اولاد کی تربیت کیسے کریں ؟….. رشحاتِ قلم مولانارعایت اللہ فاروقی صاحب

Oct
15

اولاد کی تربیت کیسے کریں … انکے ساتھ کیسا رویہ رکھا جائے …ِ؟ معروف کالم نگار مولانا رعایت اللہ فاروقی صاحب کے قلم سے… مولانا کے چار کالم یکجا ہیں پڑھیں اور مولانا رعایت اللہ فاروقی صاحب کو دعائیں دیں

تربیت اولاد
ـــــــــــ
بچوں پر کل محنت اٹھارہ سال کی ہے، وہ آپکی زبان سے زیادہ آپ کے اعمال سے اثر قبول کرتے ہیں، آپ انہیں کسی کام سے کتنا ہی کیوں نہ منع کر لیں اگر آپ خود اپنی اس نصیحت پر عمل کرنے والے نہیں تو آپ کا بچہ کبھی بھی اس سے باز نہیں آئیگا، اپنی والاد کے لئے آپ کو خود سولی چڑھنا پڑتا ہے، عام طور پر ماں شفیق ہوتی ہے، لیکن کچھ سخت گیر مائیں بھی ہوتی ہیں، اگر آپکی اہلیہ ایسی ہیں تو پھر آپ کو ہر حال میں نرم رہنا پڑیگا ورنہ اولاد باغی ہو جاتی ہے، گھر سے بھاگنے والے بچے ایسے ہی والدین کے ہوتے ہیں، اگر دونوں گرم مزاج ہوں تو اولاد باغی ہوجاتی ہے اور دونوں نرم مزاج ہوں تو اولاد سر چڑھ جاتی ہے، توازن ہر حال میں لازم ہے، بچے کے اوقات مقرر کردیں اور اس ٹائم ٹیبل سے اسے کسی صورت نہ ہلنے دیں، میرے بچوں پر اٹھارہ سال کی عمر تک یہ پابندی رہی کہ مغرب کی اذان ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ گھر میں داخل ہوچکے ہوتے تھے،( وقاص اب بھی اس پابندی سے گزر رہا ہے)وہ جانتے تھے کہ غلطی نظر انداز نہیں ہوتی سو ایسا کبھی نہ ہوا کہ مغرب کی اذان ختم ہو گئی ہو اور میرا بچہ گھر کے دروازے سے ایک قدم کے فاصلے پر بھی رہ گیا ہو، اپنے بچے کی کسی بھی غلطی پر یہ نہ سوچئے کہ “چلو خیرہے” آپکی یہ سوچ آپکے بچے کے لئے تباہ کن ہے، اسے اس کی ہر غلطی پر رد عمل ملنا چاہئے چاہے آپکی سرد نگاہوں کا ہی کیوں نہ ہو، اگر ضرورت ہو تو بچے کو چھ ماہ میں ایک ہی بار ماریں اس سے زیادہ ہرگز نہیں، رات کا کھانا ہر حال میں پوری فیملی ساتھ کھائے، اسے فجر کی سنتوں کی طرح لازم سمجھ لیں، اپنے بچوں کے ساتھ گپ شپ لگایا کریں، جب آپ ایسا کرتے ہیں تو وہ اپنے خیالات اور احساسات آپ سے شیئر کرنے لگتے ہیں اور از خود آپ ہی کو اپنا مشیر اعلیٰ مقرر کر لیتے ہیں، خاص طور پر بارہ سے پندرہ سال تک کے تین سالوں میں انہیں اپنے بہت زیادہ قریب رکھیں، یہ وہ عمر ہے جب شعور ان میں بہت بڑی تبدیلی رونما کر رہا ہوتا ہے، ان پر رنگ و نور کی ایک نئی دنیا منکشف ہو رہی ہوتی ہے اس موقعے پر انہیں مضبوط رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، آپ بس انہیں اپنے قریب رکھیں، رہنمائی وہ خود مانگینگے۔ جب آپ اپنے بچے کی کوئی غلطی پکڑ لیں یا آپکو کوئی شبہ ہوجائے اور آپ اسے یہ کہیں کہ “سچ سچ بتاؤ !” تو پھر سچ بتانے کی صورت میں اسے ہرگز ہرگز نہ ماریئے، اسے یہ احساس کبھی بھی نہیں ملنا چاہئے کہ سچ مہنگا پڑتا ہے، اگر آپ بچوں کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ سچ کا نتیجہ سزا نہیں عافیت اور امن کی صورت ظاہر ہوتا ہے تو وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اگر سکول اور محلے سے آپکے بچوں کی شکایت نہیں آ رہی تو اللہ کا شکر اداء کیجئے کہ اسنے آپ کو صالح اولاد سے نوازا ہے، میں نے آج تک اپنی اولاد کے موبائل فون چیک نہیں کئے یہاں تک کہ خفیہ طور پر بھی نہیں، میرا احساس ہے کہ اگر میں نے ایسا کر دیا تو میرے اور انکے مابین قائم اعتماد کی پوری عمارت دھڑام سے گر جائیگی، اٹھارہ سال کی سخت محنت کے بعد انیسویں سال میں داخل ہوتے ہی انہیں کھلا چھوڑ دیجئے ، اب وہ نہیں بگڑیگا، جو مزاج آپ اسکا بنانا چاہتے تھے بن چکا ۔ یاد رکھئے اگر آپ کا بچہ ٹھیک نہیں ہے لوگ اس سے تکلیف میں ہیں تو قصور اسکا نہیں آپ کا ہے، سزا دینی ہے تو خود کو دیجئے۔

تربیت اولاد میں اللہ کی مدد
ـــــــــــــــــــــــ
دس گیارہ برس قبل کی بات ہے، میں صبح اٹھا تو گہری فکر مندی میں تھا، گھر والوں نے ناشتے پر سبب پوچھا تو میں نے کہدیا کہ صلاح الدین سیگریٹ پیتا ہے، آج جب وہ سکول سے آئے تو اس سے سب سے پہلے اقرار کرواؤ اور اقرار کا طریقہ بھی سمجھا دیا، ساتھ ہی کہدیا کہ اگر وہ اقرار کر لے تو میرے آنے پر اسے میرے پاس معذرت کے لئے بھیجدو، گھر والی کو یقین ہی نہ آیا اور اپنی جانب سے پیشگی اسکی صفائیاں دینی شروع کردیں کہ آپ سے کسی نے جھوٹ کہا ہے میرا چاند ایسا نہیں کر سکتا، میں نے کہدیا کہ مجھے جس نے بتایا ہے وہ جھوٹ کبھی نہیں بولتا۔ خیر میں شام کو گھر آیا تو صلاح الدین اعتراف گناہ کے لئے آیا، جب وہ کر چکا تو میں نے اسکے گال پر بوسہ دے کر کہا، بیٹا یہ کام کسی صورت آئندہ نہیں ہونا چاہئے، اسنے وعدہ کر لیا اور الحمدللہ اسے نبھایا بھی۔ جب یہ قضیہ نمٹ گیا تو اگلے روز مجھ سے گھر والی نے پوچھا، آپ کو بتایا کس نے تھا ؟۔ میں قرآن مجید کی آیت پڑھ دی “فلما نباها به قالت من انباک هذا قال نبانی العلیم الخبیر” (ترجمہ: جب اسے اسکی خبر دی گئی تو وہ بولی، آپکو کس نے اسکی خبر کردی، انہوں نے کہا، مجھے سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خبر رکھنے والے نے بتایا) گھر والی سمجھ نہ سکی تو میں نے کہا، میں نے خواب دیکھا کہ والد صاحب رحمہ اللہ سیگریٹ پی رہے ہیں۔ وہ حیران ہویں کہ والد صاحب کو پیتے دیکھا تو اس سے صلاح الدین کی سیگریٹ کہاں سے نکل آئی ؟ میں نے بتایا کہ بیٹا اگر باپ کو خواب میں دیکھ لے تو یہ اسکے لئے آئینہ ہے، میرے والد کا خواب میں سیگریٹ پینے کا مطلب یہ تھا کہ میں سیگریٹ پی رہا ہوں لیکن میں تو پیتا نہیں تو اسکا سیدھا سا مطلب تھا کہ جسکے لئے میں آئینہ ہوں وہ پیتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب آپ اپنی اولاد کی تربیت میں پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں تو پھر اللہ بھی آپ کا مدد گار بن جاتا ہے، اور آپکا بچہ کسی انتہائی خفیہ جگہ بیٹھ کر مکمل تنہائی میں بھی کوئی غلطی کرتا ہے تو خود اللہ اسکے خلاف آپ کا مخبر بن جاتا ہے۔

بچوں کو اعتماد دیجئے
ــــــــــــــــ
میرے بچوں میں صلاح الدین نرم مزاج جبکہ طارق سخت گیر ہے، طارق شائد آٹھ سال کا تھا جب ایک روز میں محلے کی دکان سے کچھ خریدنے گیا تو دکاندار نے مجھ سے کہا، آپ کا دوسرے نمبر والا بیٹا بہت خطرناک ہے، ساتھ ہی مسکرا بھی رہا تھا جسکا مطلب تھا کہ کوئی سیریس مسئلہ نہیں، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ کل میری دکان پر وہ بچوں والا کیک لینے آیا، تمام کیک ٹٹول ٹٹول کر دیکھے اور کہنے لگا، سب باسی ہیں آپ تازہ مال کیوں نہیں لاتے ؟ میں نے کہدیا کہ ایک تھپڑ لگاؤنگا تو سارے کیک تازہ نظر آنے لگینگے، اسنے آگے سے کہا، اگر تھپڑ کا نتیجہ بھگت سکتے ہو تو مار کے دیکھ لو، میں نے پوچھا، کیا کر لوگے تم ؟ تو باہر راستے میں پڑے پتھروں کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا، تھپڑ کا جواب پتھر سے دونگا اور شوکیس ایک بھی نہیں بچے گا۔ جب یہ طارق بڑا ہوا تو گھر کا سودا سلف لانے کی ذمداری اسی پر ڈالدی گئی، جس سے یہ بہت تنگ تھا اور ہر بار یہ اچھا خاصا فساد مچا دیتا تھا کہ آپ لوگ بھائی جان کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ اب بھائی جان میں مسئلہ یہ تھا کہ اسے دکاندار غلط چیز بھی پکڑا دیتا تو وہ چپ کر کے لے آتا، ایک دن طارق سے اسکی والدہ نے کچھ منگوانا چاہا تو وہ بگڑ گیا کہ میں نے نہیں لانا، ماں نے کرارا تھپڑ رسید کیا تو گویا جلتی پر تیل ہو گیا، طارق یہ کہتے ہوئے گھر سے نکل گیا کہ “میں جا رہا ہوں یہ گھر چھوڑ کر” کوئی دس پندرہ منٹ بعد میں گھر پہنچا تو واقعہ بتا کر کہا گیا کہ جلدی جایئے بچے کو ڈھونڈ لایئے، میں نے اسے کال کی جو اسنے پک کر لی، عرض کیا ، بیٹا ایسا ہے کہ جب تم یہ گھر چھوڑ کر جا ہی رہے ہو تو موبائل تو چھوڑتے جاؤ تاکہ مستقبل میں وقاص کے کام آسکے، دوسری بات یہ کہ جب تم ہمارے گھر آئے تھے تو ننگے آئے تھے،جانا ہے تو جیسے آئے تھے ویسے ہی جاؤ۔ یہ کہہ کر فون بند کردیا، دس منٹ بعد طارق صاحب دانت نکالتے ہوئے گھر آ گئے، اگلے دن میں نے بٹھا کر اسے تفصیل سے سمجھایا کہ ہر شخص کی اپنی صلاحتیں ہوتی ہیں جن کے مطابق اسے ذمداریاں تفویض ہوتی ہیں، ہم تم سے سامان منگواتے ہیں تو یہ کوئی مزدوری نہیں بلکہ تمہاری صلاحیتوں کا اعتراف ہے، سودا سلف لانا بڑی ذمداری والا کام ہے یہ تو لوگ ملازم سے بھی کرواتے ہوئے دس دفعہ سوچتے ہیں، جو کام تم کر رہے ہو یہ ایک اہم ذمداری ہے جو کسی اہم اور با اعتماد شخص کو ہی تفویض ہو سکتی ہے، اگر تم نہیں کرنا چاہتے تو میں خود کر لیا کرونگا ، تم سے قبل بھی میں ہی کرتا رہا ہوں لیکن آگے چلکر زندگی میں بڑی ذمداریاں بھی تمہیں نہیں دے پاؤنگا کیونکہ اعتماد ہی ختم ہو جائیگا، چودہ سال کے طارق کو یہ بات سمجھ آگئی اور آج بھی ہمارے گھر کا سودا سلف لانا اسکی ذمداری ہے، کبھی بھی یہ نہیں کہتا کہ بھائی جان سے کہدیں یا وقاص سے کہدیں۔ عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ بچے کو مزدوری کا احساس نہ ہونے دیں بلکہ اسے یہ احساس دلایئے کہ جو کام وہ کر رہا ہے وہ ایک اہم ذمداری ہے جسکے لئے بس اسی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

بچہ تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہا ؟
ــــــــــــــــــــــــــــ
دوستوں کو اولاد کے حوالے سے ایک خاص تحفہ دینے لگا ہوں، اسے غور سے سمجھ لیں، کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو کسی خاص حوالے سے والدین کے لئے درد سر بن جاتے ہیں، مثلاََ تعلیم میں بالکل دلچسپی نہ لینا، ایسے بچوں کے اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ جب وہ گہری نیند سو جائے تو آپ اسکے سرہانے بیٹھ یا لیٹ جایئے اور نہایت ہلکی سرگوشی میں اسے تلقین کیجئے کہ بیٹا تعلیم بہت فائدے کی چیز ہے تم پڑھا کرو، یہ سرگوشی اسکے شعور پر ہر گز نہیں پڑنی چاہئے، اگر آپکی سرگوشی سےوہ کسمسانے لگا ہے تو اسکا مطلب ہے اسکا شعور سن رہا ہے، آپ کا مخاطب اسکا شعور نہیں بلکہ لا شعور ہے، اور لا شعور کو مخاطب کرنے کی شعور کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہئے، یاد رکھئے انسانی شعور کا کمانڈر اسکا لا شعور ہے، اگر آپ اس کمانڈر کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو شعور کو وہ خود سنبھال لیگا، لاشعورکو قائل کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی صرف آگہی درکار ہوتی ہے، یہ عمل روز آدھا گھنٹہ کیجئے آپ چند دن میں بچے کو خود بخود تبدیل ہوتا دیکھینگے۔ ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکی سرگوشی شعور سن رہا ہے تو ساری محنت برباد ہو جائیگی، وہ اتنی ہلکی ہونی چاہئے کہ شعور نہ سن سکے، شعور جب کچھ سنتا ہے تو انسانی بدن میں حرکت کی صورت رد عمل ضرور ظاہر ہوتا ہے، اگر نصف گھنٹے کی اس کار روائی کے دوران بچہ چپ چاپ سو رہا ہے تو آپ کامیاب جا رہے ہیں لیکن اگر وہ ردعمل میں کروٹ بدل لیتا ہے یا اسکا ہاتھ کان کی طرف آجاتا ہے تو آپ غلط کر رہے ہیں، ہم نے شعور کو مکمل بے خبر رکھ کر لاشعور سے گفتگو کرنی ہے۔
نوٹ: باشرع دوست خیال رکھیں کہ انکی داڑھی بچے کے گال یا گردن وغیرہ سے ٹچ نہ ہو ورنہ وہ جاگ جائیگا

تبصرہ کریں

تبصرہ فرمائیں