طلاق شرعی رہنمائی قسط نمبر 1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از: مفتی اشتیاق احمد قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند

Aug
09

’’نکاح‘‘ عظیم نعمت ہے،اس کے ذریعہ آدمی عفت وعصمت اور پاکدامنی حاصل کرتا ہے، زنا جیسی قبیح حرکت سے محفوظ رہتا ہے، اسی پاکیزہ رشتہ کی برکت سے نسلِ انسانی کی بقا ہے، یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے، ایران کے مانی فرقہ کے لوگ، اسی طرح عیسائی راہب اور سادھو سنت؛ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے نکاح نہیں کرتے تھے، اس طریقہ کو اسلام نے بالکلیہ رد کردیا اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ”النکاح من سنتی“ (ابن ماجہ:۱/۳۴۰) کی صراحت فرمائی اور دوسری حدیث میں حضرت عثمان بن مظعون کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص میری سنت سے اعراض کرے، وہ میرا نہیں۔ (بخاری:۵۰۶۳)

یہ پاکیزہ رشتہ حضرتِ آدم علی نبینا علیہ الصلاة والسلام سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور جنت میں بھی باقی رہے گا، دوسرے کسی رشتہ کو یہ خصوصیت حاصل نہیں (الدرالمختار علی ہامش رد المحتار ۲/۲۸۰) یہ رشتہ جب قائم ہوجاتاہے تو اس میں پائداری اور ہمیشگی مقصود ہوتی ہے؛ تاکہ مرد وعورت باہم وابستہ رہ کر عفت وپاکبازی کے ساتھ مسرت وشادمانی کی زندگی گذارسکیں، جس طرح وہ کسی کی اولاد ہیں، اسی طرح ان سے بھی اولاد کا سلسلہ چلے اور اولاد اُن کے لیے دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور اور آخرت میں حصولِ جنت کا وسیلہ بنیں، گویا نکاح کے مقاصد پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ رشتہ باقی رہے، اسے باقی رکھنے کی ساری اور آخری کوشش کرنا لازم وواجب ہے۔

زوجین کا اختلاف کوئی انہونی بات نہیں:

میاں بیوی میں کبھی کبھار ناراضگی، بحث وتکرار اور جھگڑے ہوجانا یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ تو ہوگا، جب بھی چند لوگ ایک جگہ رہتے ہیں تو اُن کے درمیان اختلاف ہوتا ہی ہے، تو تو، میں میں ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے، جب چند برتنوں کو ایک ساتھ رکھا جاتا ہے تو وہ کھڑکتے ضرور ہیں، ہمیں سوچنا چاہیے اور اپنے آپسی اختلاف پر تعجب نہیں کرنا چاہیے، میاں بیوی کا اختلاف تو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تھا، خود بارہا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا، ”واقعہٴ اِفک اور واقعہٴ مغافیر“ کا تذکرہ تو خود قرآن پاک میں موجود ہے، ان سب کے باوجود ازواج کے درمیان جدائیگی نہیں ہوئی، طلاق وخلع کی نوبت نہیں آئی، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب بھی میاں بیوی کے درمیان تلخی پیدا ہوجائے دونوں مل کر، ناگواریوں کو جھیلیں اور تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں، میاں بیوی کے بہت سے اختلافات ایسے ہوتے ہیں جن کو کسی تیسرے کے سامنے نہ تو ظاہر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے اور نہ کوئی تیسرا اُسے حل کرسکتا ہے؛ اس لیے آپسی اختلاف کو خود حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک بڑے بزرگ نے اس کا ایک طریقہ یہ لکھا ہے کہ: دن بھر اختلاف رہے، رہنے دو؛ لیکن رات کو بستر پر اس اختلاف کو ختم کرلو اور آپس میں یہ طے کرلو کہ ہم لوگ بستر پر کوئی اختلاف باقی نہیں رکھیں گے، پھر جو صبح ہوگی وہ نہایت خوش گوار اور مسرت وشادمانی لیے ہوگی۔

طلاق کی قباحت:

رشتہٴ نکاح کو ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے: ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ الی اللّٰہِ الطَّلَاقُ“ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰة ص:۲۹۳): جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: لاَ خَلَقَ اللّٰہُ شَیْئاً عَلٰی وَجہِ الأرْضِ أبْغَضَ الیہ مِنَ الطَّلاَقِ (دارقطنی بحوالہ مشکوٰة ص:۸۴) کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسندچیز کو پیدا نہیں فرمایا۔ طلاق ایسا غیرمعمولی اقدام ہے کہ جب کوئی آدمی، اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش ہل جاتا ہے۔ (عمدة القاری۳۰/۴۵) ایک روایت میں ہے کہ جو عورت کسی سخت تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوٰة ص:۲۸۳)

کثرتِ طلاق کے نقصانات:

طلاق کوبُرا نہ سمجھنا اور کثرت سے اس کا ارتکاب کرنا بہت سی خرابیوں کو سامنے لاتا ہے، خاندان میں بہت سی مشکلات اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں، چند نقصانات کو ذیل میں لکھا جاتا ہے:

۱- نفس کا بگاڑ: سب سے پہلی خرابی یہ ہے کہ طلاق کی کثرت سے طلاق دینے والوں کا راست نقصان ہوتا ہے، اُن کا نفس بگڑجاتا ہے، آدمی میں انسانیت کے بجائے حیوانیت آجاتی ہے، وہ شرم گاہ کی شہوت کا غلام ہوجاتا ہے، وہ نکاح کے ذریعہ محض لطف اندوز ہونا چاہتا ہے، نکاح سے نظام خانہ داری قائم کرنے کا ارادہ نہیں کرتا، نہ معاشی معاملات میں معاونت کا ارادہ کرتا ہے، اور نہ ہی شرم گاہ کی حفاظت اس کے پیش نظر ہوتی ہے، وہ ہر شب کو شبِ زفاف ہی بنانا چاہتا ہے، اس لیے شہوت رانی کے لیے کثرت سے نکاح کرتا اور طلاق دیتا رہتا ہے، وہ عورتوں کو کمپنی کا مال سمجھتا ہے، اور ان کے ساتھ یوز اینڈ تھرو(Use and Throw) جیسا معاملہ کرتا ہے۔

ایسے آدمی کے نکاح اور زنا میں کوئی فرق نہیں، صرف ظاہری اور قانونی فرق ہے، ایسے آدمی سے اللہ تعالیٰ کو بہت ہی نفرت ہے، حدیث شریف میں ہے: انَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الذَّوَّاقِیْنَ وَالذَّوَّقَاتِ․ (کنزالعُمّال حدیث ۲۷۸۷۳ بحوالہ رحمة اللہ الواسعہ/۱۳۹) کہ اللہ تبارک وتعالیٰ چکھنے والے مرد اور چکھنے والی عورتوں کو پسند نہیں فرماتے ہیں۔

بعض عورتیں بھی اسی مزاج کی ہوتی ہیں، وہ ایک سے زائد شوہروں کا مزہ چاہتی ہیں، اس کے لیے ایک سے نکاح کے بعد مختلف قسم کے اعذار بتاکر، یا شوہر کو مختلف تدبیروں سے ناک میں دم کرکے طلاق لیتی رہتی ہیں، اور پھر دوسرے اور تیسرے سے نکاح کرتی رہتی ہیں، ایک سے طلاق لیتے وقت دوسرے سے بات پکی کیے ہوتی ہیں اور کبھی مُکَرْجانے کی وجہ سے سخت شرمندہ ہوتی ہیں، دارالافتاؤں میں اس قسم کے تجربات بارہا سامنے آتے ہیں، شوہر کو مختلف تدبیروں سے مجبور کرکے طلاق لینے کے بعد رو روکر اپنی غلطی کا اعتراف اور عاشق کے دھوکے کا ذکر کرتی ہیں یہ تو قانون کے دائرے میں رہنے کی بات ہے۔

اس سے آگے بڑھ کر ایک ایسا واقعہ بھی میرے سامنے آیا کہ ایک ہی خاتون نے نام بدل کر بیک وقت دو مردوں سے نکاح کررکھا تھا اور دونوں کے نکاح نامے اس کے پاس موجود تھے، اللہ جانے کیا مقصد تھا؟ لاحول ولا قوة الاّ باللہ، خلاصہ یہ کہ آدمی نفس کے بگاڑ کی وجہ سے کثرت سے نکاح اور طلاق کا ارتکاب کرتا ہے، یا یوں کہیے کہ کثرتِ نکاح وطلاق سے انسان کا نفس مزید بگڑ جاتا ہے، وہ حیوانوں سے بدتر ہونے لگتا ہے۔

۲- معاشرتی بگاڑ: نکاح کا مقصد پاکبازی کے ساتھ خوشیوں کی زندگی بسر کرنا ہے، اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب میاں بیوی دائمی رفاقت ومعاونت پر آمادہ ہوں اور اپنے آپ کو اس کا خوگر بنائیں؛ لیکن جب طلاق کا رواج چل پڑتا ہے تو یہ بات باقی نہیں رہتی، میاں بیوی کے دل میں چند روزہ رفاقت کا تصور رہتا ہے؛ اس لیے معمولی معمولی باتیں رنجش کا سبب بن جاتی ہیں، دونوں ناگواریوں کو جھیلنے اور تعلقات کو خوش گوار بنانے کے بجائے طلاق کی سوچنے لگتے ہیں، زود رنجیوں اور جھٹ خفگیوں کے خوگر ہوجاتے ہیں۔ (رحمة اللہ الواسعہ ۵/۱۳۹ ملخصاً)

۳- اولاد کی پرورش بے لطف: جب زوجین جدائی کا فیصلہ کرلیتے ہیں تو اولاد کی پرورش کے لیے یا تو دونوں میں سے کوئی تیار نہیں ہوتے، یا دونوں کے دونوں اولاد کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، اس کے لیے اگر شرعی حل نکالا جاتا ہے تو بھی اولاد کی تعلیم وتربیت، اس کی صحت وصحبت اور اس کے مستقبل کے لیے لائحہٴ عمل طے کرنے میں مختلف قسم کی دشواریاں پیش آتی ہیں، بسا اوقات ایسی اولاد جرائم کی خوگر ہوجاتی ہیں اور معاشرہ کے لیے ضرر رساں ثابت ہوتی ہیں۔

۴- بے حیائی کا فروغ: کثرتِ طلاق کی وجہ سے برائیوں کا فروغ ہوتا ہے، جن کو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ”رحمة اللہ الواسعہ شرح حجة اللہ البالغہ“ میں ہے:

”اگر عورتیں اس چیز کی عادی بن جائیں کہ وہ ذائقہ چکھ کر چل دیں اور لوگ بُرا نہ سمجھیں اور نہ اس پر افسوس کریں، نہ نکیر؛ تو بے حیائی کو فروغ ملے گا، اور کوئی دوسرے کے گھر کی بربادی کو اپنے گھر کی بربادی نہیں سمجھے گا، اور خیانت کی طرح پڑے گی؛ ہر ایک اس فکر میں رہے گا کہ جدائی ہوئی تو فلاں سے نکاح کروں گا، اور اس میں جو مفاسد ہیں وہ ظاہر ہیں۔“ (۵/۱۳۹)

طلاق کی ضرورت:

اپنی اصل کے اعتبار سے طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے؛ لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ کبھی یہ رشتہ کسی آدمی کے لیے عذاب بن جاتا ہے، اور ایسے حالات میں نکاح کو برقرار رکھنا اور قانونی پابندیوں کے ذریعہ مرد وعورت کو رشتہٴ ازدواج سے جوڑے رکھنا معاشرے کے لیے بڑے فساد کا موجب ہوجاتا ہے، اس لیے شریعت نے طلاق کو ایک ناپسندیدہ عمل ہونے کے باوجود ”مباح“ قرار دیا ہے، اس کی مثال مجبوری کی صورت میں جسم کے سڑے ہوئے کسی عضو کے کاٹنے کی طرح ہے، کہ اس پر آدمی خواہی نہ خواہی راضی ہوہی جاتا ہے۔

اسبابِ طلاق:

۱- میاں بیوی کے مزاج میں ہم آہنگی نہ ہو، دونوں ایک دوسرے نفرت کرتے ہوں، اور اختلاف شدت پکڑلے، حل کی کوئی شکل نہ ہو۔

۲- دونوں معیشت میں تنگی محسوس کرتے ہوں، شوہر کھانا، خرچہ اور مکان نہ دے سکتا ہو۔

۳- شوہر حقوق کی ادائیگی پر قادر نہ ہو مثلاً: اس کا آلہٴ تناسل کٹا ہوا ہو، یا آلہٴ تناسل تو ہو مگر جماع کی طاقت و صلاحیت نہ ہو۔

۴- یا کسی ایک میں حُمق (بے وقوفی) یا کم عقلی ہو، جسے دوسرا برداشت کرنے سے قاصر ہو۔

۵- بیوی کسی وجہ سے قابلِ جماع نہ ہو یا اس سے اولاد کی امید ختم ہوگئی ہو اور وہ سوکن کو برداشت کرنے پر راضی نہ ہو۔

مذکورہ بالا تمام صورتوں میں اگر علاحدگی کی راہ نہ اپنائی جائے تو زندگی اجیرن ہوکر رہ جائے گی اور رشتہٴ ازدواج عذاب اور وبال بن جائے گا۔ ان صورتوں میں شوہر کو خوب سوچ سمجھ کر طلاق کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔

طلاق کا بے جا استعمال:

طلاق کا بے محابا، بے دھڑک اور بے جا استعمال گناہ ہے، اسی طرح جب شوہر کو یقین ہوکہ ازدواجی زندگی خوش گوار نہیں رہے گی، بیوی کو نکاح کے باقی رہنے کی وجہ سے شدید پریشانی کاسامنا ہوگا پھر بھی وہ طلاق نہ دے، تکلیف دینے کے لیے نکاح میں باقی رکھے، یہ جائز نہیں ہے۔ (مستفاد از: مجموعہ قوانینِ اسلامی ص۱۲۵)

یہ فیصلہ کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ خوش گوار زندگی گذارسکتا ہے یا نہیں؟ اور طلاق کی ضرورت ہے یا نہیں؟ شوہر کے احساسات سے متعلق ہے؛ اس لیے اس کا فیصلہ خود شوہر ہی کرسکتا ہے، اگر شوہر کو یقین ہو کہ وہ اچھی طرح بیوی کو نہیں رکھ سکتا، اس کے حقوق ادا نہیں ہوں گے تو اس پر واجب ہے کہ وہ طلاق دے دے۔

بلا سبب محض ایذا رسانی کے لیے طلاق دینا، اسی طرح بیوی اور اس کے اولیاء کی طرف سے شوہر کے ناجائز مطالبات پورے نہیں ہونے کی صورت میں طلاق دینا، ناجائز اور حرام ہے۔ (ایضاً ص۱۲۶)

نکاح ختم کرنے کا اختیار:

نکاح ختم کرنے کا اختیار صرف مرد ہی کو حاصل نہیں ہے؛ بلکہ بعض صورتوں میں عورت بھی حاکمِ وقت اور قاضی شریعت کے ذریعہ رشتہٴ نکاح کو ختم کرسکتی ہے۔ عورت کو اجازت ہے کہ وہ ان اسباب کو بتائے جو رشتہ کے ختم کرنے میں موٴثر ہوں، اسلامی ملک میں قاضی اپنے اختیار سے اور غیراسلامی ممالک میں اگر دارالقضا ہے تو اس کے ذریعہ یا ”شرعی پنچایت“ یا ”علماء کی مجلس“ کے ذریعہ تفریق کراسکتی ہے۔

اسبابِ تفریق:

جن اسباب کی وجہ سے بیوی تفریق کا مطالبہ کرسکتی ہے، وہ درج ذیل ہیں:

۱- شوہر مفقود الخبر ہو، لاپتہ ہو معلوم نہیں، زندہ ہے یا مردہ۔

۲- یہ تو معلوم ہوکہ فلاں جگہ ہے؛ لیکن نہ خود آتا ہو، نہ بیوی کو بلاتا ہو اور نہ ہی خرچہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔

۳- شوہر نفقہ دینے سے عاجز ہو۔

۴- شوہر استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دیتا ہو۔

۵- شوہر حقوقِ زوجیت ادا نہ کرتا ہو۔

۶- شوہر کا آلہٴ تناسل پورا کٹا ہوا ہو یا اس کا بعض حصہ کٹا ہوا ہو۔

۷- شوہر کو آلہٴ تناسل تو ہو، مگر وہ جماع کرنے پر قادر نہ ہو۔

۸- شوہر پاگل ہو۔

۹- شوہر ایسے مرض میں مبتلا ہو کہ بیوی کا ساتھ رہنا ممکن نہ ہو۔

۱۰- شوہر تکلیف دہ حد تک مارتا پیٹتا ہو۔

۱۱- شوہر سے ایسا شدید اختلاف ہوجائے کہ حَکَمْ وغیرہ سے بھی حل نہ ہوسکے۔

(کتاب الفسخ والتفریق ص۶۰، مزید اسباب کے لیے مذکورہ کتاب دیکھیے)

مذکورہ بالا تمام صورتوں میں بیوی شوہر سے علیحدہ ہونے کا دعویٰ دارالقضاء یا شرعی پنچایت میں پیش کرسکتی ہے، پھر علماء کی جماعت اس پر غور و خوض کرکے اگر مناسب سمجھے گی تو تفریق کردے گی اور تفریق ”فسخ“ کہلائے گی۔ فسخ کی صورت میں عددِ طلاق میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے، اگر دوبارہ نکاح ہوجائے تو شوہر تین طلاق کا مالک رہتا ہے۔ (الدرالمختار باب الولی ۲/۴۲)

طلاق، خلع اور فسخ:

اگر جدائی مرد کے اختیار سے ہوتو ”طلاق“ ہے، اور بیوی کے مطالبہ پر باہمی رضامندی سے ہوتو ”خلع“ ہے اور اگر بیوی کے مطالبہ پر ”قاضی“ یا ”شرعی پنچایت“ کے فیصلے سے ہوتو ”فسخ“ ہے۔ (مجموعہ قوانین اسلامی ص۱۲۶)

طلاق دینے کا بہتر طریقہ:

طلاق دینے کا وہ طریقہ جو سب سے بہتر ہے، حدیث شریف سے ثابت ہے، جسے ”طلاقِ سنت“ بھی کہا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ: مدخولہ بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق نہ دی جائے؛ بلکہ ایسے طہر (پاکی) کی حالت میں دی جائے جس میں شوہر نے بیوی سے جماع نہ کیا ہو، اور ایک ہی طلاق رجعی دی جائے؛ تاکہ زمانہٴ عدت (تین حیض آنے تک) رجوع کرلینے کی گنجائش باقی رہے، پھر اگر شوہر رجوع کرنے کا فیصلہ نہ کرسکے تو عدت کی مدت گزرجانے دے، اس سے رجعت کی گنجائش تو نہیں رہے گی؛ البتہ دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کا رشتہ قائم ہوسکے گا۔ اس کو ”طلاقِ احسن“ بھی کہا جاتا ہے۔

طلاق کا دوسرا صحیح طریقہ:

ایک طریقہ یہ ہے کہ: آدمی اپنی مدخولہ بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق نہ دے؛ بلکہ ایسے طہر کی حالت میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو، پھر دوبارہ حیض کے بعد طہر کی حالت آئے اس میں دوسری طلاق دے، پھر حیض کے بعد تیسرے طہر میں، تیسری طلاق دے۔ یہ طریقہ بھی ٹھیک ہے، اسے ”طلاقِ حسن“ کہا جاتا ہے اور ”طلاقِ سنت“ بھی۔

اور بیوی سے ملاقات اور خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی ہے تو حالتِ حیض میں بھی ایک طلاق دینا ٹھیک ہے، اسے بھی طلاقِ حسن کہا جاتا ہے۔

اور بیوی اگر چھوٹی نابالغہ ہو یا کافی عمر ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو تو اس کو مہینہ کے لحاظ سے ہر ماہ ایک طلاق دینا بھی ”طلاقِ حسن“ کہلاتاہے۔

طلاق دینے کے ممنوع طریقے:

مذکورہ بالا طریقوں کے علاوہ طلاق کے دوسرے طریقے بدعت اور ممنوع ہیں؛ لیکن اُن صورتوں میں بھی طلاق ہوجاتی ہے۔

مثال کے طور پر:

۱- مدخولہ بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دینا، حیض کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛ لیکن ایسی حالت میں اگر ایک یا دو طلاقِ رجعی دی ہے تو رجوع کرلینا مستحب ہے۔ (ہدایہ ۲/۳۵۷)

۲- ایسے طہر میں طلاق دینا جس میں صحبت کرچکا ہو، یہ طریقہ بھی بہتر نہیں ہے؛ لیکن اس میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

۳- طلاقِ بائن دینا۔

۴- ایک ہی طہر میں ایک سے زائد بار (دو یا تین) طلاق دینا، یا ایک جملہ میں تینوں طلاق دینا۔ ان میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ (ہدایہ ۲/۳۳۴)

۵- نابالغہ بیوی کو یا بڑی عمر والی بیوی کو جس کو حیض نہ آتا ہو ایک مہینہ میں ایک سے زائد طلاق دینا، یہ سب طریقے ”طلاقِ بدعت“ کے ہیں، جو ممنوع ہیں۔ (الدرالمختار ۲/۵۷۴تا۵۷۸)

خلاصہ یہ کہ طلاق دینے کے مذکورہ بالا سارے طریقے بدعت اور ممنوع ہیں، اگر کسی نے ایسی طلاق دے دی تو طلاق دینے والا سخت گنہگار ہوگا؛ لیکن طلاق واقع ہوجائے گی۔

صریح اور رجعی طلاق:

اگر آدمی لفظِ ”طلاق“ بول کر طلاق دے تو لفظ کے صریح اور واضح ہونے کی وجہ سے طلاق رجعی واقع ہوگی؛ لیکن شرط یہ ہے کہ ایک یا دو طلاق ہو؛ اس لیے کہ تین طلاق کے استعمال کرنے کی وجہ سے رجوع کی کوئی شکل نہیں رہ جاتی اور طلاق مُغَلَّظْ ہوجاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَامْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِاحْسَان (بقرہ:۲۲۹) یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع ہوسکتا ہے، دو ہی بار ہے، اب چاہے تو معروف طریقے سے رکھے یا خوبی کے ساتھ رخصت کردے۔

طلاقِ رجعی میں عدت کے اندر شوہر رجوع کرسکتا ہے، اس میں بیوی کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے؛ لیکن اگر عدت ختم ہوجائے یعنی اگر حیض والی عورت ہوتو تین حیض اور حیض والی نہ ہو تو تین مہینے گذرجائیں تو عورت ”بائنہ“ ہوجائے گی، یعنی طلاق رجعی، طلاقِ بائن میں تبدیل ہوجائے گی، اب دوبارہ نکاح میں لوٹنے اور ایک ساتھ رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح ضروری ہوگا، باہمی رضامندی کے ساتھ نکاح کے بغیر حلال نہیں ہوگی۔ (ہدایہ ۲/۳۷۴، ۳۷۹)

رجعت کا طریقہ:

رَجْعت قول اور عمل دونوں سے ہوتی ہے، ”قولی رجعت“ کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ: شوہر دومرد یا ایک مرد اور دو عورت گواہ کے سامنے کہے کہ: میں نے اپنی بیو کو لوٹالیا، پھر اس کی اطلاع بیوی کو کردے۔

اگر گواہ نہ بھی بنائے، ویسے ہی بیوی کو کہہ دے کہ: میں نے تم کو نکاح میں لوٹالیا تو رجعت صحیح اور درست ہوجائے گی؛ البتہ گواہ کا ہونا بہتر ہے۔ (ہدایہ۲/۳۹۵) اور رجعت کا ”فعلی طریقہ“ یہ ہے کہ: شوہر بلا کچھ بولے بیوی سے وطی کرلے یا بوس وکنار کرلے، بس رجوع ہوجائے گا؛ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رجوع کرنے سے بیوی تو نکاح میں لوٹ آتی ہے؛ مگر دی ہوئی طلاق واپس نہیں ہوتی؛ اس لیے اگر ایک طلاق دے کر رجوع کیا تو اب دو طلاق کا مالک ہے اور اگر دو طلاق کے بعد رجوع کیا تو بس ایک ہی طلاق کا مالک ہے، تیسری کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہوجاتا ہے۔

کنائی الفاظ سے بائن طلاق:

اگر آدمی ایسے الفاظ سے طلاق دے جو طلاق اور غیرطلاق دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہوں تو وہ الفاظ کنائی کہلاتے ہیں مثلاً: طلاق کی نیت سے کہے کہ: ”تم مجھ سے جدا ہو“ تو ”طلاقِ بائن“ واقع ہوجائے گی، طلاقِ باطن میں بلانکاح رجوع کرنا جائز نہیں ہے، نکاح کے بعد ہی رجوع ممکن ہے خواہ عدت کے اندر ہو یا عدت گذر جانے کے بعد۔

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں