امیر المومنین، امام المتقین، قاتل المشرکین، خلیفۂ راشد وعادل سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ

Aug
21

شجرۂ نسب:

آپ کا شجرۂ نسب والد کی طرف سے یوں ہے۔

علی بن عبدمناف(ابوطالب) بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف۔ ماں کی طرف سے علی بن فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبدمناف ۔ آپ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا زاد بھائی ہیں۔ عبدمناف کی اولاد بہت تھی۔ اسبابِ معاش بہت کم، اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علی کو چچا سے مانگ لیا کہ اس کی تربیت وتعلیم اور پرورش کا میں کفیل ہوں۔ ابوطالب نے بخوشی بیٹا دے دیا۔ جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پالا پوسا، پروان چڑھایا، قلبِ علی کو نورِ ایمان سے منور کیا، علم وعمل کی نعمتوں سے مالا مال کیا، داماد بنایا اور ’’اقضیٰ ھم علّی‘‘ کے منصبِ جلیلہ پر فائز کیا۔

کنیت:

آپ کو ابوالحسن ابو تراب کی کنیت سے یاد کیا جاتا ہے اور ایک غیر مشہور کنیت آپ کی ابوالقاسم الہاشمی بھی ہے۔

قبولِ اسلام:

حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ وانذر عشیر تک الاقربین (الشعراء: ۲۱۴)کہ اپنے قرابت داروں کو آخرت کے عذاب سے ڈراؤ ۔ کہ شرک چھوڑ کر توحیدِ ربانی کی طرف آجائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس ’’عشیرہ‘‘ برپا کی۔ تمام اعزہ واقرباء کی دعوت کی اور انھیں اسلام کی طرف بلایا۔ اپنی نبوت کی خبرِ صادق سنائی۔ تمام اعزہ خاموش رہے۔ ابولہب بھِنّا اٹھا اور ابوطالب خاموش رہا۔ مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ جن کی عمر اس وقت ۷ برس بتائی جاتی ہے۔ کھڑے ہوئے اور قبولِ حق کا اعلان فرمایا۔ توحید ونبوت کی شہادت پڑھی اور حلقہ بگوشِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگئے۔

آپ کی عمر کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے محققین کا قول یہ ہے کہ آپ ۷ برس کے تھے۔ اسی لیے اہلِ سنت نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ بچوں میں سب سے پہلے مسلمان علی بن عبدمناف (ابوطالب) ہیں۔ آپ کے اسلام کا سببِ قوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت تھی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا قرب تھا۔ بعض لوگوں نے فضائل ومناقب کے باب میں بڑے ردّ وکد کا اظہار کیا ہے۔ ان میں زیادہ روایات ابنِ عساکر نے جمع کی ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں:

لا یصح شی منہا واللہ اعلم(۱) ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں۔

محمد ابن کعب قرظی فرماتے ہیں۔ عورتوں میں خدیجہ الکبریٰؓ اسلام لائیں اور مردوں میں ابوبکرؓ وعلیؓ۔

ولکن کان ابوبکر یظہر ایمانہ وعلی یکتم ایمانہ قلت خوفاً من ابیہ ثم امرہ ابوہبمتابعہ ابن عمہ ونصرتہ۔(۲)

اور لیکن حضرت ابوبکرؓ اپنا ایمان ظاہر کرتے تھے اور حضرت علیؓ اپنے والد کے خوف سے ایمان چھپاتے تھے ۔ پھر ان کے والد نے انہیں چچا کے بیٹے کی پیروی اور اس کی مدد کاحکم دیا ۔

ہجرت:

سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بعد آپ نے ہجرت کی۔

مواخات:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو سہل بن حنیف انصاری کا بھائی بنایا۔

وذکر ابن اسحاق وغیرہ من اہل السیر والمغازی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخی بینہ وبین نفسہ وقدوردفی ذلک احادیث کثیرۃ لا یصح شی منہا لضعف اسانیدہ ورکہ بعض متونہا۔(۳)

ابن اسحاق اور ان کے علاوہ علماء سیرت ومغازی نے ذکر کیاہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علیؓ کو اپنا بھائی بنایا اور اس سلسلہ میں بہت سی احادیث لائے ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ بھی درست نہیں۔ بعض کی سند کمزور ہے اور بعض کے متن ہی رکیک ہیں۔

غزوات میں شرکت:

آپ نے غزوۂ بدر میں دادِ شجاعت دی اور بہر نوع غالب رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے آپ کا ہاتھ اس دن’’یدبیضاء‘‘ تھا اور یہ سب نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہات کا اثر تھا۔ حضرت علی، حمزہ اورعبید ابنِ حارث کے مقابلہ میں عتبہ، شیبہ اور ولید بھی سامنے تھے تو اللہ نے ان کے باطنی وظاہری بغض وعداوت کے بارے میں آیت نازل فرمائی: ہٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصِمُوْا فِیْ رَبِّہِمْ (الحج: ۱۹)

بعض روایات ایسی مشہور کردی گئی ہیں کہ ان کے ردّ کرنے پر جاہل حتیٰ کہ مولوی بھی جزبز ہوتے ہیں کہ بدر کے دن آسمان سے آواز آئی: لا سیف الا ذوالفقار ولا فتی الاعلیٰ ۔ تلوار تو بس ذوالفقار ہے اور جوان تو فقط علی ہیں۔

ابن عساکر کہتے ہیں، یہ روایت مرسل ہے(۴)۔ ہاں ، ایک روایت اس وجہ سے درست مانی جاسکتی ہے کہ اس پر قرآن گواہ ہے کہ غزوہ بدر میں اللہ نے ۸ ہزار فرشتے محمد واصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے قطار اندر قطار نازل فرمائے اور وہ ابلق گھوڑوں پر سوار تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ابوبکرؓ کو اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے کے ساتھ میکائیل علیہ السلام۔ فرمایا اسرافیل علیہ السلام وہ عظیم فرشتہ ہے جو قتال وجہاد میں حاضر تو ہے لیکن قتل نہیں کرتا۔(۵)سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں بھی شریک تھے اور دادِ شجاعت دیتے رہے۔ آپ افواجِ اسلامیہ کے میمنہ پر مقرر تھے اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جھنڈا آپ نے تھاما۔ آپ نے احد کی جنگ میں شدید ترین حملے کیے اور مشرکین کے کشتوں کے پشتے لگادئیے۔ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور زخمی ہوگیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہی بڑھ کر آپ کا چہرۂ انور صاف کیا تھا۔ آپ غزوۂ خندق، حدیبیہ ، خیبر میں برابر شریک اصحابِ رسول رہے۔ اسی طرح فتح حنین اور طائف میں بھی آپ بقیہ اصحابِ رسول کی صف میں شامل اور معیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حامل تھے۔

امامت ونیابت:

سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کے لیے مدینہ سے نکلنے لگے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ساکنانِ مدینہ پاک پر اپنا نائب مقرر کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

یا رسول اللہ اتخلفنی مع النساء والصبیان

’’اے اللہ کے رسول! مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ ‘‘

تو اس کے جواب میں اعلم الناس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ غیر انہ لا نبی بعدی

علی! تو اس بات پر راضی نہیں کہ جس طرح موسیٰ کے لیے ہارون تھے تم میرے لیے اسی طرح ہوبجز اس کے کہ میرے بعد نبوت نہیں چلے گی۔

یہی ایک پیریڈ ہے۔ اس پر قناعت کرو اور بس۔ اس نصیحت کا واضح تعلق اس بات سے ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک محدود حکم تھا اور وفاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس حکم کا کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ سیدنا ہارون علیہ السلام کو جو نیابت ملی تھی ، وہ محدود تھی۔ مطلق نہ تھی۔ اور اگر اس واقعہ کو خلافت مطلقہ مان لیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نماز کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں فرمایا بلکہ سیدنا عبداللہ ابنِ ام مکتومؓ کو مسجدِ نبوی کی امامت پر مامور فرمایا۔ دوسرے یہ کہ سیدنا ہارون علیہ السلام صرف چالیس دن کے لیے نائب مقرر کیے گئے تھے۔ اس کے بعد آپ کی ڈیوٹی ختم ہوگئی تھی اور آپ موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے چالیس برس قبل انتقال فرماگئے۔ (بحوالہ مشکوٰۃ)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں آپ کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا مگر تنہا نہیں بھیجا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھی آپ کے ہمراہ بھیجا تاکہ حالات مکمل طور پر آپ کے قبضہ میں رہیں۔ لیکن اپنی وفات کے بعد کوئی مخفی یا ظاہری حکم نہیں دیا۔ ایسی تمام روایات جھوٹ کا پلندہ ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب سیدِ کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیما رہوئے اور حیاتیاتی عناصر ساتھ چھوڑتے ہوئے دکھائی دیے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ آپ کے بعد کارِ نبوت اور امرامت کس کے سپرد ہوگا۔

سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیمن الا مربعدہ؟ فقال واللہ لا اسئلہ فانہ منعنا ہا لا یعطینا ہا لناس بعدہ ابداً

فرمایا: اللہ کی قسم میں نہیں پوچھتا کہ اگر آپ نے انکار فرما دیا تو لوگ قیامت تک مجھے یہ عہدہ ونیابت نہیں دیں گے۔ تمام احادیث کی تفصیلات سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے خاندان کے بارے میں کوئی وصیتِ نیابت وامامت نہیں فرمائی۔(۶)

رافضی اور وعظ فروش مولوی جس وصیت وامامت کی دہائی دیتے ہیں وہ سراسر جھوٹ، بہتان اور افتراء ہے۔ اگر اس وصیت کو ہم مؤمنینِ اہلِ سنت مان لیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ صحابہ (معاذ اللہ) خائن تھے جو وصیتِ رسول کے نفاذ میں بددیانتی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں صحابہ کی اجماعی حیثیت کو یوں واضح فرمایا گیا ہے کہ:

(۱) صحابہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد تمام انسانوں سے بہتر ہیں۔

(۲) اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے عہد اور بعد کے زمانہ میں بہترین زمانہ کے لوگ تھے۔

(۳) اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام امتوں کے اشرف لوگ ہیں۔(بنص قرآن)

(۴) اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلف وخلف کا اجماع ہے کہ وہ دنیا وآخرت میں غیر مسؤل ہیں اور حسنِ عاقبت، نجات ومغفرت اور معیتِ رسول کے خطاب یافتہ ہیں۔

لفظ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا جامع لفظ ہے جس میں تمام اعزہ واقربا، اہل سنت اور دیگر اہلِ ایمان برابر کے حصہ دار ہیں۔ بخلاف دوسری نسبتوں کے کہ وہ تفریق کا موجب بنتی ہیں۔

ان سے گریز اولیٰ ہے۔(فافھم)(۷)

بیعت وخلافت:

سیدنا عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہفتہ کے دن ۱۹ ذی الحجہ ۳۵ھ کو آپ کی بیعت عام ہوئی۔ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سب سے پہلے آپ کی بیعت سیدنا طلحہ نے کی اور فرمایا یہ کام یوں پایہ تکمیل تک نہ پہنچے گا۔ چنانچہ آپ مسجد میں آئے اور بیعتِ عام ہوئی۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ انصار کی ایک جماعت نے ان کی بیعت نہ کی ۔ ان کے اسماء یہ ہیں:

(۱)حسان بن ثابت(۲) کعب بن مالک(۳) مسلم بن مخلا(۴) ابو سعید(۵) محمد بن مسلم(۶) کعب بن عجرہ اور مدینہ کے کچھ لوگ شام کو چلے گئے اور انھوں نے سیدنا علی کی بیعت نہیں کی۔ ان کے اسماء یہ ہیں(۱) قدامہ بن مظعون (۲)عبداللہ بن سلام (۳) مغیرہ بن شعبہ (۴) مروان بن حکم (۵) ولید بن عقبہ (۶) ابنِ عمر(۷) سعد بن ابی وقاص (۸)صہیب (۹)زید بن ثابت(۱۰) محمد بن ابی مسلمہ (۱۱) سلمہ بن سلامہ بن ارقش(۱۲) اسامہ بن زید، رضوان اللہ علیہم اجمعین

ایک اور روایت کے مطابق باغیانِ کوفہ ومصر اور بصرہ، حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس باری باری گئے مگر انھوں نے ان کو کھلے لفظوں میں مردود قرار دیا۔ پھر سیدنا علیؓ کی خدمت میں آئے تو مالک الاشترنے سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کی۔ جب کہ یہ شخص قتلِ عثمانؓ میں بڑے مکروہ کردار کا حامل تھا۔ اس کے بعد تمام باغیوں نے بیعت کی۔

بہرحال ان مذکورہ بزرگ صحابہؓ کے علاوہ تمام مسلمانوں نے بیعت کی اور اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت، خلافتِ راشدہ حقہ تھی۔ مگر خلافت علی منہاج النبوۃ۔ یعنی نبوت کے طریقے پر خلافت

صرف حضرت ابوبکر و عمر کی خلافت تھی۔رضی اللہ عنہما۔

امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبۂ خلافت:

حمد اللہ واثنی علیہ ثم قال ان للہ تعالیٰ انزل کتاباً ھادیاً بین فیہ الخیر والشر فخذ وابا لخیر ودعوالشر۔ ان اللہ حرم حرماً مجہولہ، وفضل حرمۃ المسلم علی الحرم کلہا وشد بالاخلاص والتوحید حقوق المسلمین، والمسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ الا بالحق لا یحل لمسلم آذٰن مسلماً الا بما یحب۔ بادروا امرالعامۃ وخاصۃ احد کم الموت فان الناس امامکم وائما خلفکم الساعۃ تحدوبکم فتخففو تلحقوا۔ فانما ینتظر الناس اخراہم، اتقواللہ عبادہ فی عبادہ وبلادہ فانکم مسؤلون حتی عن البقاع والبہائم ثم اطیعو اللہ ولا تعصوہ، واذا رائیتم الخیر فخذوہ، واذا رائیتم النشر فدعوہ (۸)

وَ اذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ (انفال: ۲۶)

اللہ کی حمد وثناکے بعد آپ نے فرمایا بے شک اللہ نے ہدایت دینے والی کتاب نازل کی ہے۔ جس میں خیروشر کو واضح کیا ہے۔ پس تم خیر کو تھام لو اور شر کو چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ نے مجہول حرم کو حرام کیا ہے۔ اور مسلمانوں کی حرمت کو تمام مقدسات پر ترجیح دی ہے اور مسلمانوں کے حقوق کو اخلاص اور توحید سے پابند کیا ہے۔ اور مسلمان وہ ہے کہ حق کے سوا مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو واجب اذیت کے بغیر ایذا نہیں پہنچا سکتا۔ لوگوں کے کاموں کی طرف سبقت کرو۔ تم میں سے کسی کو بھی موت آئے تو یہ خاص بات ہے۔ بلاشبہ لوگ تمہارے سامنے ہیں اور قیامت تمہارے پیچھے ہے جو تمہیں ہانک رہی ہے۔ پس تم ہلکے پھلکے ہوجاؤ اور باہم مل جاؤ۔ لوگوں کی آخری گھڑی منتظر ہے۔ اللہ کے بندوں اور ان کے شہروں کے بارے میں ڈرتے ہو۔ تم سے اراضی اور جانوروں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اللہ کی اطاعت کرو،نافرمانی نہ کرو۔جب تم خیر کو دیکھوتو فوراً اپنا لواور جب شردیکھوتو فوراً چھوڑ دو ۔’’اوراس وقت کو یاد کرو جب تم ضعیف وناتواں تھے۔ زمین میں اور بہت تھوڑے تھے۔‘‘ (القرآن)

چونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ابتداء کرنے والے مصری، کوفی اور بصری باغی ہی تھے جنھیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوب پہچانتے تھے۔ مگر حالات کی سنگینی اور تقاضے کچھ مختلف تھے۔ اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (۱)مسلمانوں کی عام حرمت(۲) ان کی املاک کی حرمت(۳) ان کے خون کی حرمت(۴) اختلافات کے باوجود نفسی، شخصی اور منصبی حرمت کی بھی نصیحت فرمائی۔ (۵) انھیں سمجھایا اور قائل کرنے کی کوشش کی کہ اب باہمی آویزش کی بجائیمل جل کر رہو۔ (۶) لوگوں کے کام کرو۔ ان کی ضروریات کی کفالت کرو کہ اسی میں اجر ہے اور یہی فخر بھی۔ (۷) موت تم پر منڈلا رہی ہے، قیامت تمھیں ہانک رہی ہے۔(۸) انسانوں، زمینوں، جانوروں اور تمام حرمتوں کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ ہوگی۔ (۹) سنبھلو اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرو۔(۱۰) دیکھو اللہ سے ڈرتے رہو۔ نفس کے ’’احکام‘‘ مت مانو۔ اللہ کا حکم مانو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔(۱۱) خیر اپناؤ اور شر چھوڑ دو۔ قرابتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تربیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ میں جھلک رہی ہیں اور واضح طور پر دل ونگاہ کو آگہی، شعور اور نورِ بصیرت مل رہے ہیں۔ آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ایک حاکم اور قوم کے لیے یکساں نفع اس سے ملتا ہے۔ مگر برا ہو اشتری گروہ کا کہ انھوں نے ان میں سے کسی ایک بات پر بھی عمل نہ کیا۔ بلکہ اس کے برعکس امت میں فتنہ برپا کیا۔ صحابہ کو قتل کیا، ان کا مال لوٹا۔

(۱) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مقدس مشن قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کو سبوتاژ کیا۔ ان پر شب خون مارا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مصالحت کی تمام تدابیر فتنہ وفساد اور خوں ریزی کے سپرد کردیں۔(۹)

(۲) سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔(۱۰)

(۳) سیدنا زبیررضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔(۱۱)

(۴) سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔(۱۲)

(۵) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خطبہ جنگ جمل کے بعد مالک الاشتر نے کہا کہ اگر علی ہمارے ساتھ راست نہ رہے تو الحقنا علیاً بعثمان کہ علی کو بھی عثمان سے ملا دیں گے۔(۱۳)

(۶) وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے گروہ کو باطل اور باغی تصور کرتے تھے اور ان کے ساتھ باغیوں جیسا سلوک کرنا چاہتے تھے۔ مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

ایہا الناس امسکو عن ہولاء القوم ایدیکم والسنتکم ۔

لوگو! اپنے ہاتھ اور زبانیں روکو اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے گروہ کو کچھ مت کہو۔(۱۴)

(۷) اور یہ کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمل وصفین کے مقتولین کا جنازہ پڑھایا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور ثالثی قبول کی تو انہی قاتلینِ عثمانؓ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت بھی کردی(۱۵)۔ اور اتہام ودشنام کی انتہا کردی۔

(۸) پھر جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تو انہی قاتلین عثمان نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا۔ انھیں سخت سست کہا اور ان کی بہت بے عزتی کی۔(۱۶)

(۹) مالک الاشتر، حکیم بن جبلہ، شریع ابن اونی، عبداللہ ابن سبا، سالم بن تعلیہ، غلاب بن الہیثم باغیوں کے روساء نے جب نافرمانیوں کی حد کردی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بآواز بلند فرمایا:

لعن اللّٰہ قتلۃ عثمان۔ قاتلینِ عثمان پر اللہ کی لعنت ہو۔(۱۷)

دوسری جگہ فرمایا: اللہم العن قتلہ عثمان۔(۱۸)

(۱۰) اسی مالک الاشتر نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو جنگِ جمل میں شدید زخمی کیا۔ آپ کے جسم پر ۳۷ زخم تھے۔ آپ نے بڑی پامردی، استقامت، بسالت اور شجاعت کے ساتھ ان موذیوں کا مقابلہ کیا اور سیدۂ کائنات ام المومنین عائشہ الصدیقۃ الحمیر ارضی اللہ عنہا کے دفاع کاحق اداکردیا۔

(۱۱) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اصحاب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مال اسباب انھیں واپس کیا تو یہ اشتری سبائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر طعنہ زنی کرنے لگے:کیف یحل لنا دماۂم ولا تحل لنا اموالہم (۱۹)

ان کامال ہمارے لیے حلال نہیں تو ان کا خون بہانا ہمارے لیے کیسے حلال ہے؟

جب یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا :’’تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ( معاذاللہ) عائشہ اس کو حصہ میں ملے؟ ‘‘ میں نے نمونہ کے طورپر سبائیوں اور اشتریوں کی بدکاریاں گنوائی ہیں۔ان لوگوں کے ہاتھ سے سلامتی پھیلی نہ اِن کی زبان سے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گیارہ نصیحتیں تھیں۔ انھیں کے مقابلہ میں ان کی گیارہ بدعہدیاں ، نافرمانیاں اور خباثیں ذکر کی ہیں۔ اگر ان کی دنائتوں اور شرارتوں کا ذکر مقصود ہوتا تو اس کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔ میری حیرانی اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب میں نے عصرِحاضر کے بعض محققین کو ان کی بدکاریوں سے چشم پوشی کرتے دیکھا۔ میں نہیں سمجھ سکا ان ’’محققوں‘‘ کو ان سبائی اور اشتری بدکاروں سے کیوں محبت ہے۔

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا پورا دورِ حکومت ان ریشہ دوانیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اگریہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اور مسلمانوں کے خیر خواہ ہوتے تو آپ کی ہدایات پر عمل کرتے۔ عوام اور خواص کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرتے جو پہلے ہی دن آپ نے خطبہ میں فرمایا۔ آپ نے تو عام انسانی حقوق کے بارے میں وہ بات فرمائی ہے جو آج اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں بھی نہیں مگر ان سبائی،خارجی اوراشتری ظالموں نے اکابر صحابہؓ کے منصب وحقوق کی بھی پروا نہیں کی۔ اے کاش وہ ظالم ایسا نہ کرتے۔

مولانا سید عطاء المحسن بخاری رحمتہ اللہ علیہ
بشکریہ نقیب ختم نبوت

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں