اُمّ المومنین حضرت امِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا

Feb
20

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا حضرت  ابو سفیان  رضی اللہ عنہ  کی بیٹی اور اسلام کے عظیم خلیفہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن تھیں ۔ مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

محاسنِ اسلام فروری 2011

Feb
17

خوشگوار اسلامی زندگی کا ضامن :فروری 2011 مزید پڑھیں… »

ایک تبصرہ

گستاخئی رسول کی سزا اور گستاخوں کا انجام

Feb
16

جناب نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وسلم کے فیصلے عمومی قوانین سے بڑھ کرہیں کہ شریعت کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ کی رسالت و نبوت پر ایمان اور آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح فرض ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنیٰ توہین بھی ایمان سے محرومی کا ذریعہ ہے اور ایسے مجرم کے لیے بڑی سے بڑی سزا بھی ناکافی ہے۔

مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

رحمتہ للعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کے تین حقوق

Feb
16

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی سیرت پر مختصرا  صرف تین حقوق  تحریر ہیں  مصنف مفتی محمد ولی زاری صاحب کے قلم سے مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

درس قران و حدیث کی 28 سالہ مفصل روداد

Feb
08

حضرت مولانا قاضی محمد زاہدالحسینی  رحمتہ اللہ علیہ (خلیفہ مجاز حضرت احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ ) نے واہ کینٹ میں  28 سال مسلسل  درس قرآن و حدیث ارشاد فرمایا  یہ اسکی مفصل روداد ہے کہ کیسے یہ کام شروع ہوا اور کیسے پایہ تکمیل تک پہنچا محترم عثمان غنی ( رحمتہ اللہ علیہ ) نے اسے مرتب فرمایا ہے   مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

انکارِ حدیث کیوں؟3

Jan
18

انکار حدیث کیوں؟  فقیہ العصر مولانا یوسف لدھیانوی شھید رحمتہ اللہ علیہ کی  ایک  نادر کتاب آخری حصہ پیش خدمت ہے مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

اکابر دیوبند کیا تھے؟

Jan
18

اکابر دیوبند کیا تھے؟ دوسری اور آخری قسط  مصنف  جسٹس مفتی تقی عثمانی  صاحب دامت برکاتھم

مزید پڑھیں… »

ایک تبصرہ

موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع !

Jan
10

موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع فقہ اسلامی میں ”سب و شتم“ سے کیا مراد ہے؟
عربی لغت میں”سب“ کا معنی یہ ہے کہ ”کسی چیز کے بارے میں ایسے کلمات کہے جائیں جن سے اس چیز میں عیب و نقص پیدا ہو سکے۔(مرقاة)ابن ِ تیمیہ فرماتے ہیں: ” جو کلامِ عرف میں نقص، عیب،طعن کے لیے بولی جاتی ہو، وہ ’سب و شتم ‘ ہے“۔ (الصارم المسلول، ص ۵۳۴)
معاملہ جب رحمتِ عالم ا کی شان اور ذاتِ مقدسہ کا ہو تو احتیاط و ادب کا لازم ہونا کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور نبوت سے اختلاف بھی اباحت ِ دم کے زمرے میں آتا ہے، چہ جائیکہ آپ ا کی مخالفت اور مذمت کی جائے۔ علامہ ابنِ تیمیہ اس سلسلہ میں یوں رقم طراز ہیں: ” اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ اس کے محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے اعراض کرنے کی وجہ سے (جبکہ وہ معاہد نہ ہو) اس کا خون مباح ہو جاتا ہے اور ان حقوقِ واجبہ سے روگردانی کرنے کی بنا پر اس کو سزا دینا روا ہو جاتا ہے۔ یہ صور تحال محض اسے اس لیے پیش آتی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز و احترام سے صرف سکوت اختیار کیا، لیکن جب اس کے عین برعکس وہ آپ ا کی مذمت کرتا ،گالی دیتا اور توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی سزا اباحت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کہ سزا کا تعین جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔“ (الصارم المسلول، ص۵۹۳، اردو ترجمہ )
مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

محاسنِ اسلام دسمبر 2010

Dec
24

خوشگوار اسلامی زندگی کا ضامن :دسمبر 2010 مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں

انکارِ حدیث کیوں؟ (۲)

Dec
24

 (۲) مرتبہ حدیث خود صاحب حدیث کی نظر میں

”حدیث نبوی …. حجت ہے یا نہیں؟“ اس نزاع کا جو فیصلہ قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ مختلف عنوانات کے تحت آپ کے سامنے آچکا ہے، آئیے اب یہ دیکھیں کہ خود صاحب حدیث صلى الله عليه وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ اور اپنے ارشادات طیبہ کے حجت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا ہے؟

یہ تو ظاہر ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی ذات گرامی امت کے تمام نزاعی امور کا فیصلہ کرنے کے لئے آخری عدالت ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے ہر فیصلہ پر دل وجان سے راضی ہوجانا معیار ایمان ہے، اور قرآن کریم کا حلفیہ بیان ہے کہ جو لوگ آپ صلى الله عليه وسلم کے فیصلہ پر راضی نہ ہوں اوراس کے لئے سر تسلیم خم نہ کریں وہ ایمان سے محروم ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے۔

فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُوٴْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِی اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا. (النساء، آیت۶۵)

ترجمہ: ”سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں، اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے، پھرنہ پاویں اپنے دل میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔“

  مزید پڑھیں… »

تبصرہ کریں