صحابہ کرام کے نقوش کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت

Jun
04

اشاعت اسلا م، کار تبلیغ ودعوت، اسلامی تعلیمات کو وسیع و رائج کرنے اور تعلیم قرآن وحدیث میں عظیم ملی وشرعی فریضہ کی ادائیگی میں جدوجہد، تگ و دو اور سعی پیہم کرنے والوں میں سب سے اعلیٰ، ارفع اور قائدانہ مقام طبقہٴ صحابہ کا ہے، اسلام کا کل کائنات میں پھیلا ہوا موجودہ عالمی منظر نامہ، وسیع دائرہ اسلام اور لامحدود جغرافیہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنہری کوششوں، مخلصانہ کاوشوں، بے پناہ جدوجہد اور مساعی جمیلہ کی رہین منت ہے اور واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ، اشاعت اسلام کے حوالے سے صحابہٴ کرام کے بنیادی رول، اساسی کردار اور قائدانہ جدوجہد کے تذکرہ کے بغیرمکمل ہی نہیں ہوتی بلکہ درحقیقت خود اسلامی تاریخ اس وقت تک اسلامی نہیں جب تک کہ وہ صحابہ کرام کے لافانی نقوش سے مملوء نہ ہو، اس بناء پر اشاعت اسلام کے حوالے سے تذکرئہ صحابہ تاریخ اسلام کا ایک لازمی عنصر اور لابدی عنوان ہوتا ہے، اشاعت اسلام میں صحابہ رضوان اللہ اجمعین کا دعوتی مقام، تبلیغی کردار اور ان کی ذاتی واجتماعی جدوجہد اور تگ ودو،تاریخ اسلام کا وہ اٹوٹ حصہ ہے جس کے بغیر اسلامی تاریخ کی معنویت مبہم بلکہ موہوم ہوجاتی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلامی دعوت وتبلیغ کی راہ میں حائل موانع، سخت ترین دشواریوں، طبقاتی کشمکشوں اور ڈھیر سارے، بے شمار مسائل و مصائب کے باوجود، بھرپور ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا، اسلام کی تبلیغ اور اس کے نشر واشاعت کی غرض سے تن من سب کی بازی لگادی اورایسی قربانیاں دیں کہ آج تک اقوام عالم ان کی سرفروشی، جانکاہی، بردباری، تحمل مزاجی، مال وزر کی قربانی اور ان کے جذبہٴ فداکاری کو فراموش نہیں کرسکی جب کسی ملک، کسی علاقے یا کسی شہر میں اسلام کے پس منظر اور مسلمانوں کے وجودکی بابت، کوئی واقعاتی پہلو قابل وضاحت ہوتا ہے یا کہیں اسلام کے حوالے سے اس کے مبلغین اور اشاعت اسلام کے نقباء کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس مقام پر صحابہ کرام کی تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کی راہ میں لامتناہی اور بے شمار جدوجہد کی لکیریں درج اور زبردست مساعی و قربانیوں کی داستانِ عزیمت ودعوت ثبت ہوتی ہیں۔

ان تاریخی حقائق اور معروضی سچائیوں سے واقفیت کے بعد یہ سوال، کہ اشاعت اسلام میں صحابہ کرام کا مقام کیا ہے؟ ایک فاضل اور لایعنی سوال ہوگا کیونکہ اس موقع پر اشاعت اسلام اور صحابہ کرام کے مقام اور کردار کے امتیاز کے حوالے سے کسی بامعنی عنوان کی تعیین اور اسلامی تبلیغ میں ان کی بے مثال شراکت و حصہ داری کی تحدید، کمال تحقیق وتدقیق اور تفتیش ومکمل احاطے کے باوجود ادھوری اور ناقص ہی رہے گی اور اس پر مزید تحقیق و بیان کا طالب رہے گی، وجہ ظاہر ہے آخر ہم ان کے عظیم اور لافانی مقام، تاریخ اسلام میں انمنٹ نقوش، تبلیغ و دعوت کے تئیں ان کی بے پناہ التفات وتوجہ، جدوجہد، جذبہٴ فداکاری و جانثاری اور بے نظیر وبے بدل مساعی جمیلہ پر تبصرہ کریں تو کس پہلو سے تبصرہ کریں؟ ہر پہلو اپنے باب میں اتنی وسعت، گہرائی اور گیرائی رکھتی ہے کہ اگر طویل ترین مقالات بھی رقم کئے جائیں تب بھی تشنگی اور عدم سیرابی باقی ہی رہے گی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کی سیرت نگاری، ان کے حالات و واقعات اور زیست کے نقوش کی تاریخ طرازی، ایک لافائدہ معروضہ ہوگی، بلکہ اس وضاحت کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ کرام کی زیست، ان کی دینی و دعوتی سرگرمیوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار، ملی و مذہبی خدمات، تبلیغی واشاعتی کارکردگیوں اور ان کے احوال و واقعات پر اتنا کچھ کہے جانے کے بعد بھی یہ ضرورت ہے کہ ان پر خوب لکھا جائے، ان کی زندگی کے تمام گوشوں کو نئی نسل کے سامنے ہویدا کیا جائے اور انہیں صحابہ کرام کی خدمات، قربانیوں اور اسلام کے تئیں مکمل جانثاری کے جذبات سے آگاہ کرایا جائے اور اتنا لکھا جائے اور برتا جائے کہ ہم بھی اپنے اندر صحابہ جیسی عزیمتیں، ہمتیں اور حوصلے محسوس کریں اورانہی نقوش پر چلنے کی ابتدا کریں جن پر صحابہٴ کرام نے ایک طویل سفر طے کیا تھا۔

اسلام نے اپنی پیدائش کے بعد اپنی افزائش کی ذمہ داریاں صحابہ کرام پر عائد کی اور انہیں ہی اسلام کی تبلیغ واشاعت اور اس کی حقانیت واجتماعیت کے اثبات کے لئے متعین و منتخب کیا اور یہ انتخاب صحیح معنوں میں موزوں اور بروقت تھا کیونکہ صحابہ کرام نے نہ صرف ذمہ داریاں قبول کیں بلکہ انھوں نے ان ذمہ داریوں، فرائض اور ان حقوق کی ادائیگی میں جو دعوت و تبلیغ کے ضمن میں آتے ہیں، کبھی بھی کوئی خامی نہیں رہنے دی، دعوت و تبلیغ کے تمام حقوق کی ادائیگی میں مکمل اخلاص اور اتمام کا مظاہر کیا اور اپنے ما بعد نسلوں کے لئے ایک نمونہ اور مشعل راہ چھوڑ دیا، حضور پرنور کی وفات کے بعد صحابہ کرام کے لئے ان کا سب سے قیمتی سرمایہ مدینة الرسول صلى الله عليه وسلم کی یادیں اور وہاں کی فضاء تھا، یثرب کا پیارا احساس ان کے لئے توشہٴ زیست تھا، مدینے کی گلیاں ان کے لئے حسین تر جنت کی بل کھاتی خوبصورت پگڈنڈیاں تھیں، اور پھر ان سب علائق کے ساتھ وہ حکایات جن کے تانے بانے شہر رسول کے ذرہ ذرہ سے مربوط تھے ان کی زندگی جینے کا جواز تھی ان تمام نیرنگیوں کے باوجود دین محمدی کے اعلاء وفروغ کیلئے صحابہ کرام نے دیگر شہروممالک کا قصد کیا اور تبلیغ اسلام کی بھرپورسعی کی، بعض صحابہ مکہ مکرمہ میں فروکش ہوئے اور تعلیم دین کا سلسلہ چل پڑا، مرکزیت کے حامل شہر کعبہ میں اقامت، ان کی خوش نصیبی بھی تھی اور ذمہ داری بھی، عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی، عبداللہ بن ابی ربیعہ المخزومی، عکرمہ بن ابی جہل، عتاب بن اسید، خالد بن اسید، حکم بن ابی العاص، صفوان بن امیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے درجنوں صحابہ مکہ مکرمہ میں درس و تدریس اور کارِ تبلیغ میں مصروف تھے۔

کچھ صحابہ کوفہ کو سدھار گئے، جو مسلم مجاہدین کا ہیڈکوارٹر تھا بالخصوص حضرت علی کی خلافت کی مرکزیت کی وجہ سے تشریف آوری زیادہ ہوئی مشاہیر صحابہ میں علی ابن ابی طالب، سعد ابن ابی وقاص، سعید بن زید بن عمر بن نفیل، نعمان بن بشیر، مغیرہ بن شعبہ، جریر بن عبداللہ البجلی، عدی بن حاتم الطائی، اشعب بن قیس، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ان میں سے اکثر حضرات آخری عمرتک کوفہ میں رہے اور وہیں مدفون ہوئے ان حضرات کے درس و تدریس اور مسند علم و فضل کا چرچہ کوفہ میں صدیوں تک رہا۔

کچھ نے بصرہ کی پربصیرت کوچوں میں علم حدیث اور معرفت قرآن کی بساطیں بچھائیں اور خوب خوب جواہر اور فن پارے لٹائے، معقل بن یسار، ابوزہرہ الاسلمی، عبداللہ بن مغفل المزنی، ابوبکرہ، انس بن مالک، ثابت بن زید، اقرع بن حابس، عثمان بن ابی العاص، ابوالعشراء الدارمی رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ مختلف صحابہ نے بصرہ میں تعلیم دین کی کمان سنبھال لی اور اپنی خدمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی تبلیغ کے لئے وقف کردی، عبداللہ بن عمرو، خارجہ بن حذافہ، ابوبصرہ الغفاری، ابوفاطم الایادی ابوجمعہ الشموس البلوی اور دیگر صحابہ نے مصر میں تعلیم دین کا ایک سلسلہ شروع کیا۔

فتوحات مصر اور حضرت عمروبن ابی العاص کی وہاں فروکشی کے بعد مرکز خلافت کی جانب سے تعلیم و تعلّم اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے صحابہ کرام کی ایک مختصر جمعیت مصر بھیجی گئی، اس جمعیت کے جلو میں بعض دیگر صحابہ بھی تشریف لے آئے، مشہور سپہ سالار اسلام عبید اللہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے جب شام پر یلغار کی اوراسے مملکت اسلامیہ میں داخل کرلیا، تو اشاعت دین کی غرض سے بلال بن رباع الموٴذن، عبادہ بن الصامت، معاذ بن جبل، مسعود بن عبادہ، شرجیل بن حسنہ، خالد بن ولید، عیاض بن غنم، فضل بن عباس بن عبدالمطلب، شداد بن اوس، معاویہ بن ابی سفیان، بسر بن ابی ارطاة وغیرہ تشریف لے گئے، جزیرے میں بھی بعض صحابہ عفان بن عمیرة الکندی، وابصہ بن معبدالاسدی، ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کی موجودگی اشاعت دین کی غرض سے ہی تھی اور خراسان جیسے اجنبی دیار میں بریدہ بن حصیب الاسلمی (مدفون بمرو) ابو برزہ الاسلمی، حکم بن عمر الغفاری، عبداللہ بن الخازم الاسلمی، قم بن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کا قیام اشاعت دین کے اغراض پر مبنی تھا۔

تبلیغ و دعوت کا کام ان کے لئے کوئی آسان لقمہ نہیں تھا کہ اس کو بسہولت نگل لیاجائے بلکہ یہ کام ان جانثار مجاہدوں کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوا تھا، اس راہ میں انھوں نے جتنی تکالیف اٹھائی ہیں جتنی مشقتیں برداشت کی ہیں اور جتنے مصائب کو خندہ پیشانی سے سہا ہے، وہ سب تاریخ کے صفحات میں درج ہے، قرآن کریم نے ان کی انہی خدمات اور جذبہٴ جانثاری کے وسیلے میں یہ اعلان کیا کہ ان ”اصحاب نبی“ کو رضائے خداوندی اور خوشنودی ایزدی جیسی قیمتی نعمتیں مل گئیں ”رضی اللہ عنہم و رضواعنہ“

صحابہ کرام کی سوانحات پر مشتمل دستاویزی کتب کے مطالعے کے بعدیہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کی اشاعت کی راہ میں ان کے کیا اور کیسے خدمات ہیں؟ حالات کے حد درجہ ناسازگاری کے باوجود اسلام کو عروج واستحکام بخشنے میں ان کا کردار کیا ہے؟ اسلامی شریعت کے عملی نفاذ میں خود ان کی جانب سے عملی اطاعت کس نوعیت اور کس درجے کی تھی؟ کفار کے تعاقب، مصائب کی گہما گہمی اسباب و وسائل کے یکسر فقدان اور دشمنوں کی شدید مخالفت کے باوجود اسلام کو ایک مضبوط اور ٹھوس پلیٹ فارم بنانے میں ان کا کیا کردار رہا ہے؟ مزاحمت اور رد عمل کے کیا اسلوب تھے؟ دعوت و تبلیغ کے کیا مناہج تھے؟ خطرات کے ازدحام، دشمنوں کی شدت انگیزیوں اور بھرپور اقدامات کے باوجود مسلمان اور اسلام محفوظ کیونکر رہا؟ ان سوالوں کے جوابات صحابہ کی بہترین اور مثالی زندگی کے مطالعاتی غور و فکر کے بعد واضح ہوجاتی ہے، سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام کی خدمات، جرأت اور ہمت، ان کی دانائی، دانشمندی اور لیاقت، اسلام سے محبت، غایت درجہ الفت اوراس کے تئیں جذبہٴ فداکاری اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے ہمہ تن پیشی وانہماک؛ دعوت کی راہ میں حائل قوتوں سے جنگ و مزاحمت اور دشمن طاقتوں سے لوہا لینا اور ہر پہلو سے ایک فولادی، مستحکم اور ناقابل تسخیر پہاڑ ثابت ہونا اور ایسے ایسے کارنامے انجام دینا جن پر عقول انسانی آج تک دنگ ہیں ایسی روایتی یا عام سی افسانوی کہانی نہیں یا ایسا کوئی تصوراتی خاکہ نہیں کہ جس کی سچائی و صداقت پر سوالیہ نشان لگایا جاسکے۔

جن چودہ صدیوں میں جتنی تصانیف اسلام کی اشاعت اور اسکے بقاء و تحفظ کے عنوان سے معرض وجود میں آئیں وہ سب کی سب، صحابہ کرام کے خدمات جلیلہ اور بہترین کارکردگیوں کا واضح اعتراف ہیں، واقعہ نگاروں نے ایسے بے شمار تذکرے کتابیں اور تصانیف تحریر کی ہیں جو صحابہ کرام کے کردار اور ان کے مقام کے تعیین و انتخاب میں بدیہی دلائل کی حیثیت رکھتے ہیں دراصل معروضہ اور مقصد یہ ہے کہ صحابہ کرام کے تمام تر خدمات جلیلہ کے باوجود، مسلم طبقے میں صحابہ کرام کے تئیں اعتقادی حوالے سے وہ عملی استحکام نہیں جو ایک مسلم کے دل میں ہونی چاہئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ حضرات جن کی انتھک جدوجہد اور تعاون کے بعد اسلام کو ایک وسیع اور عالمگیر فضا ملی انہیں ہی فراموش کردیاگیا اور ان کی خدمات کو ذہول و نسیان کے خانے میں ڈال دیاگیا جو مسلم قوم کے لئے کسی بدترین المیہ سے کم نہیں۔

آج کی تاریخ میں امت مسلمہ کا موجودہ بحران اور اس کی ناقابل تدارک پسماندگی کے جو بھی اسباب ہوں اور جیسے بھی محرکات و مضمرات ہوں وہ ایک المیہ ہے دراصل آئیڈیل ہدف کی تعیین ان تمام المناک مراحل کا سدباب ہے آج اگر ہم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زیست کے اصول اور حیات گذاری کے اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک لائحہ عمل تیار کریں گے اور اسے برتیں گے تو عین ممکن ہے کہ مسلم کمیونٹی کے لئے دن بدن پیدا ہونے والے مسائل کی شیطانی رفتار، تھم جائے اور امت مسلمہ کی پسماندگی چھٹتی نظر آئے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم صحابہٴ کرام کی زندگی کی طرف ایک بار دوبارہ مڑکر دیکھیں اور ان کی جدوجہد سے لبریز تاریخ کے انقلابی گوشوں کو مشعل راہ بنائیں، ہوسکتا ہے؛ بلکہ عین ممکن ہے کہ امید کے امکانات روشن ہوں گے، ہمیں اپنے مسائل سے چھٹکارا ملے گا اور کھوئی عظمت رفتہ پھردوبارہ
ہمیں مل جائے گی ۔

ماخذ

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں