ماہ رجب اور اس کی بدعات

Jun
12

 سال کے خاص مہینوں میں ایک خاص مہینہ ”رجب المرجب “ بھی ہے،اس مہینے کی سب سے پہلی خصوصیت اس مہینے کا ”اشھر حرم “میں سے ہونا ہے۔(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب ماجاء فی سبع أرضین،رقم الحدیث:3197،دار طوق النجاة)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:” ملتِ ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب واحترام کے تھے ،اللہ تعالی ٰ نے ان کی حرمت کو برقرار رکھا اور مشرکینِ عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی اس کی نفی فرما دی“۔(معارف القرآن للکاندھلوی:431/3،بحوالہ حاشیہ سنن ابن ماجہ،ص:125)

رجب کی پہلی رات
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم رجب کے مہینہ کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے:”اللہم بارِک لنا في رجَب وشعبان و بلِّغْنا رمَضَان․“(مشکاة المصابیح،کتاب الجمعہ، الفصل الثالث،رقم الحدیث:1369،دارالکتب العلیہ) ترجمہ:اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرمااور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: ”یعنی ان مہینوں میں ہماری طاعت و عبادت میں برکت عطا فرمااور ہماری عمر دراز کر کے رمضان تک پہنچا، تا کہ رمضان کے اعمال روزہ اور تراویح وغیرہ کی سعادت حاصل کریں“۔(مرقاة المفاتیح:418/3،دارالکتب العلمیہ)

ماہِ رجب کے چاند کو دیکھ کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم دعا فرماتے تھے ،اسی کے ساتھ بعض روایات سے اس رات میں قبولیتِ دعا کا بھی پتہ چلتا ہے ، جیسا کہ ”مصنف عبدالرزاق“میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :”پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی، وہ شبِ جمعہ،رجَب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات،عید الفطر کی رات اور عید الاضحیٰ کی رات“۔(مصنف عبد الرزاق،رقم الحدیث: 7927،4/317،المجلس العلمی)

ماہِ رجب میں روزے
رجب میں روزے رکھنے سے متعلق الگ سے کوئی خاص فضائل منقول نہیں ہیں ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک کتاب ”تبیین العجب بما ورد في فضل رجب“ لکھی،جس میں انہوں نے بہت سی ان احادیث کو جمع کر کے ان کی اسنادی حیثیت کو واضح کیا ہے جو فضائل ِ رجب سے متعلق نہایت ضعیف یا موضوع تھیں آپ نے فرمایا ”ماہِ رجب میں خاص رجب کی وجہ سے کسی روزے کی مخصوص فضیلت صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے۔“(تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب،مقدمہ،ص:11)۔

البتہ روزہ خود ایک نیک عمل ہے اور پھر رجب کا ”اشھرحرم“ میں سے ہونا ،تو یہ دونوں مل کے عام دنوں سے زائد حصول ِ اجر کا باعث بن جاتے ہیں، لہذا اس مہینے میں کسی بھی دن کسی خاص متعین اجر کے اعتقاد کے بغیر روزہ رکھنا یقینا مستحب اور حصول ِخیر کا ذریعہ ہو گا، حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ نے (امداد الفتاویٰ:2/85 میں)ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ:”……دوسری حیثیت رجب میں صرف” شہر ِ حرام“ ہونے کی ہے، جو اس(رجب)میں اور بقیہ اشہرحُرم میں مشترک ہے، پہلی حیثیت سے قطع نظر صرف اس دوسر ی حیثیت سے اس میں روزہ رکھنے کو مندوب فرمایا گیا“۔

چناں چہ کسی دن کو خاص کر کے روزہ رکھنے اور اس کے بارے میں عجیب و غریب فضائل بیان کرنے کی مثال 27رجب کا روزہ ہے ، جو عوام الناس میں ”ہزاری روزہ “ کے نام سے مشہور ہے۔(اس پر تفصیلی کلام آگے آرہا ہے)

ماہِ رجب کی بدعات
اسلام سے قبل ہی سے ماہِ رجب میں بہت سی رسومات اور منکرات رائج تھیں، جن کو اسلام نے یکسر ختم کرکے رکھ دیا،ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں قربانی کا اہتمام ہے،جس کو قرآن پاک کی اصطلاح میں ”عتیرہ “ کے نام سے واضح کیا گیا ہے، اسی مہینے میں زکاة کی ادائیگی اور پھر موجودہ زمانے میں ان کے علاوہ بی بی فاطمہ کی کہانی ،22رجب کے کونڈوں کی رسم،27 رجب کی شب”جشنِ شب ِ معراج“اور اگلے دن کا روزہ جس کو”ہزاری روزہ “کہا جاتا ہے،وغیرہ وغیرہ سب ایسی رسومات و بدعات ہیں جن کا شرع شریف میں کوئی ثبوت نہیں ہے ،ذیل میں 27 رجب سے متعلق ہونے والی منکرات اور ہزاری روزے سے متعلق کچھ عرض کیا جائے گا۔

ستائیسویں رجب / شبِ معراج
رجب کی ستائیسویں شب میں موجودہ زمانے میں طرح طرح کی خرافات پائی جاتی ہیں ،اس رات حلوہ پکانا،رنگین جھنڈیاں ، آتش بازی اور مٹی کے چراغوں کو جلا کے گھروں کے درو دیوار پر رکھنا وغیرہ وغیرہ،جن کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اِن کو عبادت اور ثواب سمجھ کے کیا جاتا ہے تو یہ بدعت کہلائیں گی کیوں کہ نہ تو اِن سب اُمور کو ہمارے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس کیا ،نہ ان کے کرنے کا حکم کیا اور نہ ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم کیا۔اور اگر ان اُمور کو عبادت سمجھ کے نہیں کیا جاتا، بلکہ بطورِ رسم کیا جاتا ہے تو ان میں فضول خرچی،اسراف اور آتش بازی کی صورت میں جانی نقصان کا خدشہ، سب اُمور شرعاً حرام ہیں۔

اِن تمام اُمور کو اِس بنیاد پر سرانجام دیا جاتا ہے کہ 27 ویں رجب میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو سفرِ معراج کروایا گیا،عوام کے اس رات اِس اہتمام سے پتہ چلتا ہے کہ رجب کی ستائیسویں شب کو ہی حتمی اور قطعی طور پر شبِ معراج سمجھا جاتا ہے ،حالانکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو سفرِ معراج کب کروایا گیا؟ اِس بارے میں تاریخ،مہینے بلکہ سال میں بھی بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے،جس کی بنا پر ستائیسویں شب کو ہی شبِ معراج قرار دینا یکسر غلط ہے،اگرچہ مشہور قول یہی ہے۔

دوسری بات ! شبِ معراج جِس رات یا مہینے میں بھی ہو ،اُس رات میں کسی قسم کی بھی متعین عبادت شریعت میں منقول نہیں ہے،یہ الگ بات ہے کہ اِس رات میں سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو بہت بڑا شرف بخشا گیا،آپ کے ساتھ بڑے اعزاز و اکرام والا معاملہ کیا گیااور آپ صلی الله علیہ وسلم کو آسمانوں پر بلوا کے بہت سے ہدیے دیے گئے، لیکن امت کے لیے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی فضیلت والی بات کسی نے نقل نہیں کی۔

شبِ معراج افضل ہے یا شبِ قدر؟
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اِن دونوں راتوں (شبِ قدر اور شبِ معراج) میں سے کون سی رات افضل ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حق میں لیلة المعراج افضل ہے اور امت کے حق میں لیلة القدر ، اس لیے کہ اِس رات میں جن انعامات سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو مختص کیا گیا وہ ان (انعامات ) سے کہیں بڑھ کے ہیں جو (انعامات آپ صلی الله علیہ وسلم کو) شبِ قدر میں نصیب ہوئے اور امت کو جو حصہ (انعامات)شبِ قدر میں نصیب ہوا ،وہ اس سے کامل ہے جو(امت کو شبِ معراج میں ) حاصل ہوا ، اگرچہ امتیوں کے لیے شبِ معراج میں بھی بہت بڑا اعزاز ہے، لیکن اصل فضل ،شرف اور اعلیٰ مرتبہ اُس ہستی کے لیے ہے جس کو معراج کروائی گئی،صلی اللہ علیہ وسلم۔(مجموع الفتاویٰ،کتاب الفقہ ،کتاب الصیام،رقم الحدیث: 723،25 /130،دار الوفاء)

علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی قسم کا ایک لمبا سوال وجواب ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نقل کیا ہے اور اس کے بعدلکھا ہے کہ ”اِس جیسے اُمور میں کلام کرنے کے لیے قطعی حقائق کی ضرورت ہوتی ہے اور اِن کا علم ”وحی کے بغیر ممکن نہیں“ اور اِ س معاملے میں کسی تعیین کے بارے میں وحی خاموش ہے، لہذٰا بغیر علم کے اِس بارے میں کلام کرنا جائز نہیں ہے“۔(زاد المعاد، التفاضل بین لیلة القدر و لیلة الإسراء:۱/57،58،موٴسسة الرسالة)․

چناں چہ ! جب اتنی بات متعین ہو گئی کہ امت کے حق میں شبِ معراج کی کوئی فضیلت منصوص نہیں ہے، علاوہ اس بات کے کہ اس رات کا 27 رجب کو ہی ہونا بھی قطعی نہیں ہے تو اِس رات کو یا اِس کے دن کو کسی عبادت کے لیے جداگانہ طور پر متعین کرنا کسی طرح درست نہیں ہے،اب ذیل میں شبِ معراج کے وقتِ وقوع کے بارے میں جمہور علماء کی تحقیق پیش کی جائے گی۔

واقعہ معراج کب پیش آیا؟
علمائے سیر کا اس میں اختلاف ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو معراج کب کروائی گئی ،اس بارے میں (یعنی جِس سال میں معراج کروائی گئی ) عموماً دس اقوال ملتے ہیں: اکثرعلمائے کے نزدیک اتنی بات تو متعین ہے کہ واقعہ معراج ”بعثت“ کے بعد پیش آیا ،البتہ بعثت کے بعد کے زمانے میں اختلاف ہے، چناں چہ ابن سعد  کا قول ہے کہ معراج ہجرت سے ایک سال قبل کروائی گئی۔ ابن جوزی کا قول ہے کہ معراج ہجرت سے آٹھ ماہ قبل ہوئی۔ ابو الربیع بن سالم کا کہنا ہے کہ ہجرت سے چھ ماہ قبل ہوئی۔ ابراہیم الحربی کا کہنا ہے کہ ہجرت سے گیارہ ماہ قبل ہوئی۔ ابن عبد البرّ  کی رائے ہجرت سے ایک سال اور دو ماہ قبل کی ہے۔ ابن فارس کی رائے ہجرت سے ایک سال اور تین ماہ قبل کی ہے ۔ سدّی نے ہجرت سے ایک سال اور پانچ ماہ قبل کا قول نقل کیا ہے۔ ابن الأثیر  نے ہجرت سے تین سال قبل کا قول اختیار کیا ہے۔ زہری سے نقل کیا گیا ہے کہ واقعہ معراج ہجرت سے پانچ سال قبل پیش آیا۔ ایک قول بعثت سے پہلے وقوعِ معراج کا بھی ہے، لیکن یہ قول شاذ ہے، اس کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

اِن اقوال میں سے سب سے زیادہ مشہور قول جس کو ترجیح دی گئی ہے وہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔(فتح الباری:7/254، دارالسلام، سبلُ الہدیٰ والرشاد:3/65 ،دارالکتب العلمیہ)

معراج کس مہینے میں ہوئی؟
جس طرح وقوع ِ معراج کے سال میں اختلاف ہے، اسی طرح مہینے کی تعیین میں اختلاف ہے کہ واقعہ ِ معراج کس مہینے میں پیش آیا؟اس بارے میں بعض جگہ پانچ مہینوں کا ذکر مختلف اقوال میں ملتا ہے اور بعض جگہ چھ مہینوں کا۔ بہت سارے علما کے نزدیک ربیع الاول کے مہینے میں واقعہ معراج پیش آیا۔ ابراہیم بن اسحاق الحربی نے ربیع الاخر کے مہینے میں معراج کا ہونا لکھا ہے۔ عبدالغنی بن سرور المقدسی نے رجب کے مہینے کو ترجیح دی ہے،یہی قول مشہور بھی ہے۔ سدّی نے شوّال میں معراج کا ہونا لکھا ہے۔ ابن فارس نے ذوالحجہ میں معراج کا ہونا لکھا ہے۔(شرح المواہب للزرقانی:2/70،دارالکتب العلمیہ، عمدة القاری:17/27، دار الکتب العلمیہ)

معراج کس رات میں ہوئی؟
علامہ زرقانی  نے لکھا ہے کہ اس بارے میں تین اقوال مشہورہیں: پہلا قول جمعے کی رات کا ہے،دوسرا قول ہفتہ کی رات اور تیسرا قول پیر کی رات کا ہے،چوں کہ معراج کی تاریخ میں سخت اختلاف ہے، اس لیے رات کی تعیین میں حتمی قول اختیار کرنا آسان نہیں ہے۔( سُبُل الہدیٰ والرشاد:3/65، دارالکتب العلمیہ)۔

تعیین شبِ معراج میں اتنا اختلاف کیوں ؟
علمائے سیر نے خوب تحقیق کے بعد اُن صحابہ کی تعداد اور نام لکھے ہیں، جنہوں نے قصہ معراج کو نقل کیا ،کسی نے مختصر اور کسی نے تفصیل سے،چناں چہ علامہ قسطلانی  نے (المواہب اللدنیہ :2/345،میں)چھبیس صحابہ کے نام شمار کیے ہیں اور علامہ زرقانی  نے اس کتاب کی شرح میں ان صحابہ کے ناموں میں اضافہ کرتے ہوئے پینتالیس کی تعداد اور ان کے نام ذکر کیے ہیں،(شرح العلامة الزرقانی : 8/76،دارالکتب العلمیہ)۔

اس تفصیل کے بعد قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس قصے کی تفصیل بیان کرنے والے اصحاب ِ رسول کی اتنی بڑی تعداد ہے اور اس کے باوجود جس رات میں یہ واقعہ پیش آیا اس رات کی حتمی تاریخ کسی نے بھی نقل نہیں کی ،آخر کیوں؟کتبِ سیر میں غور کرنے کے بعد سوائے اس کے کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگرچہ اِس رات میں اتنا بڑا واقعہ پیش آیا لیکن اس کی بنا پر اس رات کو کسی مخصوص عبادت کے لیے متعین کرنا نہ تو کسی کو سُوجھا اور نہ ہی زبانِ نبوت سے اس بارے میں کوئی حکم صادر ہوا اور نہ ہی اس رات کی اس طرح سے تعظیم کسی صحابیِ رسول کے ذہن میں پیدا ہوئی،لیکن اس کے باوجود یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ اگرچہ اس سے کوئی حکم ِ شرعی وابستہ نہیں تھا، تاہم بمقتضائے محبت ہی اس طرف توجہ کی جاتی ، جب حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کے خدوخال اور نقش و نگار کو بھی بمقتضائے محبت ضبط کرنے کا اہتمام کیا گیا تو آخر اس شب سے اس قدر بے اعتنائی کی کیا وجہ؟تو اس سوال کے جواب میں حضرت مولانا مفتی رشید احمدصاحب لدھیانوی  فرماتے ہیں:”کہ اس شب میں خرافات و بدعات کی بھر مار کا شدید خطرہ تھا ، حضور صلی الله علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سدّ باب کی غرض سے اس کو مبہم رکھنا ہی ضروری سمجھا۔ “(سات مسائل،ص:16، دارالافتاء والارشاد ،کراچی)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا عشقِ رسول صلی الله علیہ وسلم
کیا کسی بھی درجے میں یہ بات سوچی جا سکتی ہے کہ العیاذ باللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے عشق و محبت نہ تھی، یا اُن کو اس رات میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو ملنے والے اتنے بڑے اعزاز کی خوشی نہیں ہوئی،ہر گز نہیں ! اُن سے بڑا عاشقِ رسول کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، لیکن اُن کا عشق حقیقی تھا، جس کی بنا پر اُن سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو ہی نہیں سکتا تھا ،جو سرکارِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی منشا کے خلاف ہوتا،وہ تو خیر کے کاموں کی طرف بہت تیزی سے لپکنے والے تھے،لہذا اگر اس رات میں کوئی مخصوص عبادت ہوتی تو وہ ضرور اسے سرانجام دیتے اور اسے امت تک بھی پہنچاتے،لیکن ایسا کوئی بھی اقدام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تاریخ میں نہیں ملتاتو جب کوئی خیر کا کام ان کو نہیں سُوجھا تو وہ ”خیر “ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وہ بدعت ہو گا، جیسا کہ علامہ شاطبی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے :”کل عبادة لم یتعبدھا أصحاب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم فلا تعبدوھا“․(الاعتصام للشاطبي،باب فی فرق البدع والمصالح المرسلة:۱/۴۱۱،دارالمعرفة) ترجمہ:”ہر وہ عبادت جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا ،سو تم بھی اسے مت کرو“۔

بدعت کی پہچان کے لیے معیار
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہوا ہے کہ :”وأما أھل السنة والجماعة فیقولون فيکل فعلٍ و قولٍ لم یثبُت عن الصحابة، ہو بدعةٌ؛ لأنہ لو کان خیراً سبقونا إلیہ، إنہم لم یترکوا خصلةً من خصالِ خیرٍ إلا وقد بادَروا إلیہا․“ (تفسیر ابن کثیر، الأحقاف:۱۱، دارالسلام)

ترجمہ:اہل سنت والجماعت یہ فرماتے ہیں کہ جو فعل حضرات ِ صحابہ رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہ ہو تو اس کا کرنا بدعت ہے، کیوں کہ اگر وہ اچھا کام ہوتا تو ضرور حضرات ِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہم سے پہلے اُس کام کو کرتے، اِس لیے کہ انہوں نے کسی نیک اور عمدہ خصلت کو تشنہ عمل نہیں چھوڑا، بلکہ وہ ہر(نیک ) کام میں سبقت لے گئے۔

اصلاحی خطبات سے ایک اقتباس
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ فرماتے ہیں کہ: ”27رجب کی شب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ یہ شب ِ معراج ہے اور اس شب کو بھی اسی طرح گذارنا چاہیے جس طرح شب قدر گذاری جاتی ہے اور جو فضیلت شب قدر کی ہے ، کم وبیش شب معراج کی بھی وہی فضیلت سمجھی جاتی ہے، بلکہ میں نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہوا دیکھا کہ ”شبِ معراج کی فضیلت شبِ قدر سے بھی زیادہ ہے“ اور پھر اس رات میں لوگوں نے نمازوں کے بھی خاص خاص طریقے مشہور کر دیے کہ اس رات میں اتنی رکعات پڑھی جائیں اور ہر رکعت میں فلاں فلاں سورتیں پڑھی جائیں ، خدا جانے کیا کیا تفصیلات اس نماز کے بارے میں مشہور ہو گئیں ، خوب سمجھ لیجیے،یہ سب بے اصل باتیں ہیں ،شریعت میں ان کی کوئی اصل اور کوئی بنیاد نہیں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ27 رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتاکہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے ، کیوں کہ اس باب میں مختلف روایتیں ہیں ، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے،اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتاکہ کون سی رات صحیح معنوں میں معراج کی رات تھی، جس میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے، اس سے آپ خوداندازہ کر لیں کہ اگر شب معراج بھی شب قدر کی طرح کوئی مخصوص رات ہوتی،اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے جس طرح شب قدر کے بارے میں ہیں تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا،لیکن چوں کہ شب معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے 27رجب کو شب معراج قرار دینا درست نہیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم 27رجب کو ہی معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے جس میں یہ عظیم الشان واقعہ پیش آیااور جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو یہ مقام ِ قرب عطا فرمایا اور اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخشا، اور امت کے لیے نمازوں کا تحفہ بھیجا تو بے شک وہی ایک رات بڑی فضیلت والی تھی ، کسی مسلمان کو اس کی فضیلت میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ؟ لیکن یہ فضیلت ہر سال آنے والی27رجب کی شب کو حاصل نہیں ۔

پھردوسری بات یہ ہے کہ (بعض روایات کے مطابق)یہ واقعہ معراج سن 5 نبوی میں پیش آیا ، یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کے نبی بننے کے پانچویں سال یہ شب معراج پیش آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد 18 سال تک آپ صلی الله علیہ وسلم دنیا میں تشریف فرما رہے، ان اٹھارہ سال کے دوران یہ کہیں ثابت نہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے شب معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا حکم دیاہو ، یااس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شب قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے نہ تو آپ کا ایسا کو ئی ارشاد ثابت ہے اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے ، نہ خود آپ صلی الله علیہ وسلم جاگے اور نہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔

پھر سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد تقریباً سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا میں موجود رہے ، اس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ثابت نہیں ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے 27رجب کو خاص اہتمام کر کے منایا ہو، لہٰذا جو چیز حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے نہیں کی اور جو چیز آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کی ، اس کودین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قراردینا یا اس کے ساتھ سنت جیسامعاملہ کرنا بدعت ہے، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں (العیاذ باللہ)حضور صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ جانتا ہوں کہ کونسی رات زیادہ فضیلت والی ہے، یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے، اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عمل نہیں کیا تو میں اس کو کروں گا، تو اس کے برابر کوئی احمق نہیں“۔(اصلاحی خطبات :1/48-51،میمن اسلامک پبلشرز)

”حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین رحہم اللہ تعالیٰ اور تبع تابعین رحہم اللہ تعالیٰ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے ، دین کو خوب سمجھنے والے ، اور دین پر مکمل طور پر عمل کرنے والے تھے ، اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں ، یا ان سے زیادہ دین کا ذوق رکھنے والا ہوں، یا ان سے زیادہ عبادت گذار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا۔ لہذا اس رات میں عبادت کے لیے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے ، یوں تو ہر رات میں اللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دے دیں وہ بہتر ہی بہتر ہے،لہذا آج کی رات بھی جاگ لیں ، لیکن اس رات میں اور دوسری راتوں میں کوئی فرق اور نمایاں امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔“(اصلاحی خطبات:1/5،52، میمن اسلامک پبلشرز)

ہزاری روزہ
عوام الناس میں یہ مشہور ہے کہ 27 رجب کو روزہ کی بڑی فضیلت ہے، حتی کہ اس بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس ایک دن کے روزے کا اجر ایک ہزار روزے کے اجر کے برابر ہے، جس کی بنا پر اسے ”ہزاری روزے “کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے،حالانکہ شریعت میں اس روزے کی مذکورہ فضیلت صحیح روایات میں ثابت نہیں ہے،اس بارے میں اکثر روایات موضوع ہیں اور بعض روایات جو موضوع تو نہیں لیکن شدید ضعیف ہیں، جس کی بنا پر اس دن کے روزے کے سنت ہونے کے اعتقاد یا اس دن روزے پر زیادہ ثواب ملنے کے اعتقاد پر روزہ رکھنا جائز نہیں ہے،اس بارے میں اکابرین علمائے امت نے امت کے ایمان و اعمال کی حفاظت کی خاطر راہنمائی کرتے ہوئے فتاوی صادر فرمائے ،جو ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں:

”فتاویٰ رشیدیہ “میں ہے:
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ماہِ رجب میں ہونے والی ”رسمِ تبارک“ اور ”رجب کے ہزاری روزے“ کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”اِن دونوں امر کاا لتزام نا درست اور بدعت ہے اور وجوہ اِن کے ناجائز ہونے کی (کتاب)اصلاح الرسوم، براہینِ قاطعہ اور اریجہ میں درج ہیں“(فتاویٰ رشیدیہ،ص:148،ادارہ اسلامیات)۔

”فتاویٰ محمودیہ“ میں ہے:
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:”ماہِ رجب میں تواریخ ِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وارد ہوئی ہیں ، لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچیں ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ما ثبت بالسنة“میں ذکر کیا ہے کہ:”بعض (روایات) بہت ضعیف اور بعض موضوع(من گھڑت)ہیں“۔(فتاویٰ محمودیہ:3/281،جامعہ فاروقیہ، کراچی)

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ ایک اور سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:”عوام میں 27 رجب کے متعلق بہت بڑی فضیلت مشہور ہے، مگر وہ غلط ہے، اس فضیلت کا اعتقاد بھی غلط ہے، اِس نیت سے روزہ رکھنا بھی غلط ہے،”ما ثبت بالسنة “میں اِ س کی تفصیل موجود ہے۔“(فتاویٰ محمودیہ:10/202،جامعہ فاروقیہ،کراچی)

”فتاویٰ دارالعلوم دیوبند“ میں ہے:
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”ستائیسویں رجب کے روزے کو جسے عوام”ہزارہ روزہ“کہتے ہیں اور ہزار روزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں ، اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔“ (فتاویٰ دارالعلوم دیو بند مکمل و مدلل:6/406، مکتبہ حقانیہ ، ملتان)

”فتاویٰ رحیمیہ “میں ہے:
حضرت مولانا مفتی سید عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں :”ستائیسویں رجب کے بارے میں جو روایات آئی ہیں وہ موضوع اور ضعیف ہیں ، صحیح او ر قابل ِ اعتماد نہیں ، لہٰذا ستائیسویں رجب کا روزہ عاشوراء کی طرح مسنون سمجھ کرہزار روزوں کا ثواب ملے گا، اس اعتقاد سے رکھنا ممنوع ہے“۔(فتاویٰ رحیمیہ :7/274، دارالاشاعت،کراچی)

”بہشتی زیور “میں ہے:
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (رجب کے چاند کے بارے میں )لکھتے ہیں:”اس کو عام لوگ ”مریم روزہ کا چاند“کہتے ہیں اور اس کی ستائیس تاریخ میں روزہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں کہ ایک ہزار روزوں کا ثواب ملتا ہے، شرع میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں ، اگر نفل روزہ رکھنے کو دل چاہے اختیار ہے، خدا تعالیٰ جتنا چاہیں ثواب دے دیں، اپنی طرف سے ہزار یا لاکھ مقرر نہ سمجھے ، بعضی جگہ اس مہینے میں ”تبارک کی روٹیاں“پکتی ہیں، یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہے، شرع میں اس کا کوئی حکم نہیں ، نہ اس پر کوئی ثواب کا وعدہ ہے، اس واسطے ایسے کام کو دین کی بات سمجھنا گناہ ہے“۔(بہشتی زیور:6/60،دارالاشاعت، کراچی)

”عمدة الفقہ“میں ہے:
حضرت مولانا سید زوّار حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”ہزاری روزہ یعنی ستائیس رجب المرجب کا روزہ ، عوام میں اس کا بہت ثواب مشہور ہے، بعض احادیثِ موضوعہ (من گھڑت احادیث)میں اس کی فضیلت آئی ہے، لیکن صحیح احادیث اور فقہ کی معتبر کتابوں میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ بعض روایات میں ممانعت آئی ہے، پس اس کو ضروری اور واجب کی مانند سمجھ کر روزہ رکھنا یا ہزار روزہ کے برابر ثواب سمجھ کر رکھنا بدعت و منع ہے“۔(عمدة الفقہ :3/195،زوار اکیڈمی)

خلاصہ کلام
مندرجہ بالا تفصیل سے 27 رجب کے روزے کی بے سند و بے بنیادمشہور ہوجانے والی فضیلت کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے،کہ اس دن کو خاص فضیلت والا دن سمجھ کر یا خاص عقیدت کے ساتھ مخصوص ثواب کے اعتقاد سے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

اللہ رب العزت محض اپنے فضل وکرم سے صحیح نہج پر اپنے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی اور ان کو اوروں تک پہچانے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

ماخذ

ایک تبصرہ

ایک تبصرہ “ماہ رجب اور اس کی بدعات”

  1.  علی عامر

    جزاک اللہ ۔۔۔ تفصیل سے بیان فرمانے پر مشکور ہوں۔

تبصرہ فرمائیں