موضوعات برائے زمرہ ‘حالاتِ حاضرہ’

بلیک واٹر دجال کا لشکر

Jun
20

بلیک واٹر دجال کا لشکر
(more…)

تبصرہ کریں

کڑوا سچ حامد میر کی خدمت میں

Jun
20

کڑوا سچ حامد میر کی خدمت میں (more…)

تبصرہ کریں

مولانا معراج الدین

May
22

مولانا معراج الدین
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سال دو ہزار دو کے بعد شروع ہونے والے شدت پسندی کے سیلاب نے بل آخر مولانا معراج الدین کی جان بھی لے لی۔ دھیمے لہجے کا یہ انسان حکومت، قبائلیوں اور طالبان کے درمیان اب تک ایک پل کا کام دے رہا تھا لیکن اس ریلے کے آگے زیادہ دیر نہ رک سکا۔
ان کے قتل نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ اس خطے میں فریقین کا اعتماد اور حمایت رکھنے والا کوئی بھی شخص محفوظ نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس خطے میں ایسی خطرناک سیاست کھیلی جا رہی ہے کہ ایک دن کا حامی اور ساتھی کیسے دوسرے روز یکایک دشمن میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ان سے سال دو ہزار پانچ کے بعد کئی مرتبہ وزیرستان اور اسلام آباد میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ جب بھی انٹرویو کے لیے تقاضہ کیا تو انہوں نے اکثر اوقات نہایت عاجزی سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ ان کا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا تھا۔ لیکن اتنی احتیاط کا حامل شخص بھی شاید کہیں نہ کہیں چُوک گیا۔
اڑتالیس سالہ مولانا سراج الدین کا تعلق محسود قبیلے کی ذیلی شاخ مچی خیل کے قریشیوں سے تھا۔ وہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ کے علاقے باروند کے شنکنڈی گاوں میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں ابتدائی تعلیم خیسورہ کے ہی ایک مقامی مدرسے میں حاصل کی اور بعد میں اعلی دینی تعلیم کے لیے خیرالمدارس ملتان چلے آئے۔
ان کا جعمیت علماء اسلام سے تعلق وہیں سے بتایا جاتا ہے کہ شروع ہوا۔ وہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کی پینتالیس رکنی مرکزی شوری کے رکن ہونے کے علاوہ قبائلی علاقوں کے لیے اس کے امیر بھی تھے۔ انہیں اس حساس خطے میں جے یو آئی کی قیادت سن دو ہزار چار سے سنبھالی ہوئی تھی۔
وہ پاکستان کے علاوہ افغانستان اور بھارت میں دیو بند کے دورے کر چکے تھے۔
انہوں نے حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان کئی امن معاہدوں تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق رہنما بیت اللہ محسود بھی انہیں علاقے کا منتخب نمائندہ ہونے کے ناطے اکثر حکومت سے مذاکرات کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ پاکستانی طالبان کے علاوہ وہ افغان طالبان سے بھی قریبی مراسم رکھتے تھے۔
جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں گزشتہ برس فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے وہ نقل مکانی کرکے گومل کے علاقے میں اپنے مکان میں رہائش پزیر تھے۔ انہوں نے پسماندگان میں چھ بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف محسود قبائل کے اندر کسی لشکر کی تشکیل کے مخالف تھے۔
ان کی ہلاکت کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے اور نہ کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔


تبصرہ کریں

بگیر راہِ حسین احمد !

May
18

بگیر راہِ حسین احمد ! (more…)

تبصرہ کریں