ کا چناؤ کیا پھر ان میں سے بعض کو میرے انصار اور مدد گار اور بعض کو وزارء اور سُسرال بنا دیا۔ جو اُن کو برا کہے اُس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت۔ اللہ اس کے فرائض اور نوافل قبول نہ فرمائے گا۔ (خطیف، عقیلی، بُغوی، ابونعیم، ابن عساکر نے ملتے جلتے لفظوں میں یہی مفہوم ادا کیا ہے)

خالقِ کون و مکان نے تو فیصلہ فرما دیا (یہی کافر ہونے کی نشانی ہے) لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّار ۔۔۔جو کوئی کسی صحابی سے جلے، نفرت کرے (سبّ و تبرّا کرے) قرآن نے ان بدنصیبوں پر صراحت سے کفر کا فتویٰ دے دیا۔ ایک نبی کا انکار اگر سارے نبیّوں کا انکار ہے (القرآن) تو ایک صحابی سے بُغض و عناد درپردہ تمام اصحاب رسول اور اہل بیتِ رسول کا انکار ہے۔ بُغض معاویہ والے دل میں سیدنا حسن کی محبت کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔ بقول مولانا احمد یار خان گجراتی’’ بہت سے سُنّی کہلانے والے بزرگ بغضِ معاویہ کی بیماری میں گرفتار ہیں۔‘‘

امیر معاویہ کا معاملہ تو بہت بعد کا ہے اور مابین المسلمین ہے، روافض سے تو پہلے قرآن مجید پر بات ہونی چاہیے کہ آیا وہ موجودہ قرآن کو غیر محرف کتاب اللہ تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ اہل سنت کے ہاں جیسے سارے نبی گناہوں سے معصوم ہیں ، سارے اصحابِ رسول فسق سے مامون و محفوظ ہیں۔ عشرہ مبشرہ، اصحابِ بدر و اُحد و حُدیبیہ و دیگر غزوات و سریات اور مہاجرین حبشہ و مدینہ، رسول مقبول کے دامادوں، اَصہار وانصار اور برادر نسبتی،ہم جدّ قبائل قریش و عبشمی و ہاشمی و اموی و دیگر زائد از یک درجن قبائل کے اہل ایمان و اہلِ صحبت رسول کا تو کیا کہنا۔ روم کا زرد رنگ صہیب ہو، حبشہ کا کالا بلال یا مکہ کے حمزہ و علی و معاویہ و عباس و ابو سفیان جیسے خوش رنگ، خوش نصیب، اصل تو صحبتِ رسول ہے جس کا رنگ صبغۃ اللہ بن کر جہاں آرا ہو گیا۔اللہ نے اعلان کر دیا ’’حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَان‘‘اور ’’کَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوُقَ وَالْعِصْیَانَ‘‘ اور دارین کا آخری کامیابی کا سر ٹیفکیٹ ’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہٗ‘‘ مل گیا۔ اب مُعانِد لاکھ زور لگا لے ’’لَا تَبْدِیْلَ لَکَلِمَاتِ اللّٰہ‘‘ اللہ کا اعلان کسی بادشاہ دنیا کا آرڈی نینس نہیں جسے کوئی پارلیمنٹ توڑ دے یا نامنظور کر دے یا جیسا آج کا بادشاہ خود ہی بد عہدی کر دے۔ ایسا ہر گز نہیں۔

’’تاریخی واقعات ۹۵ فیصد غلط اور بکواس۔ روافض اور خوارج کی آمیزش بہت زیادہ۔‘‘ جو تاریخی واقعہ کسی صحابی کافسق بتائے مردود ہے۔ قرآن سچا ہے، صحابہ کو عادل اور متقی کہہ رہا ہے۔ تاریخ جھوٹی۔ مؤرخ راوی یا محدث کی غلطی مان لینا آسان۔ کسی صحابی کی بدنیتی اور فسق ماننا مشکل۔ کیونکہ صحابی کو فاسق ماننے سے قرآن کی تکذیب لازم آئے گی۔ اگر یہ حضرات فاسق فاجر ہیں تو قرآن کا اعتبار نہ رہے گا مثلاً امیر معاویہ پر فسق و فجور کا شبہ کیا جائے تو امیر معاویہ کاتب وحی تھے لہٰذا شبہ ہو گا۔ کہ نہ معلوم انھوں نے درست کتابت کی یا غلط۔ صحابہ کرام کے مؤمن، صادق ، امین اور ثقہ ہونے پر قرآن کی حقانیت کا انحصار ہے۔۔۔ اگر یہ حضرات فاسق ہوں تو کوئی حدیث قابلِ اعتبار نہیں۔ صحابہ کو فاسق مان کر آپ کیسے مسلمان رہ سکتے ہیں۔ ریل کا پہلا ڈبہ انجن سے کٹ کر گر گیا تو پچھلے ڈبے کیسے سلامت رہ سکتے ہیں۔ اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم اسلام کا پہلا ڈبہ ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ وابستہ ہیں، اگر اُن کا ایمان درست نہیں تو قیامت تک کسی مسلمان کا ایمان درست نہیں۔ جو تاریخ، جو روایت یہ بتائے کہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بُغض تھا۔ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے، وہ تاریخ جھوٹی، وہ روایت غلط، وہ راوی غلط ہے۔ قرآن نے اُن کو ’’رُحمآءُ بَیْنَہُمْ‘‘ آپس میں رحیم و کریم فرمایا۔ قرآن سچا ہے، اس کے بالمقابل تمام روایات، تاریخی واقعات جو قرآن کو جھوٹا کہیں وہ سب غلط ہیں۔‘‘(اکثر مفہوم از مولانا احمد یار خان گجراتی)

فقہ کی ایک چھوٹی سی کتاب ’’پکّی روٹی‘‘ (بچوں کو بڑے اہتمام کی ساتھ پڑھائی جاتی تھی) اُس میں شروع ہی میں لکھا تھا نبی پاک کی چار ’’پیڑھیاں‘‘ یاد کرنی ضروری ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیٹے حضرت عبداللہ کے، حضرت عبداللہ بیٹے حضرت عبدالمطّلب بیٹے ہاشم کے، حضرت ہاشم بیٹے عبد مناف کے‘‘ اب اس میں ایک حکمت یہ بھی سمجھ میں آئی کہ حضرت عبد مناف تک اکثر بڑے صحابہ نبی پاک کے ہم جدّ یا قریبی بنتے ہیں خصوصاً بنی عبد شمس یا بنی امیّہ مثلاً سیدنا ابوسفیان بھی اور سیدہ ہند بھی حضرت عبد مناف تک چوتھی پشت میں ہم جدّ ہیں، حضرت امیر معاویہ، ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان، ام المؤمنین سیدہ رملہ بنت ابی سفیان، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا ابوالعاص بن الربیع، سیدہ ارویٰ، سیدہ سعدیٰ بنات سیدہ البیضا ام حکیم، سیدنا خالد بن سعید، سیدنا عمرو بن سعید، سیدنا عبداللہ بن سعید، سیدنا ابو حذیفہ بن عتبہ، سیدنا سمرہ بن حبیب، سیدہ رفاعہ، سیدہ میمونہ بنات سیدنا ابو سفیان، سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ، سیدنا ابان بن سعید، سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہم اور کئی دیگر بڑے بڑے نامور اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم اسی چوتھی پشت میں جا کر نبی پاک کے ہم جدّ بنتے ہیں۔ کم و بیش ڈیڑھ درجن قبائل قریش میں سب سے اہم مقام اوّلیت سابقیت، ہجرت حبشہ و ہجرت مدینہ اور کتابت وحی مبین اہم خدمت میں اسی چوتھی پشت کے اکثر اصحابِ رسول قرآن لکھتے نظر آتے ہیں۔ ’’اعدائے قرآن انہی اصحاب پر زیادہ زیادہ سبّ وشتم کرنا تھا، یہی بنی ہاشم سمیت بنی عبد مناف بنتے تھے۔‘‘ بنی ہاشم آلِ رسول کو آڑ بنا کر انہی ہم جدّ اصحاب رسول کو ’’لَیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّار‘‘کفار کے غیظ و غصّہ کا نشانہ بننا تھا لہٰذا اہلِ اسلام سے چار پشت اجداد نبی (اور اس ذریعے سے ہم جدّ اصحابِ رسول) پر توجہ دلانی مقصود تھی۔

سیدنا معاویہ صلح حدیبیہ کے دن یا کچھ دن بعد ایمان لائے مگر اظہار ضروری نہیں سمجھا، عمرۂ قضا ، ۸ھ میں مروہ کے پاس نبی مقدس کے سر مبارک کے بال کاٹنا ان سے ثابت ہے۔ حضرت عباس عمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ابھیتک اظہار اسلام نہ فرمایا تھا۔ اس میں کچھ مصلحتیں بھی تھیں۔ سیدنا معاویہ نہ فتح مکہ کے مؤمنین میں سے ہیں ، نہ مؤلفۃ القلوب میں سے ہیں اور ہوں بھی تو ’’کُلاً وَّ عَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی‘‘اللہ نے جنت کا وعدہ سب سے کر لیا ہے۔ پھر کسی کی کیا جرأت۔ اپنا انجام سوچیے۔

ائمہ حدیث بشمول امام بخاری اور امام مسلم نے ۱۶۳، احادیث رسول سیدنا امیر معاویہ سے روایت کی ہیں، امام بخاری اور امام مسلم تو ذرا سے شبہ پر بھی حدیث نہ لیتے تھے۔

بیٹے کی شان دیکھ کر جیسے باپ خوش ہوتا ہے غزوۃ البحر میں خواب کے اندر اُمّت کی شان دیکھ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔ یہی غزوۃ البحر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں سیدنا امیر معاویہؓ نے انجام دیا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک عہد میں مختلف علاقوں میں جو گورنر مقرر فرمائے ان میں سب سے بڑی تعداد جس قبیلہ کی ہے وہ بنی امیہ ہیں یعنی ۹ اُموی گورنر سیاسی، انتظامی خدمات پر نظر آتے ہیں۔

یہ تو ذکر ہو چکا کہ قرآن و حدیث یعنی کتابت و روایت وحی میں سیدنا زید بن ثابت کے بعد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ہی سب سے بڑھ کر اور برتر ہیں۔ جمع قرآن میں خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بعد قُریش کے لہجے میں قرآن مجید کی اقصائے عالم میں اشاعت کرنے والے سیدنا عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابنِ عم ہی تو ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خادم ابو الاسود دؤلی کی نحوی خدمات کے بعد نقطے اور اعراب لگوانے والا، اموی حکمرانوں عبد الملک بن مروان اور ولید بن عبد الملک کا نائب السلطنت امیر حجاج بن یوسف ثقفی نظر آتا ہے۔۔۔۔۔۔ عربی کتابت کے موجد سیدنا اسمٰعیل ذبیح اللہ بتائے گئے ہیں۔ اکیدر (حاکم دومۃ الجندل کے بھائی) اور عبد اللہ بن جدعان تیمی نے حیرہ اور انبار کے لوگوں سے اور انھوں نے اہل یمن سے لکھنا سیکھا تھا( صبح الاعشیٰ ،جلد۳) پھر یہی مذکور بالا اکیدر جب مکّہ مکرّمہ آیا تو اُس سے حرب بن امیہ( والد سیدنا ابو سفیان) اور ابوقیس بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب نے ہجا اور رسم الخط سیکھا( فتوح البلدان، جلد۲، تاریخ مکہ) دوسری روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے عبداللہ بن جدعان سے لکھنا سیکھا تھا( نقطے اور اعراب اُس وقت نہ ہوتے تھے) حرب بن امیّہ کے سعید بیٹے صِہر رسول مقبول سیدنا ابو سفیان اگرچہ قریش کے علمبردار اور دفاع مکہ اور فوجی خدمات کے ذمہ دار تھے تاہم انھوں نے اہل مکہ کی تعلیم کے لیے مستقل طور پر ایک مکتب قائم کیا تھا۔ سیدنا فاروق اعظم اور دیگر کئی ساداتِ قریش نے اِسی مکتب ابی سفیان سے تعلیم پائی تھی (تاریخ مکہ، صفحہ۱۰، جلد۳) شاہان عرب و عجم کے نام دعوت اسلام کے جو نبوی خطوط بھیجے گئے اکثر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے قلم وحی رقم نے تحریر کیے تھے۔ یہ نامہ ہائے دعوتِ اسلام بھی تو حدیثت رسول ہی تھے، جن کی کتابت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی رازدار (P.A) صحابی ہی کر سکتا تھا اور وہ حضرت معاویہ تھے۔

غزوہ تبوک کے موقع پر قیصر روم کا قاصد تنوخی اُس کا خط لے کر دربار نبوی میں حاضر ہوا، اشارۂ نبوی پر سیدنا عثمان ذی النورین نے ایک نہایت عمدہ پوشاک لا کر ہدیہ کے طور پر اُس کی گود میں رکھ دی۔ قیصر روم کا خط وصول کر کے نبیپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک شخص کو دیا کہ پڑھ کر سنائے تنوخی کہتا ہے میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا ’’یہ (صاحبِ رسول) معاویہ بن ابی سفیان ہیں‘‘ (مسند احمد، البدایہ النہایہ، مجمع الزوائد) دیگر اصحاب کبار کی موجودگی میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصی خدمات کیا بھرپور اعتماد نبی کی دلیل نہیں، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض وثیقہ جات پر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے علاوہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم کو بطور گواہ پیش فرمایا(سیرۃ الحلبیہ)

تمیم داری رضی اللہ عنہ کی ایک تحریر پر سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے بطور گواہ دستخط گویا اِن پانچوں کے خلفاء نبوی ہونے کی پیش گوئی تھی (سیرۃ الحلبیہ، صفحہ۲۴۰ ، جلد ۳) یہاں تک کہ ایک مرتبہ جبریل امین بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یَا محمد اِقْرأ مُعَاوِیَۃَ السَّلَامَ وَاسْتَوْصِ بِہٖ خَیْراً فَاأنَّہٗ اَمِیْنُ اللّٰہِ عَلیٰ کِتَابِہٖ وَ وَحْیِہٖ وَ نِعْمَ الْاَمِیْنُ۔(البدایہ والنہایۃ ،جلد ۸، صفحہ ۱۲۰) ’’اے محمد، معاویہ کو سلام کہیے اور اُسے نیکی کی تلقین کیجیے، وہ اللہ کی کتاب اور اس کی وحی کے امین ہیں اور (وہ) بہترین امین ہیں۔‘‘ ظہورِ اسلام کے وقت مکہ کے ۱۷ یا ۲۰ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے جن میں ایک معاویہ رضی اللہ عنہ تھے (الحضارۃ الاسلامیہ) یہ ان کی بہترین تربیت اور علمی بلندی کی دلیل ہے۔

اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی گرامی قدر والدہ ماجدہ خوش دامنِ رسول سیدہ ہِند بنت عُتبہ کا دوسرا نکاح سیدنا ابو سفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ اُن سے پہلے جس شخص کے نکاح میں تھیں، وہ کسی سفر پر گیا ہوا تھا۔ اس دوران اُس کا کوئی دوست اُس خیمہ میں داخل ہوا جہاں سیّدہ ہِند سو رہی تھیں۔ قدموں کی آہٹ پر بیدار ہوئیں۔ مہمان کو بتایا کہ خاوند گھر میں نہیں ہے۔ وُہ آدمی چلا گیا مگر حاسدین نے اُن کے خاوند کو شکایت لگا دی کہ تیری عدم موجودگی میں یہاں غیر مرد آتا ہے۔ بات بڑھی تو سیّدہ ہِند اپنے میکے چلی گئیں۔ دونوں خاندانوں میں جھگڑے کی صورت پیدا ہو گئی۔ آخر طے ہوا کہ ملکِ شام میں ایک کاہن ہے اُس کے سامنے معاملہ رکھا جائے اور اُس کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔ سیّدہ ہِند کے والد نے علیحدگی میں بار بار پوچھا کہ اگر تم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو بتا دو، ایسا نہ ہو کہ وہاں جا کر ہماری رسوائی ہو۔ سیّدہ ہِند نے عرض کیا ’’ابّا محترم ایسی کسی بات کا تصور میں نہیں کر سکتی، بے شک کاہن سے معلوم کرا لو لیکن اتنا ضرور ذہن میں رہے کہ وہ بھی ایک انسان ہے، اُس کی بات غلط بھی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ صورت ہوئی تو کیا بنے گا؟‘‘

قریشی سردار عُتبہ بن ربیعہ نے بیٹی کو تسلّی دی اور کہا کہ اس کا انتظام میں نے کر لیا ہوا ہے۔ چنانچہ سیّدہ ہِند کو لے کر فریقین کاہن مذکور کے پاس پہنچے۔ ’’فَقَالَ اِنَّہَا لَیْسَتْ بِزَانِیَۃ‘‘ اُس نے کہا یہ بدکار تو نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک بادشاہ کو جنم دے گی جس کا نام مُعاویہ ہو گا۔ لوگوں نے نعرہ بلند کیا اور بہت خوشی کا اظہار کیا پھر واپس چلے آئے۔ خاوند نے سیّدہ ہِند کا ہاتھ پکڑا، اس امّید کے ساتھ کہ جس معاویہ نامی بادشاہ کی خوشخبری دی گئی ہے وہ اس کے صُلب سے ہو۔ مگر سیّدہ ہِند نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ اور کہا ’’اللہ کی قسم اب تم میرے قریب بھی نہیں آ سکو گے۔‘‘ معاملہ ختم ہو گیا۔

اللہ کو یہی منظور تھا کہ سیّدہ ہِند علمدارِ قریش، مکّہ مکرمہ میں پہلے تعلیمی مرکز کے بانی خُسرِ رسول عظیم صحابی سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی بنے جس کے گھر کو سیّدالرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے مثیلِ حرمِ کعبہ جائے پناہ قرار دینا تھا۔ دوسرے عظیم صحابی، کاتبِ وحیِ الٰہی، ہم زلفِ رسول اور نبیّ الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبتی بھائی اور بیس سال تک ملکِ شام کی حکومت پھر ۲۰، سال تک تمام مقبوضاتِ اسلامیہ کے بادشاہ اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھٹے خلیفہ راشد بننے والے امیر المؤمنین کی ماں بننا مقدر تھا۔ انبیاءِ سابقین بھی پہلے خبریں دے چکے تھے کہ ’’آخری نبی کی خلافت مدینہ میں اور اُس کی بادشاہی شام میں ہو گی۔ گویا یہ کوئی دنیوی بادشاہ نہ تھا بلکہ اُس کی باشاہی نبی کی بادشاہی تھی۔ اُسی کی ماں بننے کا اعزاز سیّدہ ہِند کو حاصل ہونے والا تھا۔ صرف یہی نہیں سبقتِ اسلام والی مقدس ہستیوں میں عظیم صحابیہ سیّدہ رملہ اُمّ حبیبہ جب اُمّ المؤمنین کے شرف سے مشرف ہوئیں تو سیّدہ ہِند اُمِ اُمّ المؤمنین بن کر خوشدامنِ رسول ہونے کی یہ آخری نشان امتیاز بھی لے گئیں۔ ’’یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا‘‘

پھر سرکار دو عالم کی دُعا کہ اے اللہ معاویہ کے پیٹ کو علم (اور حلم) سے بھر دے جس علمیت و حکمت و حلم کی خبر دیتی ہے اُسے صرف ایمانی حس کے ساتھ ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اپنے اور غیر، مسلم اور غیر مسلم تمام علما اور سائنس دان سیدنا معاویہ کے پوتے خالد بن یزید کو پہلا کیمیا دان، سائنس دان ماننے پر مجبور ہیں۔ سیدنا معاویہ کے بعد سیدنا مروان کی اولاد کے اموی خلفاء، خلفائے دمشق ہوں یا امرائے اندلس علم کی آخری حدود تک پہنچے، انھوں نے علم کی سرپرستی کی حتیٰ کہ عباس بن فرناس ( بربر نو مسلم قوم کے سپوت) نے اِسی عہد زریں میں ہوائی جہاز کی تھیوری دی اور علمی تجربات کیے۔ اگر آج بھی اندلس کے علمی انوار کو یورپ اور امریکہ کی زندگی سے خارج کر دیا جائے تو وہاں مہیب تاریک چھا جائے۔ تفصیل کا موقعہ نہیں شیخ الہند شیخ العرب والعجم محمود الحسن اموی نے دار العلوم دیوبند سے علوم کی چوٹیوں کو سر کرنا سکھایا تو مکہ مکرمہ کی سر زمین پاک پر مجاہد و فقیہہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی عثمانی گاذرونی نے حرم شریف کی پہلی باقاعدہ درسگاہ قائم فرمائی۔ سچ فرمایا تھا امت کے سب سے بڑے عالم ( حِبر الامۃ) سیدنا ابن عباس نے اِذَا ذَہَبَ بَنُو حَرْب ذَہَبَ عُلَمَاءُ النَّاسِ جب حرب (بن امیہ) کا خاندان اٹھ گیا تو پوری دنیا کے علماء اُٹھ جائیں گے۔ (البدایہ والنہایۃ ، جلد ۸، صفحہ ۲۲۹)

فیصلہ کن بات بقول مولانا احمد یار خان گجراتی کہ یہ ہے ’’امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے یاتو رافضی ہیں یا وہ سُنّی جو روافض کی صحبت میں رہ کر یا ان کی کتابیں پڑھ کر اپنے ایمان کی دولت برباد کر چکے۔‘‘ اور ابن حجر کہتے ہیں: متقدمین کے ہاں سیدنا عثمان پر سیدنا علی کی فضیلت اور جنگوں میں سیدنا علی کے حق و صواب ہونے اور آپ کے مخالفوں( سیدنا معاویہ و دیگر اصحاب رسول) کے خطا پر ہونے کا اعتقاد ’’تشیُّع ‘‘ کہلاتا تھا۔ باوجود اس کے کہ ایسا شخص حضرات شیخین (سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما) کو مقدم اور افضل سمجھے۔‘‘ فالتشیع فی عرف المتقدمین ہو اعتقاد تفضیل علی علی عثمان و أن علیا کان مصیبا فی حروبہٖ و ان مخالفہ مخطئ مع تقدیم الشیخین وتفضیلہما‘‘(حافظ ابن حجر، تہذیب التہذیب، جلد۱، صفحہ ۹۴۔ ’’انہاء السکن ‘‘از مولانا ظفر احمد عثمانی صفحہ ۵۹)

پروفیسر محمد حمزہ نعیم
بشکریہ نقیب ختمِ نبوت

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں