ذکراللہ

May
18

ذکراللہ

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے

“تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تَر رہا کرے “ (ترمذی)

اللہ کا ذکر ایسی آسان عبادت ہے کہ اسے انسان معمولی سی توجہ سے ہر وقت انجام دے سکتا ہے ۔ اور اس کے فضائل اور فوائد بے شمار ہیں ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید جا بجا اپنا ذکر کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ربانی ہے “ اے ایمان والوں! اللہ تعالی کا کثرت سے ذکر کرو “


ذکر کی کثرت سے اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے اور انسان کی روح کو غذا ملتی ہے ۔ جس سے اس میں بالیدگی اور قوت پیدا ہوتی ہے ۔روحانی قوت کے نتیجے سے نفس اور شیطان کا مقابلہ آسان ہو جاتا ہے،گناہوں سے بچنے میں سہولت ہوتی ہے۔ اور ہر ذکر کے ساتھ نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

تبصرہ کریں

دُعا

May
18

دُعا
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
“ جو شخص یہ چاہےکہ مصائب اور تنگیوں کے وقت اسکی دعائیں قبول ہوں تو اسے چاہیےکہ خوشحالی کے وقت کثرت سے دعا کرے۔ (ترمذی) “



“اگر جوتےکا تسمہ بھی ٹوٹ جاے تو اللہ سے مانگو“ (ترمذی)

اللہ تعالی کو بندوں کا دعا کرنا بہت پسند ہے ۔جتنی زیادہ دعا مانگی جاے اتنا ہی اللہ تعالی کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن۔کریم میں ارشاد۔ باری ہے “ مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا“ اس یقین کے ساتھ دعا مانگنی چاہے کہ وہ ضرور قبول ہو گی۔البتہ قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں۔ بعض اوقات وہی چیز جلد مل جاتی ہے اور بعض اوقات وہ چیز اللہ تعالی کے علم میں بندے کے لئے مناسب یا فائدہ مند نہیں ہوتی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ بہتر اور مفید چیز دنیا یا آخرت میں عطا فرما دیتے ہیں۔
ہر دعا کے تین فائدے ہیں ۔



1 دعا کی قبولیت سے مرادیں پوری ہوتی ہیں۔


2 ہر دعا پر ثواب مِلتا ہے ۔


3 دعا کی کثرت سے اللہ تعالی کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہوتا ہے ۔

دعا مانگنے کے کچھ آداب ہیں کہ قبلہ رُو ہاتھ اٹھاکر زبان سے دعا مانگی جائے اور پہلے حمد و ثناء اور درودشریف پڑھا جائے لیکن اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس کے بغیر بھی دعا کرنا جائز ہے۔اللہ تعالی نے دعا کو بہت آسان فرما دیاہے کہ تقریبا ہر وقت اور ہر جگہ مانگی جا سکتی ہے ۔ چلتے پھرتے، کام کرتے ہوئےبھی، اور اگر زبان سے نہ مانگ سکے تو دل ہی دل میں بھی دعا مانگی جا سکتی ہے
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے

“جو مسلمان بندہ اپنے کسی بھائی کے لیئےاسکی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتے اسکےحق میں یہ دعا کرتے ہیں کہ تم کو بھی ویسی ہی بھلائی ملے ۔“( صحیح مسلم )

جس طرح اپنی ذاتی حاجتوں کے لئے دعا مانگتےہیں ۔ اسی طرح اپنے عزیزو اقارب ، دوست احباب اور عام مسلمانوںکے لئےدعا مانگنا بھی بہت فضیلت کی چیز ہے ۔ اگر کسی مسلمان کے بارے میں علم ہو کہ وہ کسی مشکل میں مبتلا ہے تو اس کے حق میں دعا کرنی چاہیئے۔ اس سے دعا کا ثواب بھی ملتا ہے اور دوسروں کی خیر خواہی کی فضیلت بھی حاصل ہوتی ہے ۔

تبصرہ کریں

اچھی نیت

May
18

اچھی نیت
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے“


انسان کوئی بھی کام کرے اسوقت تک ثواب نہیں ملتا جب تک اس کی نیت درست نہ ہو مثلا روزی کمانا، تجارت ہو ملازمت ہو، صنعت و زراعت ہو کوئی بھی شعبہ ہو اگر اس میں اس کی نیت یہ ہو کہ میں گھر والوں کے حقوق پورے کر رہا ہوں جو اللہ تعالٰی نے میرے ذمے کیئے ہیں تو حلال روزی کمانے کی یہ ساری کاروائی اس کی عبادت شمار ہو گی اور ثواب بن جائے گی۔

تبصرہ کریں

بیان چناب نگر کانفرنس 2006 حضرت مولانا قاضی ارشد الحسینی صاحب

May
16

بیان چناب نگر کانفرنس 2006 حضرت مولانا قاضی ارشد الحسینی صاحب

تبصرہ کریں

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا

May
08

 
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
نام و نسب
ام کلثوم بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلمیہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تیسری صاحبزادی ہیں مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

عدل وانصاف کی اہمیت

May
08

صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ان سات اشخاص کا ذکر آیا ہے جو قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے، ان میں سرفہرست ”امام عادل،، کا نام آتا ہے،وہ حدیث درج ذیل ہے مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے آڈیو بیانات

May
08

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے آڈیو بیانات
Audio Bayanat of Molana Mufti Muhammad Taqi Usmani Sahib

  مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

وحدتِ اُ مّت

May
02

وحدتِ اُ مّت مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

آڈیو بیانات :: حضرت مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی صاحب

Mar
08

آڈیو بیانات :: حضرت مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی صاحب

تبصرہ کریں

عید میلاد النبی صلى الله عليه وسلم اور حقائق

Jan
08

چودہ سو برس سے زیادہ زمانہ گذرا کہ رب العالمین نے ظلمت کدہ عالم کو نور بخشنے والا وہ پیغمبر بھیجا جس کے ہاتھ میں سیادت رسل کا علم اور سرپرخاتمیت انبیاء کا تاج تھا۔ اللہ جل جلالہ نے اپنے پیغمبر کو ایسی شریعت کاملہ عطا فرمائی کہ اس کے بعد قیامت تک نوع انسانی کے لیے کسی مذہبی قانون اور نئی شریعت کی ضرورت درپیش نہ ہوگی۔ مزید پڑھیں… »

ایک تبصرہ