ایک کم یاب اور نادر تحریر !

Oct
24

شیخ الہند، حضرت مولانا محمود حسنکے مختصر اور نادر حالات
شیخ الاسلام، حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی کے قلم سے

فطرت انسانی نے جو جو عجائب وغرائب اس عالم شہادت میں ظاہر کئے ہیں ان میں سے یہ امر بھی ہے کہ انسان کو اپنے محبوب کے بڑے سے بڑے عیوب بھی نظر نہیں آتے، آنکھیں فقط اس کے محاسن اور کمالات کو دیکھتی ہیں اور نہ صرف معمولی نظر سے یکھتی ہیں،بلکہ غیر معمولی طریقہ پر چھوٹی سی چھوٹی فضیلت محب اور دلدادہ کی نظر میں پہاڑ کی طرح دکھائی دیتی ہے، اس کے لئے مدائح اور محامد کے طور پر اور مبالغہ سے بھرے ہوئے قصائد وخطب بھی بہت کم معلوم ہوتے ہیں، دُھواں دھار تقاریربھی اس میدان میں رائی کے دانہ سے چھوٹی دکھائی دیتی ہیں۔برعکس اس کے دشمن اور مبغوض کے جملہ کمالات خواہ وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، آنکھوں کے سامنے بھی نہیں پڑتے، اس کے فقط عیوب دکھائی دیتے ہیں، اور یہ بھی نہیں کہ فقط واقعی عیوب دکھائی دیں، بلکہ جس طرح سبز عینک سے تمام اشیا سبز ہی سبز نظر آتی ہیں، اسی طرح بغض وعداوت کی آنکھ حقیقی کمالات اور واقعی فضائل کو بھی معائب ہی کے رنگ میں دیکھتی ہے، کسی واضح سے واضح کمال کا اقرار کرنا عدو اور حاسد کو پہاڑ اٹھالینے سے زیادہ ترگراں معلوم ہوتا ہے، اس کے محامد اور مدائح کے سننے اور دیکھنے سے نہایت ہی زیادہ کلفت اور دل تنگی پیش آتی ہے۔ ولنعم ما مثل:

عین الرضا عن کل عیب کلیلة
ولکن عین السخط تبدی المساویا

اگرچہ مذکورہ بالا قاعدہ فطری قانون شمار کیا جاتاہے، مگر حقیقت میں (ایسے) اشخاص بھی ہر زمانہ میں ضرور پائے جاتے ہیں، جوکہ افراط وتفریط کی ناگوار موجوں سے محفوظ رہ کر حقائق کو دریافت اور ظاہر کرتے رہتے ہیں، محبت مفرطہ کے سوا حل سے تحقیق وصداقت نے ان کو دور کرکے وسط بحار میں پہنچا کر واقعی دُرر اور اصلی چمکدار لآلی کے معدن تک پہنچا دیا ہے۔

معذرت اور اظہار واقعہ

وسیلتی فی الدارین حضرت شیخ الہند قدس اللہ سرہ کے ترجمہ کے متعلق میرا کچھ لکھنا خواہ وہ کتنی ہی صداقت پر مبنی کیوں نہ ہو مجھ کو زیادہ تر اندیشہ میں ڈالتا ہے کہ بہت سے اشخاص افراط محب پر محمول فرماتے ہوئے غیر واقعی خیال کریں گے۔میں جہاں تک غور کرتا ہوں ایسا گمان کرنے والے حضرات ایک بڑے درجہ تک معذور ہیں، ایک نالائق خادم اپنے ولی نعمت اور روحانی وجسمانی آقا، دنیا اور آخرت کے وسیلہ کے متعلق جو کچھ بھی کہے یا لکھے افراطِ محب سے حسب قاعدہ مذکورة الصدر محفوظ نہیں رہ سکتا، اس لئے میں اس مقام میں کچھ بھی خامہ فرسائی کرنا مناسب نہیں دیکھتا تھا، مگر مولانا مجید حسین صاحب (۱) کے اصرار اور اظہار واقعیت کے خیال نے مجبور کرکے چند سچے کلمات لکھوائے ہیں، جن سے ان حضرات کے دماغ پر بھی قدرے روشنی پڑنے کا خیال ہے جو کہ حسب قاعدہ مشہور ”انظر الی من قال ولاتنظر الی ما قال،، (۲) فقط اسی طرف اپنی عنان توجہ منعطف کرتے ہیں، کہ قائل میں کن اوصاف کا اجتماع ہے، وہ کیسا شخص ہے ،اس کے ظاہری تزکیہ کی کیا حالت ہے، کلام کی تہہ تک پہنچنا اور حقیقت کے بہا موتیوں کا تلاش کرنا ان کو نہیں آتا ہے۔

شیخ الہند میں جامعیت کمال کے قدرتی سامان

میں جو کچھ اس مقام میں عرض کررہا ہوں بلاکم وکاست ان واقعی اور صحیح معلومات کے بحار سے چند قطرے ہیں، جن کا علم مجھ کو حضرت رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں مدتوں رہ کر حاصل ہوا ہے، میں اس میں ذرا بھی مبالغہ اور افراط محب کو دخل نہ دوں گا، اس سے مقصد اس ترجمہ کی واقعی شان کو ناظرین پر حسب استطاعت ووقت ظاہر کرنا ہے اور بس۔
قدرت نے جس طرح حضرت مولانا رحمة اللہ علیہ میں ان ذاتی کمالات کا گلدستہ رکھ دیا تھا، جن کا تحقق کتاب اللہ کے صحیح ترجمہ کرنے کے لئے ضروری ہے، اسی طرح اس نے بہت سے ایسے خارجی اسباب بھی مہیا کردئے تھے ،جن کا وجود ہرزمانہ میں بہت کم افراد کو میسر آتا ہے۔

استاد اور رہنمائے طریقت

فطرتاً آپ کو نہایت ذکی، ذہین، نہایت وقار طبیعت، نہایت قوی حافظہ، نہایت صحیح دماغ، نہایت قوی اور وسیع دل عطا کیا گیا تھا۔ اخلاق فاضلہ اور تقویٰ واخلاص وللہیت وپرہیزگاری وغیرہ آپ میں گویا کوٹ کوٹ کر بھر دئے گئے تھے۔ پھر اس پر طرہ یہ ہوا کہ حضرت شمس الاسلام،وارث حقیقی حضرت خیر الانام علیہ الصلاة والسلام حکیم الامت، امام الائمة حضرت قطب الوقت، العارف باللہ، مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی(۳) اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی (۴) قدس اللہ تعالیٰ اسرارہما کی صحبت اور مدت دراز تک فیض خدمت اور ان دونوں حضرات کی خاص توجہ وتربیت نصیب ہوئی، علم ظاہر اور باطن ہی میں ان دونوں بزرگوں سے مولانا رحمة اللہ علیہ فیضاب (ہی) نہیں ہوئے، بلکہ اکتساب اخلاق فاضلہ وملکات کاملہ بھی نہایت اعلیٰ پیمانہ پر حاصل ہوا۔ صحبت جو اعلیٰ ترین شرط وکمالات باطنیہ میں سے ہے، حضرت مولانا رحمة اللہ علیہ کو علی اتم وجہہ واکملہ نصیب ہوئی، مرشد عالم قطب الاقطاب حضرت حاجی امداد اللہ صاحب (۵) قدس سرہ کی ارادت اور خلافت طریقت سے حظ وافر ملا۔
خوش قسمتی سے والد ماجد مرحوم ومغفور ایسے ملے جوکہ علم وادب، عربی وفارسی، اردو کے نہ صرف اساتذہ میں سے تھے، بلکہ ان تینوں زبانوں کے امام تھے (۶) طبیعت ،علوم ادبیہ اور بلاغت وبیان وبدیع وغیرہ میں نہایت رساتھی۔ ان کی تصانیف: شروح حماسہ، ومتنبی، سبعہ معلقہ، بانت سعاد، تذکرة البلاغة وقصائد عربیہ وغیرہ ان کے علوشان کے شاہد ہیں۔ علاوہ اساتذہ مذکورین کے مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی (۷)اور ملاّ محمود صاحب(۸) مولانا مہتاب علی صاحب(۹) وغیرہ قدس اللہ اسرارہم، ایسے ایسے اساتذہ ملے جوکہ اپنے زمانہ میں بے نظیر شمار کئے جاتے تھے۔

ساتھی بھی اعلیٰ درجہ کے فاضل ملے

ہم سبق ایسے ایسے چیدہ اشخاص قدرت نے بہم پہنچائے جوکہ نہایت ذکی اور سلیم الطبع، قوی الحافظہ ،جامع الکمالات تھے، مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہی (۱۰) مولانا احمد حسن صاحب امروہی (۱۱) حافظ عبد العدل صاحب پھلتی (۱۲) مولانا عبد الحق صاحب پوری (۱۳) وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ ،مولانا مرحوم کے شرکائے درس اور جلساء تھے۔

دیوبند میں خدمت تدریس اور اس میں مہارت وکمال

پھر اس کے بعد مدرسہ دیوبند میں کتابوں سے فارغ ہونے کے بعد ہی ملازم ہوئے، اساتذہ کی موجودگی ہی میں تمام کتب درسیہ ابتدائیہ وانتہائیہ متعدد مرتبہ پڑھا ڈالیں۔ مدرسہ دیوبند ہمیشہ سے ہرقسم اور ہرطرف کے طلبہ کا مرکز رہا ہے، اس وجہ سے مستفیدین کا ہرزمانہ میں ہجوم رہا ، ایام شباب اور زمانہ قوت میں اس قدر مشغولی ہوئی کہ دن رات میں کوئی وقت درس وتدریس سے جب فارغ نہ رہا، تو تہجد کے وقت کو بھی سالہا سال تدریس علوم میں مشغول کیا، ادھر مدرسہ میں کتب خانہ اس قدر وسیع پیمانہ پر موجود تھا کہ کبھی کسی شرح یا حاشیہ یا کتاب کے دیکھنے اور استفادہ کرنے میں کوئی دقت نہیں پڑی، ہرفن اور ہرعلم کی کتابیں اس قدر پڑھائیں کہ سب کی مع ابحاث شروح وحواشی تقریباً محفوظ ہوگئیں۔ اسی وجہ سے تھوڑے ہی عرصہ میں مولانا رحمة اللہ علیہ کو کسی کتاب یا حاشیہ وشرح کے دیکھنے کی اصلاحات باقی نہ رہی تھی، بلاتکلف بغیر مطالعہ کئے ہوئے تمام معقولات ومنقولات اصول وفروع وغیرہ کو پڑھاتے تھے اور نئی نئی تحقیقات خصوصاً علم حدیث وتفسیر آیات میں ظاہر فرمایا کرتے تھے، جن کو سن کر حاضرین مجلس اور اساتذہ فن دنگ ہوجاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہرطرف سے علماء اور طلباء ٹوٹ پڑے تھے، تقریباً دو ہزار سے زیادہ علماء اطراف عالم میں آپ سے بلاواسطہ مستفید ہوکر عالم اسلام کی خدمت کررہے ہیں اور لوگوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

حاشیہ مختصر معانی کا ذکر

دوران تدریس مولانا کو مختصر معانی کے تحشیہ کی بھی نوبت آئی، جس کی وجہ سے حواشی دسوقی اور بنانی، مطول (۱۴) وغیرہ کی ابحاث پر تفصیلاً نظر کرنی پڑی (۱۵) یوں تو مطول،مسلم الثبوت، تو ضیح وتلویح، بیضاوی وغیرہ مولانا کے زیر تدریس اکثر رہا کرتی تھیں۔ جن کی وجہ سے علوم عربیہ اور فنون تفسیر وبلاغت پر خاص طور سے توجہ کی نوبت آتی رہتی تھی، مگرتحشیہ کی وجہ سے اور بھی قوت دوبالا ہوگئی۔

ذوق شعر وادب

مولانا رحمة اللہ علیہ کو عنفوان شاب میں اردو اور فارسی شعر وشاعری کا اچھا خاصا چسکا پڑگیا تھا، چونکہ طبیعت موزوں تھی، اس لئے بہت جلد اس میں غیر معمولی ترقی کر گئے تھے۔ شعر وشاعری میں میر اور غالب سے بہت زیادہ مناسبت تھی، اساتذہ اردو کے اس قدر اشعار اس بڑھاپے اور کمزوری کے زمانہ میں بھی یاد تھے، اگر وہ سب لکھے جاتے تو بہت بڑا دیوان تیار ہوجاتا ۔ (۱۶)
علی ہذا القیاس فارسی اور عربی شعراء کے قصائد اور ان کے دواوین کے اوراق کے اوراق محفوظ تھے، باربار جب اشعار مولانا رحمة اللہ علیہ نے سنانے شروع کئے تو حاضرین کو کثرت محفوظات سے تعجب شدید ہوا، متعدد (بار)فرمایاکہ: اب حافظہ کمزور ہوگیا ،پہلے کے سب محفوظات باقی نہیں رہے۔

مرزا غالب کے شاگرد، ہرپال تفتہ کے ساتھ ایک ادبی نشست اور تفتہ کا شیخ الہند کے شعری ادبی ذوق اور ان موضوعات پر وسعت نظر کا اعتراف

عنفوان شباب میں مرزا غالب کے سکندر آبادی مشہور (۱۷) ہندو شاگرد کسی تقریب میں دیوبند آئے تھے، کہ مولانا رحمة اللہ علیہ ان کو سن کر مع چند ہمراہیوں کے ان کے پاس پہنچے، دن بھر شعر وشاعری کا چرچا رہا، (تفتہ) مولانا رحمة اللہ علیہ کی محفوظات اور شاعرانہ مناسبت کو دیکھ کر دنگ ہوگئے، اور کہنے لگے کہ میں نے اپنی تمام عمر میں اساتذہ کے کلام کا اس قدر جمع کرنے والا حافظ نہیں دیکھا، اردو محاورات پر بسا اوقات جب مولانا سے اثناء ترجمہ میں کوئی تذکرہ آیا، فوراً میر یا مومن خاں، ذوق، غالب وغیرہ کے اشعار کے اشعار سنا دیتے تھے، یہ واقعات بہت سی دفعہ پیش آئے۔

حافظہ نہ ہونے کے باوجود آیات شریفہ کا غیر معمولی استحضار

مولانا رحمة اللہ علیہ کو قرآن شریف سے خاص شغف تھا، باوجود حافظ نہ ہونے کے اس قدر آیتیں یاد تھیں کہ گویا حافظ ہوگئے تھے۔ بخاری شریف میں ادنیٰ ادنیٰ مناسبت سے لغات کو لاکر بخاری تفسیر کیا کرتا ہے، اچھے سے اچھے حافظ وہاں چکرا جاتے ہیں اور نہیں بتا سکتے کہ یہ الفاظ کن کن آیتوں میں وارد ہیں، ماسبق اور مابعد کو پڑھ دینا نہایت مشکل ہوتا ہے ،مگر مولانا رحمة اللہ علیہ بلاتامل بخاری شریف پڑھاتے ہوئے اور خصوصاً کتاب التفسیر کے وقت آیات کو اول سے پڑھ دیتے تھے اور تفسیر بیان فرماتے تھے (۱۸) یہی مشغلہ سالہا سال رہا ہے۔

قرآن شریف کی تلاوت اور خدمت حدیث کا ذوق

رمضان شریف میں علاوہ دن کو بڑی مقدار تلاوت کرنے کے تراویح اور نوافل میں ہمیشہ دس دس بارہ بارہ پارے یا کم وبیش سنا کرتے تھے، حفاظ سنانے والے تھک جاتے تھے مگر خود اخیر وقت تک نہ تھکتے تھے، کبھی کوئی کمزوری ظاہر ہوتی تھی، نہ معلوم کون سی روحانی قوت اور باطنی مناسبت قرآن شریف سے تھی جوکہ اس طرح ان کو محو کردیتی تھی کہ ذرا بھی تکان محسوس نہ ہوتا تھا۔
مالٹا کی اسارات کے زمانے میں غالباً روزانہ ایک قرآن ناظرہ ختم کرتے، یا قریب باختم تو ضرور پہنچا دیتے تھے۔ حدیث شریف جوکہ حقیقتاََ قرآن شریف کی تفسیر ہے، آخری وقت تک مولانا کا مشغلہ رہا ہے، اسی طرح تدریسی علوم میں تقریباً چالیس برس سے زیادہ مدت مولانا رحمہ اللہ کی گذری ہے۔

باطنی اشغال پراستقامت، سیر سلوک اور حضرت گنگوہی سے اجازت

باطنی اشغال جب سے کہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب قدس اللہ سرہ سے ۱۲۹۵ھ میں بیعت ہوئے، آخری وقت تک ترک نہ فرمائے، بلکہ اس میں روز افزوں ترقی کرتے رہے اور بہت جلد سلوک کی منزلیں زیر تربیت مولانا گنگوہی رحمة اللہ علیہ تمام کرکے خلافت حاصل کی، (۱۹) مولانا گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے تفصیلی کیفیت حضرت حاجی صاحب قدس سرہ العزیز کے پاس مولانا کے سلوک اور ترقی کے مقامات کی لکھی، جس پر حضرت حاجی صاحب مرحوم نے مکہ معظمہ سے خلافت نامہ تحریر فرمایا۔ یہ روحانی تربیت اور باطنی کمال وہ چیز ہے جس سے حقیقی تفسیر کے لئے ہرقسم کی آسانی میسر ہوسکتی ہے۔

حواشی حوالہ جات:

۱- مولانا مجید حسن ، بجنور کے رہنے والے تھے، ابتدائی حالات معلوم نہیں۔ ہفت روزہ الخلیل بجنور میں کتابت سے عملی زندگی شروع کی۔ ۱۹۱۲ء میں مدینہ اخبار جاری کیا، مدینہ جو ہفت روزہ تھا بعد میں سہ روزہ ہوگیا تھا، ہندوستان کا بہت مقبول طاقت ور، مؤثر اخبار تھا جو جمعیة علماء اور کانگریس کے نظریات کا ترجمان تھا، اس کے اداریئے اہمیت اور توجہ کے ساتھ پڑھے جاتے تھے، مولو ی مجید حسن نے مدینہ اخبار اور اپنے طباعتی سلسلہ کو ترقی دینے کے لئے ایک پریس مدینہ پریس کے نام سے قائم کیا جو حسن طباعت میں بہت ممتاز اور مشہور ہوا۔مولوی محید حسن معقول آمدنی اور پیسے کی فراوانی کے باوجود بہت سادہ زندگی گزارتے تھے، مولانا مجید حسن کی تقریباً اسی سال کی عمر میں ۲۷/رجب ۱۳۸۲ھ/ ۱۱/نومبر ۱۹۶۶ ء کو بجنور میں وفات ہوئی۔ (معلومات جناب منیر اختر صاحب)
۲- ”یہ دیکھو کہ کس نے کہا ہے کہ یہ مت دیکھو کیا کہا ہے،، مگر معروف مقولہ جو حضرت علی کرم اللہ وجہ سے منسوب ہے، یہ ہے: انظر الی ما قال ولاتنظر الی من قال (یہ دیکھو کیا کہا گیا ہے، یہ مت دیکھو کس نے کہا ہے)
۳- حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ولادت: شوال ۱۲۴۸ھ (مارچ ۱۸۳۳ء) وفات:۴/جمادی الاولیٰ ۱۲۹۷ھ (۱۵/اپریل ۱۸۸۰ء)
۴- حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ولادت:۶/ذی قعدہ ۱۲۴۴ھ/۱۱/مئی ۱۸۲۹ء وفات: جمادی الثانیہ ۱۳۲۳ھ (۱۱/اگست ۱۹۰۵ء)۔برصغیر ہند میں ائمہ سلف، اکابر امت، حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ کی روایات علوم اور خدمت دین، تعلیم وتلقین سنت وشریعت کے وارث، لاکھوں علماء اور کروڑوں افراد کے مقتدا، میرکارواں اور قافلہ سالار تھے، ان کے دم سے دین کی خوشبو مہک رہی ہے ،رحمہم اللہ تعالیٰ۔
۵- حضرت حاجی امداد اللہ تھانوی مہاجر مکی ولادت: صفر ۱۲۳۳ھ (جنوری ۱۸۱۸ء) وفات: جمادی الاخریٰ ۱۴۱۷ھ، اکتوبر ۱۸۹۹ء دس بارہ عارفانہ کتابوں کے مصنف، بے شمار علماء کے مرجع ومقتدا اور سلوک ومعرفت میں اس عہد کے امام اور سرگروہ مشائخ کاملین تھے۔ حضرت موصوف کے احوال وکمالات وکرامات پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔رحمہ اللہ تعالیٰ
۶- شیخ الہند (مولانا محمود حسن)کے والد ماجد،مولانا ذوالفقار علی خلف شیخ فتح علی دیوبندی، تقریباً ۱۲۳۷ھ میں ولادت ہوئی۔ مولانا مملوک العلی اور دوسرے علماء سے تعلیم حاصل کی، بریلی کالج میں عربی کے استاد مقرر ہوئے، بعد میں سلسلہ تدریس سے تعلیم کے انتظامی شعبہ میں منتقل ہوکر انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔آخر میں ضلع سہارنپور کے مدارس کے انسپکٹر تھے۔ دیوبند میں قیام رہا، تمام عمر وہیں گذاری۔ مدرسہ (دار العلوم دیوبند) کا جن بزرگوں نے منصوبہ بنایا اور اس کو اخلاص وللہیت سے پروان چڑھایا،ان میں ایک ممتاز نام مولانا ذوالفقار علی صاحب کا بھی ہے، مولانا تمام زندگی مدرسہ کے اہم رکن، سرگرم معاون اور اس کی مجلس منتظمہ کے بنیادی ممبر رہے۔
مولانا کا برصغیر کے عربی کے ممتاز فاضلوں میں شمار ہے۔ مولانا نے عربی ادب کی ممتاز ترین درسیات اور معروف قصائد کی شروحات لکھیں، بعض کو قبول عام حاصل ہوا۔ مولانا کی اہم تالیفات میں تسبیل البیان فی شرح الدیوان، تسہیل الدراسہ شرح حماسہ، التعلیقات علی السبع المعلقات، عطر الوردہ شرح قصیدہ بردہ، الارشادالی بانت سعاد سرفہرست ہیں۔ تذکرہ البلاغت اور تسہیل الحساب بھی مولانا کی تصانیف میں مشہور ہیں۔ تقریباً پچاسی (۸۵) سال کی عمر میں ۱۳۲۲ھ/ ۱۹۰۴ء میں دیوبند میں وفات ہوئی۔(حیات شیخ الہند از مولانا سید اصغر حسین دیوبندی ص:۱۳-۱۵ (لاہور:۱۹۷۷ء) تذکرہ محمد احسن نانوتوی، محمد ایوب قادری ص:۴۵ (حاشیہ) کراچی:۱۹۶۱ء۔
۷- حضرت مولانا محمد یعقوب خلف مولانا مملوک العلی نانوتوی (ولادت ۱۳/صفر ۱۲۴۹ھ/جولائی ۱۸۳۳ء) والد ماجد سے تعلیم حاصل کی، تمام علوم میں کامل ہوئے، شاہ عبد الغنی اور مولانا احمد علی محدث سے حدیث پڑھی۔ تعلیم کے بعد اجمیر کے سرکاری مدرسہ میں مدرس ہوئے ،۱۸۵۷ء تک تمام وقت تعلیمی خدمت میں گزرا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد دارالعلوم دیوبند کو ترقی دینے آگے بڑھانے میں اپنے معاصرین اور رفقاء کے ہم قدم رہے، مولانا مدرسہ عربیہ اسلامیہ (دارالعلوم) دیوبند کے پہلے صدر مدرس اور علوم میں فخر اماثل تھے۔ سلوک ومعرفت میں حضرت حاجی امداد اللہ سے مجاز تھے، تالیفات، تراجم، مکتوبات، (بیاض یعقوبی کے مندرجات ومکتوبات کے علاوہ) اور مختلف موضوعات پر مضامین علمی یادگار ہیں۔ سینکڑوں طلباء نے مولانا سے استفادہ کیا، جس میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کا نام بہت ممتاز ہے۔ رحمہم اللہ یکم ربیع الاول ۱۳۰۳ھ (۲۰ دسمبر ۱۸۸۴ء) کو طاعون میں مبتلا ہوکر وفات ہوئی ،نانوتہ میں دفن کئے گئے۔(بیاض یعقوبی، مرتبہ امیر احمد عشرتی نانوتوی ص:۵ نیز ص:۱۵۳۔طبع اول:تھانہ بھون ۱۹۲۹ء)
۸- مولانا ملا محمود، مولانا ممتاز علی دیوبندی کے فرزند اور دیوبند کے خاندان سادات کے فرد ہیں، مولانا محمد قاسم سے تعلیم حاصل کی، مولانا شاہ عبد الغنی مجددی سے حدیث پڑھی، مؤخر الذکر کے خاص تربیت یافتہ اور انجاح الحاجہ کی تصنیف میں استاذ جلیل (شاہ عبد الغنی مجددی) کے معاون وشریک تھے۔اس کے علاوہ بھی متعدد کتابوں کے حاشیہ نگار تھے۔ مدرسہ اسلامیہ عربیہ (دارالعلوم) دیوبند میں سب سے پہلے مدرس مقرر کئے گئے، بعد میں مدرس سوم ہوگئے تھے۔ یہ معلومات مختلف ذرائع سے اخذ کی گئی ہیں اور اس میں کئی پہلی بار شائع ہورہی ہیں۔
۹- مولانا مہتاب علی خلف شیخ فتح علی دیوبندی (مولانا ذوالفقار علی کے بڑے بھائی) ممتاز عالم اور دیوبند میں سرکاری مدرس تھے، مدرسہ اسلامیہ عربیہ دیوبند کے قیام کے فیصلہ کے بعد اس کے مقصد کے لئے سب سے پہلا کام اہل قصبہ کا تعاون اور نظم کی فراہمی تھی۔۱۵/محرم الحرام ۱۲۸۳ھ (۳۰/مئی ۱۸۶۶ء) کو حضرت حاجی عابد حسین نے سب سے پہلا چندہ کیا، حاجی صاحب کے بعد چندہ کی سب سے پہلی رقم مولانا مہتاب علی کی تھی، مدرسہ کے افتتاح کے بعد ۱۹/محرم ۱۲۸۳ھ کو مدرسہ کے تعاون کے لئے جو سب سے پہلی اپیل اور اشتہار چھپا، اس میں حضرت عابد حسین اور حضرت مولانا محمد قاسم کے بعد تیسرا نام مولانا مہتاب علی کا ہے، جس سے معلوم ہورہا ہے کہ مولانا مدرسہ کے سب سے پہلے محرکین اور سرگرم معاونین میں سرفہرست تھے۔ اس وقت سے وفات تک مدرسہ کے معاون اور رفیق رہے، مولانا قاری محمد طیب صاحب نے لکھا ہے کہ مولانا مہتاب علی ۱۳۰۴ھ ۱۸۸۷ء تک مجلس منتظمہ (شوریٰ) کے رکن تھے (ص:۱۰۲ دارالعلوم کی صد سالہ زندگی ۔ دیوبند (۱۳۸۵) لیکن سید محبوب رضوی کی اطلاع یہ ہے کہ مولانا مہتاب علی کی ۱۲۹۳ھ میں وفات ہوئی؟ (تاریخ دیوبند، حاشیہ، ص:۳۳۱-دیوبند:۱۹۷۲ء)
۱۰- مولانا فخر الحسن خلف شاہ عبد الرحمن گنگوہ میں مقیم ممتاز انصاری خاندان (اولاد سیدنا ابوایوب انصاری ) کے فرد ہیں، جس سے حضرت مولانا گنگوہی وغیرہ کو بھی نسبت ہے۔ قیاساً ۱۸۴۶ء (۱۲۶۲ھ) میں ولادت ہوئی ہوگی
(ص:۱۷۶۔فخر العلماء) ابتدائی اور متوسط درسی کتابیں حضرت مولانا گنگوہی سے پڑھیں (ص:۱۶۸) بعد میں دیوبند سے درسیات مکمل کیں، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی سے خاص استفادہ کیا اور حضرت مولانا کے اہم شاگردوں میں ہیں۔ مولانا محمد یعقوب نانوتوی نے تین اہم ترین شاگردوں کا ذکر کیا ہے، جس میں پہلا نام شیخ الہند مولانا محمود حسن کا، دوسرا مولانا فخر الحسن کا ہے۔ وارستگی مزاج میں مولانا کے قدم بہ قدم بلکہ کچھ بڑھ کر ہیں، عمدہ استعداد ہے۔ انہوں نے بھی دیوبند میں تحصیل کی ہے اور اول جناب مولوی رشید احمد صاحب سے تحصیل کی تھی۔ حالات طیب مولانا محمد قاسم ص:۳۳-۳۲۔مولانا فخر الحسن کو جو سند دی گئی تھی اس کی نقل ۱۲۹۰ء کی روداد میں درج ہے (ص:۲۸) مدرسہ اسلامیہ نگینہ سے تدریس کی ابتداء ہوئی، اس کے مختلف مقامات پر قیام رہا۔ حضرت نانوتوی کے اہم ترین سفروں اور مناظروں میں رفیق اور خادم رہے، حضرت کے ملفوظات وسوانح مرتب کئے اور حضرت کی کئی کتابیں ،تقریریں اور افادات خاص اہتمام سے چھپوائے، ان خدمات کی وجہ سے مولانا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مولانا کی اہم ترین دینی خدمت علمی یادگار اور صدقہ جاریہ سنن ابوداؤد اور سنن ابن ماجہ کا حاشیہ ہے، جو بارہا چھپاہے اور چھپتا رہتا ہے، خصوصاً ابوداؤد کا حاشیہ بہت ممتاز اور متداول ہے۔ محقق جلیل مولانا عبد الرشید نعمانی نے ان دونوں کا تعارف کرانے کے بعد لکھا ہے:

”والتعلیقات کلاہما یدلان علی مشارکة الجیدة فی علم الحدیث وفنونہ،،

یہ دونوں حاشیے علم حدیث اور اس کے مباحث میں (مولانا فخر الحسن کی) مہارت اور اعلیٰ نظر کاثبوت ہیں۔ ”ما تمس الیہالحاجة لمن یطالع سنن ابن ماجہ ص:۲۱۴ (قطر ۱۴۰۴ھ)
مولانا کی ان کے علاوہ بھی تصانیف تھیں مگر ان کا مفصل احوال دستیاب نہیں، کیونکہ کانپور کے فسادات میں مولانا کا کتب خانہ جلاکر خاکستر کردیا گیا تھا، اس لئے مولانا کی متعدد کتابیں بے نام ونشان ہوگئیں۔ مولانا فخر الحسن (تقریباً ۱۳۰۳ھ، ۱۸۸۵ء میں) ترک وطن کرکے کانپور چلے گئے تھے۔ تاحیات وہیں رہے، ایک رئیس کے طبیب خاص تھے، یہی ذریعہ معاش تھا، اسی ملازمت پر غالباً آخری ذی قعدہ یا شروع ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ (۱۸۹۸ء) میں کانپور میں وفات ہوئی۔ مزید معلومات کے لئے فخر العلماء (سوانح مولانا فخر الحسن) تالیف اشتیاق اظہر (کراچی:۱۹۹۱ء) یہ کتاب اگرچہ ذمہ دارانہ اور بہت مستند نہیں ہے مگر مولانا کے حالات پر اس کے علاوہ کوئی اور کتاب دستیاب نہیں، متفرق معلومات بکھری ہوئی ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو، رپورٹ مجلس مؤتمر الانصار مراد آباد۔
مولانا کی یہ خصوصیت اور امتیاز بھی ناقابل فراموش ہے کہ مجلس ندوة العلماء (جس نے بعد میں دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ بھی قائم کیا) کے محرک اول مولانا سید ظہور الاسلام فتح پوری (فتح پورہ ہنسوہ) نے جن علماء کو اپنی رفاقت کے لئے منتخب کیا اور جو ندوة العلماء کی تحریک وتاسیس میں پیش پیش اور سرفہرست رہے ،ان میں ایک ابتدائی اور بہت نمایاں نام مولانا فخر الحسن گنگوہی کا بھی ہے۔ مزید معلومات کے لئے: الف: ندوة العلماء بانی اور محرک، تالیف ڈاکٹر محمد اسماعیل آزاد۔ (فتح پورہ ہنسوہ:۱۹۹۶ء) ب: مولانا سید ظہور الاسلام فتح پوری (حیات وخدمات) تالیف مولانا عبد الوحید صدیقی فتح پوری (فتح پور)
۱۱- مولانا سید احمد حسن بن سید اکبر امروہوی، شاہ بان امروہوی کی اولاد میں تھے، ابتدائی تعلیم وطن کے متعدد علماء سے حاصل کی، طب پڑھی اور اس کے بعد حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی سے تعلیم واستفادہ کے لئے میرٹھ حاضر ہوئے،آخر میں مدرسہ دیوبند میں بھی پڑھا، ۱۲۹۰ھ میں دستار فضیلت حاصل ہوئی، شاہ عبد الغنی مجددی اور قاری عبد الرحمن پانی پتی سے بھی سند حدیث حاصل کی۔مراد آباد، خورجہ، امروہہ وغیرہ میں اعلیٰ مدرس رہے،متعدد تالیفات مجموعہ، فتاویٰ ،مجموعہ مکتوبات ،مختلف مناظروں کی روئیدادیں اور علمی افادات یادگار ہیں۔ طاعون میں مبتلا ہوکر ۲۹/ربیع الاول ۱۳۲۰ھ،۱۸/مارچ ۱۹۱۲ء کو وفات ہوئی۔ مکتوبات سید العلماء (مولانا احمد حسن امروہی) مرتبہ مولانا نسیم احمد امروہی (امروہہ بلاسنہ)
۱۲- مولانا عبد العدل خلف مولوی منشی عنایت علی ، پھلت ضلع مظفر نگر کے باشندے تھے۔ اپنے وطن میں اورمدرسہ عربیہ (دارالعلوم) دیوبند میں تعلیم حاصل کی، ۱۲۹۰ھ میں دارالعلوم میں ہدایہ، ملا جلال وغیرہ پڑھتے تھے (روئیداد ۱۲۹۰ھ ص:۳۴۔۳۶) حضرت مولانا محمد قاسم کے معتمد خدام اور شاگردوں میں سے تھے۔ حضرت مولانا کی وفات کے بعد حضرت کے مکتوبات اور علمی افادات کا ایک مجموعہ فیوض قاسمیہ کے نام سے مرتب کیا، یہ مجموعہ۱۳۰۳ھ میں مرتب ہوا اور اس کا پہلا حصہ مطیع ہاشمی میرٹھ سے پہلی مرتبہ ۱۳۰۴ھ میں چھپا، بعد میں اور مطابع نے بھی چھاپا (پیش نظر نسخہ مولانا محمد یحیٰ کاندھلوی تاجر کتب گنگوہ کا شائع کیا ہوا ہے) مولانا عبد العدل نے پہلی طباعت میں اس کے دوسرے حصہ کا بھی اشتہار دیا تھا، جس میں حضرت نانوتوی کی اکیس تحریروں اور خطوط کے شامل ہونے کی اطلاع تھی، مگر (غالباً) دوسرا حصہ شامل نہیں ہوا،ملاحظہ ہو: تذکرہ مولانا محمد احسن نانوتوی، ایوب قادری ص:۲۳۶) افسوس ہے کہ مولانا عبد العدل کے تفصیلی حالات اور سنہ وفات وغیرہ معلوم نہیں۔
۱۳- مولانا سید عبد الحق خلف نبی بخش بن امام بخش قصبہ پور قاضی ضلع مظفر نگر کے رہنے والے تھے، تقریباً ۱۲۵۸ھ۱۸۴۲ء میں ولادت ہوئی۔ دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی دنوں ۱۲۸۲ھ (۱۸۶۶ء) میں تعلیم کے لئے دیوبند آئے، شرح جامی سے اعلیٰ کتابوں تک تمام درسیات یہیں پڑھیں، ذوالقعدہ سنہ ۱۲۹۰ھ/۹/جنوری ۱۸۷۴ء کو مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں سند فضیلت سے نوازے گئے، جن لوگوں کو سند عطا کی گئی اور ان کے سالانہ امتحانات کے سوالات منتخب جوابات جلسے میں سنائے گئے، ان کی قابلیت کی تعریف کی گئی، ان میں سب سے پہلا نام مولانا عبد الحق کا ہے، مولانا عبدالحق کے اپنی جماعت کی سب کتابوں میں سب سے اعلیٰ نمبرات تھے (روئیداد مدرسہ عربیہ دیوبند: ۱۲۹۰ھ) تعلیم کے بعد ریاست رتلام میں ملازم ہوئے اور غالباً پوری زندگی اسی میں بسر فرمائی۔مولانا کی ایک مختصر تحریر جو مولانا اپنی دخنر سعدی خاتون کی شادی کے موقع پر محرم ۱۳۳۰ھ بطور نصیحت تحریر فرمائی تھی،بہترین جہیز کے نام سے باربارچھپی ہے اور بہشتی زیور میں بھی شامل ہے۔ ۸/صفر ۱۳۴۲ھ/۲۰ ستمبر ۱۹۲۳ء کو رتلام میں وفات ہوئی۔ قرار داد دارالعلوم دیوبند ۱۳۴۲ھ نیز تاریخ دارالعلوم، سید محبوب رضوی ص:۱۸۵ (اشاعت خاص ماہنامہ الرشید ساہی وال:۱۹۸۰ء)مولانا عبد الحق کو متعدد اکابر علماء (روئیداد مدرسہ دیوبند، مولانا محمد یعقوب نانوتوی اور مولانا تھانوی وغیرہ) نے صاحب پوری بھی لکھا ہے جو پور قاضی کا مخفف ہے، الگ سے کوئی اور نسبت نہیں۔ مولانا عبد الرؤف صاحب عالی جو مولانا عبد الحق کے نواسے اور مولانا عبد اللطیف صاحب پور قاضوی (ناظم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے صاحبزادے ہیں) کا قول ہے کہ ہماری طالب علمی کے زمانہ تک پور قاضی کے طلبہ کو صاحب پوری کہا جاتا تھا: یہاں یہ صراحت مفید ہوگی کہ بہترین جہیز کے نام سے اور بھی دو تین رسالے چھپے ہوئے ملتے ہیں، ہمارے نواح میں مولانا عاشق الٰہی میرٹھی کا رسالہ خاصا معروف ہے، وہ علیحدہ ہیں۔
۱۴- بنانی اور دسوقی، دونوں شیخ سعد الدین تفتازانی کی شہرہٴ آفاق تصنیف مختصر المعانی کے حاشیہ (بلکہ مفصل شرحیں) ہیں: الف: دسوقی- محمد بن احمد بن عرفہ دسوقی وفات ۱۲۳۰ھ (۱۸۱۵ء) (الاعلام ج:۶/ص:۱۷) ب: بنانی شیخ مصطفی بن محمد بن عبد الخالق بنانی (وفات بعد ۱۲۳۷ھ/۱۸۲۱ء کی تالیف ہے۔ (الاعلام خیر الدین زرکلی ج:۷/ص:۲۴۲ ) مصنف نے اس کو تجرید کے نام سے موسوم کیا تھا… مگر مصنف کی نسبت سے بنانی کے نام سے مشہور ہے، دو بڑی جلدوں میں چھپی ہے، دو حصوں پر مشتمل چار جلدوں میں ہے۔ دونوں کتابیں ایک ہی وقت لکھی گئیں، دسوقی شوال ۱۲۱۰ھ (اپریل ۱۷۹۶ء) میں مکمل ہوئی اور تجرید جمادی الثانیہ ۱۲۱۱ھ میں پایہٴ اختتام کو پہنچی۔
۱۵- حاشیہ مختصر المعانی، شیخ الہند کی مشہور تالیف ہے، عام طور پر تمام مدارس میں مختصر کا یہی نسخہ زیر استعمال ہے اور پڑھایا جاتا ہے جس پر شیخ الہند کا حاشیہ ہے، یہ حاشیہ مولوی عبد الاحد (مالک مطبع مجتبائی، دہلی) نے شیخ الہند سے لکھوایا تھا۔ مولوی عبد الاحد نے صراحت کی ہے کہ شیخ الہند نے پہلے مختصر المعانی کا تین مصری طباعتوں اور قلمی نسخوں سے مقابلہ کرکے تصحیح کی، پھر اس پر جامع اور اہم حاشیہ لکھا جو مختصر المعانی کے اکثر حواشی اور شروحات کا بہترین خلاصہ ہے اور مولوی عبد الاحد صاحب کے بقول، مختصر المعانی کی تمام شروح اور حواشی سے مستغنی کرنے والا ہے:

”حتی کانہ لاحقوائہ علی المطالب الفخیمة شرح جدید ومغن عن سائر الشروح والزبر القدیمة وناسخ للحواشی المعتبرة والتعلیقات الکریمة،،۔ (صفحہ آخر، مختصر المعانی مطبع مجتبائی دہلی۔ طبع اول ودوم)

اس حاشیہ کی یہ افادیت اور قدر ومنزلت صرف اس کے ناشر کا خیال نہیں بلکہ اہل نظر علماء بھی برسوں کے مطالعہ تلاش وجستجو اور مختصر معانی کے درجات کی تعلیم وتحقیق کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچے تھے کہ شیخ الہند کا یہ حاشیہ مختصر کی تمام شروحات کا مغز اور ایسا انتخاب ہے کہ اس سے بہتر دشوار ہے۔ مثلاً مولانا مناظر احسن گیلانی نے لکھا ہے:
”بعدکو جب دسوقی کے ساتھ ملاملا کر ان حواشی کے مطالعہ کا موقع ملا تب مولانا کی غیر معمولی انتخابی قوت کا اندازہ ہوا، گویا اس ضخیم ولحیم وشحیم شرح کی روح نکال کر مولانا نے رکھ دی تھی۔ ہزار ہاہزار صفحات کے پڑھنے سے بھی جو نتائج حاصل نہیں ہوسکتے’، وہ ان چند سطروں میں مل جاتے تھے، اور اس وقت معلوم ہوا کہ کمال صرف یہی نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی نئی بات پیش کی جائے، بلکہ دوسروں کے کلام سے چھلکوں کو اتار کر صرف مغز برآمد کر لینا اور جہاں ضرورت ہو ٹھیک اسی جگہ پر موقع کے ساتھ اس کو درج کرکے مشکلات کو حل کرتے چلے جانا بجائے خود ایک ایسا کمال ہے کہ اپنی طرف سے کچھ لکھ لکھا دینا تجربہ بتاتا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ،، احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن: ۳۷-۳۷۔اسی سلسلہ گفتگومیں یہ بھی تحریر ہے کہ:
”کوئی شبہ نہیں کہ مختصر المعانی پر مولانا مرحوم کا یہ حاشیہ ہے، جس نے طلباء ہی کونہیں بلکہ مدرسین کو بھی اس کتاب کی تمام شرحوں سے مستغنی کردیا ہے،،۔احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن ص:۳۷ (دیوبند بلاسنہ)
شیخ الہند کا حاشیہ مختصر المعانی پہلی مرتبہ مطبع مجتبائی دہلی سے شائع ہوا، ربیع الثانی ۱۳۲۵ھ/جون ۱۹۰۷ء میں اس کی طباعت مکمل ہوئی، دوسرا ایڈیشن ۱۳۳۳ھ (۱۹۱۵ء) میں چھپا، اس وقت سے ۱۹۴۷ء تک یہ حاشیہ مطبع مجتبائی سے برابر چھپتا رہا، بعد میں ہندو پاکستان کے متعدد تاجران کتب نے شائع کیا۔
۱۶- حضرت شاہ عبد العزیز کے عہد سے حاضر تک اکثر بڑے علماء بلکہ مشائخ کرام سے متعلق معلوم ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ شعراء اور منتخب اشعار کی بیاضیں (کاپیاں) رکھتے تھے، جس میں حکیم الامت تھانوی، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا اور مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہم اللہ جیسے اصحاب بھی شامل ہیں۔
۱۷- منشی ہر گوپال تفتہ، غالب کے مایہٴ ناز شاگرد اور ممتاز شاعر تھے۔ ہرگوپال تفتہ سکندر آباد ضلع بلند شہر کے باشندے، کائستھ خاندان کے رکن اور موتی لال کے بیٹے تھے۔ ۱۲۱۴ھ/۹۸-۱۷۹۹ء میں پیدا ہوئے، تعلیم کے بعد خاندانی معمول کے مطابق قانون گو رہے، غالب کو تفتہ نہایت عزیز تھے، غالب کے سب سے زیادہ خطوط تفتہ کے نام ہیں، تفتہ شروع میں رامی تخلص کرتے تھے، غالب کے شاگرد ہوئے تو غالب نے یہ تخلص بدل کر تفتہ کردیا تھا، غالب ان کو مرزا تفتہ کہتے تھے۔ تفتہ سخن شناسی میں بے نظیر تھے، عموماً فارسی میں کہتے تھے، تفتہ کا فارسی کلام اپنے ہم عصروں سے ممتاز اور طالب وکلیم کے پایہ کا ہے، فارسی کلام کے چار دیوان یادگار ہیں جس میں (اندازاً) بارہ تیرہ ہزار شعر ہیں۔تفتہ نے گلستان سعدی کی تضمین لکھی تھی اور بوستاں کے جواب میں سنبلتاں تحریر کی، تفتہ پندرہ رمضان ۱۲۹۶ھ/۲/ستمبر ۱۸۷۹ء کو سکندر آباد میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ مولوی مختار احمد تھانوی نے تاریخ وفات کہی:سال نقلش بادل زار از خرد من شنیدم بے سروپاشد سخن ۱-۱۲۰۶ ۱۲۹۶ھ مزید معلومات کے لئے تفتہ اور غالب مؤلف محمد ضیاء الدین انصاری۔ (دہلی:۱۹۸۴ء) نیز تلامذہ ٴ غالب مالک رام ص:۶۳-۶۶ (نکودر:طبع اول)
۱۸-بخاری کے تراجم ابواب کے ضمن میں قرآن شریف کی جو آیتوں سے پہلے اور بعد کی سب آیتیں حضرت شیخ الہند کو از بر یاد رہتی تھیں، جیساکہ مولانا مناظر احسن گیلانی نے لکھا ہے کہ ان آیتوں کا ضمناًذکر نہیں تھا بلکہ ان کے ذریعہ سے قرآن فہمی کی نئی راہیں بھی کھلتی تھیں۔ مولانا گیلانی کا مفصل اقتباس ملاحظہ ہو:
”اپنے تراجم میں امام بخاری کا یہ قاعدہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو حسب ضرورت شریک کرتے چلے گئے ہیں، اس بہانے سے ان قرآنی آیتوں کے نئے پہلوؤں کے جاننے ہی کا موقع نہیں ملتا تھا، بلکہ قرآن فہمی کی نئی راہیں بھی کھلتی تھیں اور میں کیا بتاؤں کہ ترمذی شریف کے درس کے بعد بخاری شریف کا درس جب شروع ہوا تو دل کے لئے بھی اور دماغ کے لئے بھی کیسی لذیذ خوراکیں ملنے لگیں، ایسی خوراکیں جو منطق کی کسی کتاب میں ملیں، نہ فلسفے میں، نہ ادب میں اور نہ کسی فن میں ملی تھیں۔ احاطہٴ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن ص:۵۶ (دیوبند بلاسنہ)،،
۱۹- ایک وضاحت نہایت ضروری ہے کہ شیخ الہند اگرچہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے شاگرد رشید، جان نثار، مخلص خادم، سفر وحضر کے رفیق، حضرت کے معتمد اور علمی جانشین تھے مگر حضرت مولانا نانوتوی سے مولانا کو اجازت بیعت حاصل نہیں۔ حضرت مولانا کا معمول تھا کہ مولانا کے جو شاگرد سیر سلوک مکمل کرلیتے تھے، یا جو مریدین یا مسترشدین اجازت کے اہل ہوجاتے تھے ان کو حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں بھیج دیتے تھے، اگر ضرورت سمجھتے تو حضرت حاجی صاحب ان کو اجازت دے دیتے تھے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے خود کسی کو خلافت عطا نہیں کی۔ حضرت حاجی امداد اللہ، مولانا محمد یعقوب نانوتوی اور حاجی رفیع الدین مہتمم اول دیوبند نے وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت مولانا نانوتوی نے کسی کو مجاز نہیں کیا۔حالات طیب مولانا محمد قاسم: از مولانا محمد یعقوب نانوتوی ص:۳۳ (طبع اول: بھاولپور ۱۲۹۷ھ اس لئے شیخ الہند بھی حضرت حاجی صاحب کے مجاز ہیں اور حضرت مولانا گنگوہیسے بھی اجازت بیعت حاصل ہے۔
(ماخوذ:از سہ ماہی احوال وآثار،ہند)

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں